ایما ریڈوکانو کا برطانیہ کی یو ایس اوپن چمیئن بننے تک کا سفر

17 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایما ریڈوکانو کو جب اپنے مستقبل کے بارے میں ایک بڑا فیصلہ کرنا پڑا تب وہ شاید ایک ٹین ایجر بھی نہیں تھیں۔ یہ وہ انتخاب تھا جو انھوں نے پس و پیش کے ساتھ کیا۔

ان کے والدین نے ان کی مختلف طرح کے کھیلوں مثلاً گھڑ سواری، تیراکی اور باسکٹ بال میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی تھی مگر انھیں بالخصوص موٹو کراس میں زیادہ دلچسپی تھی۔

انھوں نے رواں ہفتے ایمازون پرائم کو بتایا کہ ’جب میں چھوٹی تھی، آٹھ سال کے قریب، تو ایک یا دو سال تک گو کارٹس کی ریسنگ کی اور پھر 10 سال کی عمر میں میں موٹوکراس میں چلی گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اب بھی موٹرسپورٹس بہت پسند ہیں لیکن جیسے جیسے میرا ٹینس کریئر آگے بڑھ رہا ہے، تو میں اسے ساتھ نہیں لے کر چل سکتی۔ اور میرا ٹینس کریئر اچھا چل رہا ہے۔‘

اور ’اچھا چلنا‘ شاید ان کی کامیابی کی عکاسی پوری طرح نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے بعد پانچ سال سے بھی کم عرصے میں یہ 18 سالہ کھلاڑی گرینڈ سلیم فائنل میں پہنچ چکی ہیں۔

ریڈوکانو انتہائی باوقار انداز میں اپنے ہنر کا مظاہرہ کرتی ہیں جبکہ ان کی پرجوش طبعیت کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں پرستاروں کی پسند ہیں۔

جولائی میں وہ ومبلڈن میں چوتھے راؤنڈ میں پہنچیں جس کے بعد اپنے چوتھے ٹور لیول ایونٹ میں ہی وہ یو ایس اوپن کی فاتح بن گئیں۔

برطانیہ کے سابق عالمی نمبر ایک اینڈی مرے کا کہنا ہے ’ان کا انداز بہت اچھا ہے، وہ ہوشیار ہیں اور بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ صحیح راستے پر چلتی رہیں گی۔‘

کھیل میں نکھار ان کے والدین لے کر آئے

ریڈوکانو کے عروج میں ان کی چینی والدہ رینی اور رومانیہ سے تعلق رکھنے والے والد ایان کا بہت کردار ہے۔ جو دونوں فنانس کے شعبے میں کام کرتے ہیں اور کینیڈا سے لندن چلے گئے۔ اس وقت ان کی ٹورنٹو میں پیدا ہونے والی یہ بیٹی صرف دو برس کی تھی۔

پانچ سال کی عمر میں پہلی مرتبہ ٹینس ریکٹ تھامنے کے بعد ریڈوکانو نے بروملے ٹینس اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی۔ ان کی صلاحیت کو لان ٹینس ایسوسی ایشن نے پہلے دیکھا۔

گورننگ باڈی نے چھوٹی عمر سے ہی ریڈوکانو کو اپنے زیر سایہ کر لیا، اس نوجوان کھلاڑی نے کیمپوں اور بیرون ملک دوروں میں حصہ لیا۔

اگرچہ یہ مدد اہم تھی لیکن جس طرح ریڈوکانو کورٹ میں جمی رہتی ہیں ان کے والدین کا اثر بھی واضح طور نظر آتا ہے۔ انھوں نے رواں ہفتے کہا، ’مجھے لگتا ہے کہ سکون اور ذہنی طاقت یقینی طور پر میری پرورش میں شامل ہے۔‘

’مجھے لگتا ہے کہ میرے والدین نے بہت چھوٹی عمر سے ہی مجھ میں کورٹ کے بارے میں مثبت رویہ اپنانے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔‘

’جب میں چھوٹی تھی، اگر میں کسی قسم کا برا رویہ اپناتی تو یقینی طور پر آگے نہیں بڑھتی۔ میں نے کم عمری میں ہی یہ سیکھ لیا تھا جو اب تک میرے ساتھ ہے۔’

نیو یارک میں ریڈوکانو کی حیرت انگیز کامیابیوں میں ایک کمزور پہلو بھی تھا۔۔ ان کے والدین ذاتی طور پر ان کا کوئی میچ دیکھنے نہیں آ سکے۔ اور نہ ہی وہ فائنل دیکھ پائے جس کی وجہ امریکہ جانے کے لیے سخت سفری پابندیاں تھیں۔

سمجھدار نوجوان پیشہ ور جس نے مشکل کریئر کا انتخاب کیا

اگرچہ انھیں طویل عرصے سے برطانوی ٹینس کے لوگوں کی طرف سے سٹارڈم کے اشارے ملتے رہے لیکن ریڈوکانو کو ومبلڈن کے لیے وائلڈ کارڈ دینے سے پہلے اعلیٰ سطح پر ٹیسٹ ہی نہیں کیا گیا تھا۔

دنیا میں 336 ویں نمبر آنے والی کھلاڑی نے صرف اپنے دوسرے ٹور لیول ایونٹ میں ہی اوپر کے 16 کھلاڑیوں میں اپنی جگہ بنا لی۔

لیکن پھر ایک پریشان کن لمحہ آیا۔ آل انگلینڈ کلب میں دو ٹاپ 50 کھلاڑیوں کو شکست دینے کے بعد انھیں چوتھے راؤنڈ کے میچ میں سانس لینے میں دشواری اور سر چکرانے کے باعث میچ چھوڑنا پڑا۔ وہ آسٹریلیا کے اجلا ٹوملانووچ کے خلاف 6-4 3-0 پر کھیل رہی تھیں۔

نیو یارک میں اپنے پہلے پریکٹس سیشن کے بعد بات کرتے ہوئے، ریڈوکانو نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا کہ ’کس طرح تجربے کی وجہ سے انھیں جسمانی بہتری حاصل ہوئی ہے۔‘

تقریبا تین ہفتے قبل انھوں نے کہا، ’میں نے ان دوسری لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ کام نہیں کیا جو دس سال سے دورے کر رہی ہیں۔’

‘پھر میں مسلسل دو ہفتوں تک جس شدت سے کھیل رہی تھی، یہ میرے لیے بالکل نئی چیز تھی۔’

سابق گرینڈ سلم چیمپیئنز مارٹینا ناوراٹیلوا اور ورجینیا ویڈ کا اندازہ ہے کہ اگر ریڈوکانو صحت مند رہتی ہیں تو وہ بہت سے گرینڈ سلایم ٹائٹل اپنے نام کریں گے۔

مارٹینا ناوراٹیلوا جو 18 میجر سنگل مقابلے جیت چکی ہیں کہتی ہیں جب آپ ایسا ٹیلنٹ دیکھتے ہیں تو اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ صرف ایک چیز جو انکار کر سکتی ہے وہ اس کا جسم ہے۔

ان کے کیریئر کے آغاز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ اپنی ابتدا میں ہی وہ بالکل تیار شدہ چیز کی مانند ہے۔ کھیل میں شائقین اور میڈیا والے مسلسل نئے ٹیلنٹ کے منتظر رہتے ہیں اور برطانوی ٹینس بھی طویل عرص سے ایک خاتون سٹار کے انتظار میں ہے۔

بات چیت کرنے والی، خوش مزاج ور بہت نرم گفتار ریڈوکانو سپاٹ لائٹ میں پرسکون دکھائی دیتی ہیں۔ جیسا کہ ان کے انٹرویوز سے بھی یہ ثابت ہوا ہے۔ اسی طرح ان کے اپنے مداحوں کے ساتھ نیویارک میں کامیابی کے بعد بات چیت کے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا لطف اندوز ہونا ان کے چہرے پر ہر اس سیلفی سے عیاں ہوتا ہے جس کے لیے ان سے پوز بنانے کے لیے کہا گیا۔

رواں ہفتے ان کا فوٹو شوٹ فیشن میگزین ووگ کے لیے لیا گیا اور نئے ناظرین تک پہنچایا گیا۔

میچ کے بعد ہنستے ہوئے اپنے والدین کو مِس نہ کرنے کے حوالے سے مزاحیہ انداز اپنانا کیونکہ ان کا یہ خواب تھا اپنے لڑکپن میں ہی کہ وہ ان کے بغیر نیو یارک آئیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کتنا مذاق کرتی ہیں اور ٹینس کورٹ سے باہر کتنی پرسکون دکھائی دیتی ہیں۔

لان ٹینس ایسوسی ایشن کی ایک عہدیدار نے ریڈوکانو کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیاں 18 برس کی عمر میں واقعی میچور ہوتی ہیں۔ وہ بہت سمارٹ ہے بہت اچھی سمجھ بوجھ والی اور وہ بہت اچھا بولتی ہے۔



Source link

Leave a Reply