ایوب آفریدی قلعہ: حاجی ایوب خان آفریدی کا لنڈی کوتل میں وہ محل نما گھر جہاں سی آئی اے کے اعلیٰ عہدیدار بھی مہمان بنے

  • محمد زبیر خان
  • صحافی

13 منٹ قبل

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے تاریخی سرحدی شہر لنڈی کوتل کے بازار سے چند کلومیٹر پہلے سو ایکٹر پر محیط ایک محل قومی شاہراہ سے ہی دکھائی دینے لگتا ہے۔

’ایوب آفریدی قلعہ‘ نامی یہ محل 1980 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ وہ وقت تھا جب سوویت یونین افغانستان میں جنگ لڑ رہی تھی۔

اس زمانے میں افغانوں کے متحارب گروپوں کے درمیان خانہ جنگی کے دوران اس گھر کی حیثیت جنگ کے بیس کیمپ جیسی تھی اور اس کو متنازعہ مگر افسانوی شہرت کے مالک حاجی ایوب خان آفریدی نے تعمیر کروایا تھا۔

حاجی ایوب آفریدی کے پوتے انجینیئر شاید خان آفریدی بتاتے ہیں کہ اس محل نما رہائش کی تعمیر میں چار برس لگے جس کے دوران کوئی چار سو مزدور اس پر دن، رات کام کرتے تھے۔

یہاں حجرے میں 80 کی دہائی میں جدید ترین خودکار دروازے، سونے کے برتن اور باتھ روم کا سامان اور فرنیچر وغیرہ بیرون ملک سے منگوایا گیا تھا۔

حاجی ایوب خان آفریدی کے تعمیرکردہ اس قلعہ نما محل میں کیا کیا سہولتیں ہیں اور اس کو کیوں اور کیسے تعمیر کیا گیا، اس پر آگے چل کر بات کرتے ہیں۔ پہلے یہ جائزہ لیتے ہیں کہ حاجی ایوب خان آفریدی کون تھے اور انھیں کیوں امریکہ اور پاکستان کی جیلوں میں رکھنے کے علاوہ ان کی جائیداد کو بھی ضبط کر لیا گیا تھا۔

حاجی ایوب خان آفریدی کون تھے؟

حاجی ایوب خان آفریدی انگریز دور میں لنڈی کوتل میں پیدا ہوئے تھے اور سنہ 2009 میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھے مگر ان کے قریبی ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ انتہائی ذھین اور کاروباری سوچ کے مالک تھے۔

لنڈی کوتل پاکستان اور افغانستان کے درمیاں تجارتی رابطوں کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جس کا حاجی ایوب خان آفریدی نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

ایوب آفریدی قلعہ

لنڈی کوتل کے زیادہ تر لوگ ٹرانسپورٹ کے شعبے سے منسلک ہیں۔ حاجی ایوب خان آفریدی نے بھی اپنی عملی زندگی کا آغاز ٹرانسپورٹ کے شعبے سے کیا تھا۔ یہ بین الاقوامی روٹ پر پاکستان اور افغانستان کے درمیاں تجارتی مال لاتے اور لے جاتے تھے۔

حاجی ایوب آفریدی افغانستان کے تقریباً ہر شہر اور علاقے سے واقفیت رکھتے تھے۔ ان کے تعلقات افغانستان کے تقریباً ہر شہر کے کاروباری لوگوں کے ساتھ تھے۔ افغانستان سے پاکستان آنے والے اکثر کاروباری لوگ ان کے مہمان بنا کرتے تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس دوران سوویت یونین افغان جنگ کا آغاز ہوا تو خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقہ جات افغانی مہاجرین کا پہلا ٹھکانہ قرار پائے تھے۔ امریکہ، یورپ اور پاکستان، سوویت یونین کے خلاف جنگ کرنے والے اور مجاہدین کہلانے والوں کے مددگار بن چکے تھے۔

حاجی ایوب خان آفریدی کے قریبی دوست اور ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ پہلے ہی افغانستان میں وسیع تعلقات رکھتے تھے۔ وہ ٹرانسپورٹ کے شعبے سے منسلک تھے جس وجہ سے سوویت یونین کے خلاف افغانی مجاہدین کی مدد کرنے والے امریکی سی آئی اے اور پاکستانی آئی ایس آئی نے ان کی مدد بھی حاصل کی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ اس دور کے اندر حاجی ایوب خان آفریدی افغانی مجاہدین کو اسلحہ اور ضرورت کا سامان پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ تھے۔ لنڈی کوتل میں ان کا گھر افغانی مجاہدین کا مہمان خانہ ہوا کرتا تھا۔

فوربز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس روٹ اور اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے حاجی ایوب آفریدی نے افغانستان سے ہیروین تیار کرنے والی فیکڑیاں قبائلی علاقہ جات میں منتقل کی تھیں۔ جس سے ان پر دولت کی بارش ہو گئی تاہم یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ سونے اور اسلحہ کے علاوہ کالا سونا، جسے نقلی ڈالر کہا جاتا ہے، کو بھی تیار کرتے تھے۔

سونے، اسلحہ اور جعلی ڈالر تیار کرنے کے حوالے سے ان پر کبھی کوئی مقدمات نہیں چلائے گے تھے۔

سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا اور پھر کئی ریاستوں میں بکھرنے کے بعد عالمی سطح پر حالات تبدیل ہوتے چلے گئے اور امریکہ کی اس خطے میں دلچسپی ختم ہو گئی۔

80 اور 90 کی دہائی میں بین الاقوامی میڈیا میں منشیات کی سمگلنگ کے حوالے سے کئی اطلاعات نشر ہوئیں۔

مغربی میڈیا حاجی ایوب خان آفریدی کو کولمبیا کے بین الاقوامی منشیات کے سمگلنگ کے بادشاہ کہلائے جانے والے پابلو ایمیلیو ایسکوبار سے تشبیہ دیتے رہے تھے۔ میڈیا ان کو سمگلنگ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ گردانتا تھا جن پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔

حاجی ایوب آفریدی
،تصویر کا کیپشن

حاجی ایوب خان آفریدی کی جانب سے خود کو ڈرامائی انداز میں امریکہ کے حوالے کرنے پر امریکی حکام بھی حیرت زدہ رہ گئے

1990 کے انتخابات میں وہ بھاری اکثریت سے اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر مسلم لیگ کی جانب سے ممبر قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے۔ انھیں پارلیمنٹ میں بہترین کردار ادا کرنے پر خصوصی سرٹیفکیٹ بھی دیا گیا تھا۔

اسی دوران سنہ 1994 میں بلیجیئم میں بہت بڑی مقدار میں منشیات پکڑی گئی۔ بلین ڈالرز کی اس منشیات کی کھپت نے ساری دنیا کو چونکا دیا تھا۔ منشیات کی اس کھپت کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ اس کو بلجیئم کے راستے یورپ اور امریکہ میں سمگل کیا جانا تھا۔

اس میں حاجی ایوب خان آفریدی کا نام لیا گیا۔ جس کے بعد بین الاقوامی اور ملکی سطح پر حاجی ایوب خان آفریدی زیر عتاب آنا شروع ہو گئے۔

امریکی احکام کو ڈرامائی گرفتاری

حاجی ایوب آفریدی کیس سے جڑے ایک ریٹائرڈ افسر کے مطابق افغانستان کے حالات تبدیل ہوئے تو امریکہ کو حاجی ایوب آفریدی کی کوئی ضرورت باقی نہ رہی۔ بلیجیئم میں پکڑی جانے والی منشیات کی کھیپ کے علاوہ امریکہ میں سمگل کی جانے والی منشیات کے حوالے سے بھی ان کا نام لیا جانے لگا۔

امریکہ اور یورپ نے حکومت پاکستان پر حاجی ایوب آفریدی کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ امریکہ نے ان کا نام مطلوب ملزماں کی فہرست میں بھی ڈال دیا اور پاکستانی حکام پر روزانہ دباؤ بڑھنے لگا۔

ان کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ اس دوران نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ حاجی ایوب خان آفریدی پر حکومت پاکستان اور پاکستان کے تحقیقاتی اداروں کی جانب سے بھی دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔

حاجی ایوب خان آفریدی نے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر رابطے قائم کیے تو انھیں بتایا گیا کہ امریکہ میں ان کی گرفتاری کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ گرفتاری نہ ہونے کی صورت میں انھیں مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس پر حاجی ایوب خان آفریدی نے ڈرامائی انداز میں کابل پہنچ کر خود کو امریکی احکام کے حوالے کر دیا تھا۔

حاجی ایوب خان آفریدی کی جانب سے خود کو اس انداز میں امریکی حکام کے حوالے کرنے پر امریکی حکام بھی حیرت زدہ رہ گئے۔

’ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔‘

حاجی ایوب آفریدی
،تصویر کا کیپشن

حاجی ایوب آفریدی تعلیم یافتہ نہیں تھے مگر ان کے قریبی ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ انتہائی ذھین اور کاروباری سوچ کے مالک تھے

امریکہ سے رہائی اور پاکستان میں گرفتاری

حاجی ایوب خان آفریدی 1995 سے لے کر 1999 تک امریکی جیل میں رہے۔ اس دوران حاجی ایوب خان آفریدی اپنے امریکی مددگار ساتھیوں کے ساتھ امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کرتے رہے۔ انھیں 1999 میں پچاس ہزار ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں نواز شریف کی حکومت تھی۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ حاجی ایوب خان آفریدی کو یہ کہہ کر رہا کر دیا جائے گا کہ ایک شخص پر ایک ہی الزام میں دو دفعہ مقدمات نہیں چل سکتے مگر نواز شریف کی حکومت جلد ہی ختم ہو گئی۔

حاجی ایوب خان آفریدی پر پاکستانی عدالتوں میں مقدمات چلتے رہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق انھیں سنہ 2001 میں رہا کیا گیا مگر اس دوران ملک میں موجود ان کی تمام جائیداد ماسوائے لنڈی کوتل میں موجود سو ایکٹر پر محیط محل کے، سب کچھ ضبط کر لیا گیا۔

ایوب آفریدی قلعہ

ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کا مہمان خانہ

ہم جب حاجی ایوب خان قلعے پہنچے تو وہاں پر چند لوگ اور بھی موجود تھے جو سو ایکٹر پر تعمیر یہ محل دیکھنے آئے تھے۔

ہمیں انجینیئر شاید خان آفریدی نے بتایا کہ روزانہ کئی لوگ اس گھر کو دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

ایوب آفریدی قلعہ

’ہم لوگ کوشش کرتے ہیں کہ آنے والے مہمانوں کو مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے مگر ہماری بھی مجبوریاں ہیں۔ ہم لوگ اپنی ملازمتیں اور کاروبار کر رہے ہیں۔ اتنے آنے والے مہمانوں کو سنبھالنا ہمارے لیے بھی مسئلہ بن جاتا ہے۔ کبھی ہم موجود ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب حاجی ایوب خان آفریدی حیات تھے تو اس وقت اس گھر میں کئی خدمت گار موجود ہوتے تھے۔

ایوب آفریدی قلعہ

حاجی ایوب خان آفریدی کی زندگی میں ہر وقت کئی کئی درجن مہمان حجرے میں موجود ہوتے تھے۔ جہاں پر ان مہمانوں کو کھانے پینے سمیت سونے کے لیے بھی مناسب جگہ دستیاب ہوتی تھی۔

حاجی ایوب خان آفریدی کے ایک قریبی ساتھی کے مطابق حاجی صاحب کی زندگی میں مرکزی حجرہ ہال جو کہ غیر ملکی مہمانوں کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، میں اعلیٰ امریکی عہدیدار بھی آیا کرتے تھے۔ ان میں غالبا سی آئی اے کے بڑے بڑے عہدیدار بھی شامل ہوتے تھے۔

’کئی مرتبہ مرکزی حجرہ ہال میں موجود ڈائنگ ٹیبل پر سی آئی اے کے عہدیداروں نے حاجی صاحب کے ساتھ کھانا کھایا تھا۔‘

ایوب آفریدی قلعہ

’مہمانوں میں گلبدین حکومت یار، انجینیئر ربانی، استاد سیاف، قاضی حسین احمد، نواز شریف اور نہ جانے کون کون لوگ شامل ہوتے تھے۔ اس دور کے کئی ایک افغانی مجاہدین رہنما، امریکی اور پاکستانی حکام افغانستان آتے جاتے، اس گھر میں قیام کرتے تھے۔

انجینیئر شائد خان آفریدی کا کہنا تھا کہ حال ہی میں قبائلی علاقوں کے دورے پر آئے ہوئے ملائیشیا کے سفارت کار نے بھی قلعے کا دورہ کیا تھا جبکہ موجود حکومت کے کچھ اعلیٰ عہدیدار بھی آئے تھے۔

ایوب آفریدی قلعہ

حاجی ایوب خان آفریدی قلعے میں کیا کیا ہے؟

حاجی ایوب خان آفریدی کے ایک نواسے مظہر خان آفریدی کے مطابق اس قلعے میں اب حاجی ایوب خان آفریدی کے بیٹوں اور پوتوں کی رہائش گاہیں ہیں مگر حجرے کو اس طرح رکھا گیا ہے جس طرح حاجی ایوب خان آفریدی کے زمانے میں تھا۔

عملاً یہ حجرہ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ جس میں ایک حصہ مقامی مہمانوں اور دوسرا حصہ باہر سے آنے والے مہمانوں کے لیے مختص ہے۔

ایوب آفریدی قلعہ

مظہر خان آفریدی نے ہمیں حجرے اور مرکزی حجرہ ہال کا دورہ کرواتے ہوئے بتایا کہ اس میں موجود تمام برتن، باتھ روم کا سامان اور دیواروں پر موجودہ لکڑی باہر سے منگوائی گئی تھی۔

’کراکری سونے سے تیارکی گئی تھی جو جرمنی سے منگوائی گئی تھی۔ اس ڈائنگ ہال میں باہر سے آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی کی جاتی ہے۔‘

ایوب آفریدی قلعہ

اس میں 80 کی دہائی میں آٹومیٹک دروازے نصب کیے گے تھے۔ جن میں سے کچھ اب خراب ہو چکے ہیں۔ مرکزی حجرہ ہال کے پاس بھی کئی کمرے میں موجود ہیں جہاں پر باہر سے آنے والے مہمانوں کے لیے رات کے وقت ٹھرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔

مجموعی طور پر اس حجرے میں بیک وقت کئی درجن افراد کی مہماں نوازی کے لیے وافر جگہ موجود ہے۔

اس حجرے کے ساتھ ہی ایک سوئمنگ پول بنایا گیا ہے، جو اب خالی ہے۔ لنڈی کوتل میں پانی ایک بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ حاجی ایوب خان آفریدی نے پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دو ٹیوب ویل بھی نصب کر رکھے تھے۔ اس دور میں ان ٹیوب ویلز اور بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے طاقتور جنریٹر بھی نصب تھے۔

ایوب آفریدی قلعہ

اب ان جنریٹیرز کی جگہ سولر پلانٹ نے حاصل کرلی ہے۔ جس سے حجرے کی پچھلی طرف کئی کنال پر واقع باغات کو بھی پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ یہاں پر مختلف باغات لگائے گئے ہیں، جن میں غیر ممالک سے منگوائے گے درخت اب تن آور بن چکے ہیں۔

باغات والی طرف سے اوپر پہاڑی پر حاجی ایوب خان آفریدی نے بیٹھنے کے لیے ایک جگہ بنوائی تھی، جہاں پر وہ عموماً مغرب کے بعد واک کرتے ہوئے جاتے تھے اور کچھ دیر بیٹھ کر واپس حجرے میں آ جایا کرتے تھے۔

اس عظیم الشان قلعہ کی پوری سیر کرنے کے لیے شاید ایک دن بھی کم ہے۔

ایوب آفریدی قلعہ

’ہم اتنے بھی برے نہیں‘

انجینئر شاہد خان آفریدی کہتے ہیں کہ حاجی صاحب کی وفات کے بعد ہم لوگ مشکلات کا شکار ہو گئے تھے۔

’ہم لوگوں نے اس قلعے کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔ ہمارے لیے اس کے انتظامات اور دیکھ بھال کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ حاجی صاحب کی جائیداد وغیرہ حکومت نے ضبط کر رکھی ہے، جس کے کیسز اس وقت بھی عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔

ان کا دعویٰ تھا کہ حاجی صاحب کے خلاف امریکہ سے لے کر پاکستان تک عدالتوں میں کوئی الزامات ثابت نہیں ہوئے ہیں، جس کے بعد جائیداد کو ضبط کرنا انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔

مظہر خان آفریدی کا کہنا تھا کہ حاجی صاحب کا امیج سیاسی اختلافات کے باعث غلط بنا کر پیش کیا گیا۔ جس کے نقصانات کا اب ہم لوگوں کو سامنا ہے۔

’میں کہتا ہوں ہمیں جس طرح پیش کیا گیا ہم اس طرح نہیں ہیں۔ ہم اتنے بھی برے نہیں ہیں جس طرح ہمیں پیش کیا گیا ہے۔‘



Source link

Leave a Reply