بال ٹھاکرے: ہندو توا ایجنڈے کی علمبردار ہونے کے باوجود شیوسینا پارٹی انڈیا میں مقبولیت کیوں نہ حاصل کر پائی؟

  • میوریش کننور
  • نمائندہ بی بی سی مراٹھی

56 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شیو سینا رہنما بالا صاحب ٹھاکرے

انڈیا کے معروف ہندو رہنما بال ٹھاکرے اور اُن کی پارٹی شیو سینا کی شناخت پورے ملک میں رہی ہے۔ ٹھاکرے اپنی واضح اور شدید ہندوتوا پر مبنی سیاست کے لیے مشہور رہے اور اُن کی زندگی میں اُن کی مقبولیت پورے ملک رہی۔

ایک وقت ایسا بھی تھا جب بال ٹھاکرے کے چاہنے والے انڈیا کی کئی ریاستوں میں موجود تھے۔ بال ٹھاکرے خود بھی مرکزی سیاست میں اہمیت اختیار کیے رکھنا چاہتے تھے لیکن اس سب کے باوجود اُن کی پارٹی صرف ایک ریاست یعنی مہاراشٹر سے باہر کوئی جگہ نہیں بنا سکی۔

اس وقت انڈیا کی پانچ ریاستوں میں انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اگلے ماہ اتر پردیش اور پنجاب سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات میں ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا اتر پردیش اور گوا میں مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ گوا میں شیوسینا نے این سی پی (نیشنلسٹ کانگریس پارٹی) کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔

بہرحال یہ جاننا دلچسپ ہے کہ حال ہی میں دادرا نگر حویلی سے لوک سبھا الیکشن جیتنے والی کالابائی دیلکر مہاراشٹر سے باہر منتخب ہونے والی شیوسینا کی پہلی رکن پارلیمنٹ ہیں۔ پارٹی لیڈر سنجے راوت بھی قومی سیاست میں پارٹی کے کردار کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ یعنی پارٹی ریاست سے باہر اپنی بنیاد بڑھانے کی کوشش کرتی نظر آرہی ہے۔

ایسے میں لوگ سوچ سکتے ہیں کہ بال ٹھاکرے کا کرشمہ پہلے مہاراشٹر کی سرحد سے باہر دوسری ریاستوں تک کیوں نہیں پہنچ سکا؟

شیو سینا رہنما بالا صاحب ٹھاکرے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شیو سینا رہنما بالا صاحب ٹھاکرے

ہندو اکثریتی ریاستوں میں کامیابی سے محروم

ایسا نہیں ہے کہ شیوسینا نے مہاراشٹر سے باہر قسمت آزمائی نہیں کی۔ شیو سینا پہلے ہی شمالی ہند اور ہندو اکثریتی ریاستوں دہلی، اتر پردیش، راجستھان اور گجرات میں الیکشن لڑ چکی ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی نے گوا اور کرناٹک کے بیلگام میں بھی قسمت آزمائی کی تھی اور اس پارٹی نے جموں و کشمیر اور مغربی بنگال میں بھی انتخابات کے میدان میں اتری۔

دراصل، شمالی انڈیا میں بال ٹھاکرے کے تئيں ہمیشہ ایک کشش رہی۔ آج بھی ان کے بہت سے مداح ان ریاستوں میں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شیوسینا نے بھی ان ریاستوں تک پہنچنے کی کوششیں کیں، لیکن ان ریاستوں میں نہ تو پارٹی کی تنظیم مضبوط ہو سکی اور نہ ہی اسے کبھی انتخابی کامیابی ملی۔

اس کی وجہ سے قومی اثر و رسوخ کے باوجود شیوسینا مہاراشٹر تک ہی سمٹی رہی۔

ویسے یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ مہاراشٹر سے باہر شیوسینا کے پہلے ایم ایل اے اتر پردیش سے منتخب ہوئے تھے۔

شیو سینا رہنما بالا صاحب ٹھاکرے اپنے بیٹے ادھو ٹھاکرے اور بھتیجے راج ٹھاکرے کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شیو سینا رہنما بالا صاحب ٹھاکرے اپنے بیٹے ادھو ٹھاکرے اور بھتیجے راج ٹھاکرے کے ساتھ

باہوبلی پون پانڈے شیوسینا کے ایم ایل اے

شیو سینا کو یہ کامیابی سنہ 1991 میں ملی، جب رام جنم بھومی اور بابری مسجد تنازع زوروں پر تھا۔ ایودھیا میں رام مندر کے معاملے پر پورے ملک میں ہندوتوا کی ہوا چل رہی تھی۔ اس وقت بال ٹھاکرے ہندوتوا کی سیاست کا ایک نمایاں چہرہ بن کر ابھرے تھے۔

اس پس منظر میں پون پانڈے اتر پردیش کے ایک ‘باہوبلی’، شیوسینا کے ٹکٹ پر 1991 کے اسمبلی انتخابات میں اکبر پور حلقہ سے منتخب ہوئے تھے۔ شیوسینا کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔

جب پون پانڈے ایم ایل اے بنے تو شیو سینا نے اتر پردیش میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ شیو سینا نے لکھنؤ، بلیا، وارانسی اور گورکھپور میں بلدیاتی انتخابات میں شرکت کی اور کئی جگہ جیت بھی حاصل کی۔ پون پانڈے اتر پردیش میں شیوسینا کا چہرہ بن گئے۔ لیکن یہ رجحان زیادہ دیر تک نہ چل سکا۔

پانڈے اگلا الیکشن ہار گئے۔ بعد میں جب بہوجن سماج پارٹی کی رہنما مایاوتی وزیر اعلیٰ بنیں تو انھوں نے اپنے سیاسی مخالفین ‘باہوبلی’ لیڈروں کے خلاف کارروائی شروع کی۔ اس مہم سے بچنے کے لیے پون پانڈے ممبئی پہنچ گئے۔

انھوں نے ممبئی میں سیاسی اثرو رسوخ قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن اس وقت شیو سینا کے شمالی ہند کے رہنما سنجے نروپم کی موجودگی کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ آخر کار پانڈے بی ایس پی میں شامل ہو گئے۔ بعد میں جب بھی شیو سینا نے اتر پردیش سے الیکشن لڑا تو انھیں کبھی کامیابی نہیں ملی۔

شیو سینا رہنما بالا صاحب ٹھاکرے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شیو سینا رہنما بالا صاحب ٹھاکرے

شیو سینا اور 90 کی دہائی

ایودھیا کی رام مندر تعمیر کی تحریک کے ماحول میں شیوسینا نے قومی سطح پر توسیع کے لیے اپنے دروازے کھول دیے تھے۔ ہندی بولنے والی ریاستوں میں ہندوتوا کی سیاست کا اثر دکھائی دے رہا تھا اور اسی وجہ سے شیوسینا کی شناخت بھی بن رہی تھی۔

رام جنم بھومی تحریک کے دوران بال ٹھاکرے کو لے کر پورے ملک میں تجسس تھا، یہ نوے کی دہائی کا دور تھا جب شیوسینا مہاراشٹر کے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

‘بال ٹھاکرے اینڈ دی رائز آف شیو سینا’ نامی کتاب کے مصنف اور صحافی ویبھو پورندرے کہتے ہیں: ‘شیو سینا کے بارے میں تجسس اس وقت بڑھا جب پاکستان میں لوگوں نے ‘ٹھاکرے-ٹھاکرے’ کرنا شروع کیا۔’

یہ وہ وقت تھا جب شیوسینا کی مراٹھی شناخت، جارحیت، راڑا کلچر یعنی غنڈہ گردی کا کلچر پورے ملک میں زیر بحث تھا۔ اس سے پہلے بھی شیو سینا ایمرجنسی کے دوران کمیونسٹ مخالف موقف اختیار کرنے پر سرخیوں میں آئی تھی۔

اس سب کے بعد بھی شیوسینا ایک علاقائی یا یوں کہہ لیں کہ مقامی طاقت تھی، جو ممبئی اور زیادہ سے زیادہ تھانے تک پہنچی تھی۔ لیکن 1985 کے بعد جب بال ٹھاکرے نے ہندوتوا، ایودھیا کے رام مندر کا مسئلہ اور ممبئی فسادات کا مسئلہ اٹھایا تو مہاراشٹر میں شیوسینا تیزی سے پروان چڑھی۔

یہ وہ وقت تھا جب بال ٹھاکرے شیوسینا کی قومی شناخت کی طرف راغب ہوئے۔ مثال کے طور پر اتر پردیش کے ایم ایل اے کو لیا جا سکتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بال ٹھاکرے کو اس وقت قومی سیاست میں اپنی ساکھ بنانے کی خواہش ضرور تھی۔

یہی وجہ ہے کہ شیوسینا نے کئی ریاستوں میں انتخابات میں حصہ لیا۔ بہرحال انتخابی نتائج نے شاید شیو سینا کو یہ احساس دلایا ہو گا کہ صرف مراٹھی کے نام پر وہ قومی سیاست میں ترقی نہیں کر سکتی، اس لیے انھوں نے سنہ 1993 میں ہندی زبان میں روزنامہ ‘دوپہر کا سامنا’ شروع کیا اور شمالی ہند کے لوگوں کی کانفرنس بلانا شروع کر دی۔

شیو سینا رہنما بالا صاحب ٹھاکرے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شیو سینا رہنما بالا صاحب ٹھاکرے

شیو سینا کو مقامی سطح پر بڑا چہرہ نہیں ملا

شیوسینا کو مہاراشٹر سے باہر کبھی دیرپا کامیابی نہیں ملی۔ دوسری ریاستوں میں تنظیم مستحکم نہیں رہی۔ چند انتخابات میں چند کامیابیوں کو چھوڑ کر مستقل کامیابی نہیں ملی۔ کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شیوسینا کی تمام پالیسیاں مہاراشٹر میں اقتدار حاصل کرنے کی تھیں اور جب انھیں مہاراشٹر میں اقتدار میں حصہ ملا تو پارٹی کافی حد تک مطمئن ہوگئی۔

اس وقت ان کی توجہ مہاراشٹر پر تھی اور ایک طرح سے شیو سینا نے قومی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کا موقع گنوا دیا۔ یہ پارٹی سنہ 1995 میں ریاست میں برسراقتدار آئی۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے بعد وہ ایک حکمت عملی بنا سکتی تھی اور مہاراشٹر سے باہر بھی پھیل سکتی تھی، لیکن پارٹی نے یہ حکمت عملی کبھی نہیں بنائی۔ پارٹی کے قائدین بھی ریاست کے اقتدار کو سنبھالنے میں مصروف رہے۔

ویبھو پورندرے کہتے ہیں: ‘پارٹی کا دوسری ریاستوں میں کوئی مقامی چہرہ نہیں تھا کیونکہ دوسری ریاستوں میں کسی بڑے چہرے کی پارٹی سے اس کی کوئی وابستگی نہیں تھی۔ یہ سچ ہے کہ پارٹی میں بال ٹھاکرے جیسا مضبوط شخص تھا، لیکن مختلف ریاستوں میں، ایک مقامی تنظیم بنانے کے لیے چہرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سنہ 1999 کے فیروز شاہ کوٹلہ کیس کے بعد انھیں دہلی میں جئے بھگوان گوئل کا چہرہ مل گیا۔ لیکن آگے کچھ نہیں ہوا۔

جن جئے بھگوان گوئل کا ذکر پورندرے کر رہے ہیں انھیں مہاراشٹر سے باہر سب سے مشہور شیوسینا کا رہنما کہا جا سکتا ہے، انھوں نے پارٹی کو دہلی میں منظم کیا جبکہ ان کا اپنا انداز بھی جارحانہ تھا۔

مہاراشٹر کی وزیر اعلی اور شیو سینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے بالا صاحب ٹھاکرے کے بیٹے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

مہاراشٹر کی وزیر اعلی اور شیو سینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے بالا صاحب ٹھاکرے کے بیٹے ہیں

شیوسینا صرف مہاراشٹر تک کیوں محدود رہی؟

جب بالا صاحب ٹھاکرے نے پاک بھارت کرکٹ میچوں کی اجازت نہ دینے کا موقف اختیار کیا تو گوئل اور شیوسینکوں نے دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ کی پچ کھود ڈالی۔ شیوسینا نے دہلی میں کئی جارحانہ تحریکیں بھی کیں۔ لیکن تنظیم مسلسل انتخابات جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

سنہ 1999 میں مہاراشٹر میں شیو سینا کے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد پارٹی کی توجہ دوبارہ مہاراشٹر پر مرکوز ہوگئی۔ یہاں اقتدار حاصل کرنے کی کوشش نے ان کے قومی ارادے کو ناکام بنا دیا۔

ویبھو پورندرے کہتے ہیں: ‘شیوسینا مہاراشٹر میں اقتدار سے باہر تھی، سیٹیں کم ہو گئی تھیں۔ وہ مسلسل 15 سال تک اقتدار سے باہر رہی۔ اس لیے بالاصاحب کی توجہ مہاراشٹر میں سیٹیں بڑھانے پر تھی۔ ان کی عمر بھی بڑھتی جا رہی تھی۔’

مہاراشٹر کے باہر دیگر ریاستوں میں شیوسینا کی توجہ مقامی چہروں کو ساتھ لینے پر بالکل نہیں تھی، اور اس کی مثال گجرات میں ملتی ہے۔ شنکر سنگھ واگھیلا نے غصے میں بھارتیہ جنتا پارٹی چھوڑ دی اور کہا جاتا ہے کہ وہ شیوسینا میں شامل ہونا چاہتے تھے۔

پورندرے کا کہنا ہے کہ ‘گجرات سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے اس بڑے لیڈر کا شیو سینا میں شامل ہونا بڑی بات ہوتی، لیکن بالاصاحب نے انھیں شیو سینا میں نہیں لیا۔ انھیں بتایا گیا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ پرانے تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن گجرات میں شیو سینا نے ایک موقع گنوا دیا۔

شیو سینا رہنما بالا صاحب ٹھاکرے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شیو سینا رہنما بالا صاحب ٹھاکرے

بال ٹھاکرے مہاراشٹر سے باہر نہیں آئے

شیوسینا کے مہاراشٹر سے باہر نہ پھیلنے کی ایک وجہ مقامی سطح پر لیڈروں کی کمی تھی، دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ بال ٹھاکرے خود کبھی بھی پارٹی کی توسیع کے لیے مہاراشٹر سے باہر نہیں گئے۔

وہ کبھی انتخابی مہم کے لیے باہر نہیں گئے۔ یہ اکثر سییورٹی وجوہات کی بنا پر ہوتا تھا۔ لیکن ان کے نکلنے سے پارٹی جو فائدہ ہو سکتا تھا وہ اس سے محروم رہی۔ سنہ 1999 میں ایک بار شیوسینکوں نے دہلی میں انھیں مبارکباد دینے کے لیے ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا، لیکن انھوں نے اپنی جگہ ادھو ٹھاکرے کو بھیج دیا تھا۔

ویبھو پورندرے بتاتے ہیں: ‘یہ ایک اہم حقیقت ہے کہ بالاصاحب نے خود مہاراشٹر نہیں چھوڑا۔ اس کا جو اثر ہو سکتا تھا وہ نہیں ہو سکا۔ یہ ان کی شہرت کا عروج تھا۔ ایک بار جب وہ وقت چلا جائے تو آپ زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن انھوں نے اپنی حکمت عملی کو پھیلانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ سکیورٹی وجوہات اور کچھ اور وجوہات ہوسکتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ باہر نہیں نکل سکے۔ یہ کہنا ضروری ہے کہ ان میں دور اندیشی کی کمی تھی۔’

بال ٹھاکرے اور پاکستانی کرکٹر جاوید میانداد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

بال ٹھاکرے اور پاکستانی کرکٹر جاوید میانداد

بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے بھی توسیع نہیں ہوئی؟

کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ شیوسینا، قومی سطح کی پارٹی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے بھی مہاراشٹر سے باہر نہیں پھیل سکی۔

درحقیقت شمالی ہند کے وہ علاقے جہاں بال ٹھاکرے کو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے تھے ، جہاں انھیں انتخابی کامیابی ملنے کا امکان تھا، وہ بی جے پی کے اہم انتخابی علاقے تھے۔

اس کا تذکرہ ادھو ٹھاکرے نے بال ٹھاکرے کی سالگرہ اور روزنامہ سامنا کے پروم پر کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ‘بابری مسجد کے انہدام کے وقت ہندوتوا کی سیاست کے بڑھنے کا دور تھا اور ہم مہاراشٹر میں رہ گئے، اگر ہم ہندوتوا کی سیاست کا بھرپور فائدہ اٹھاتے تو ہم دہلی میں ہوتے۔’

ان ریاستوں میں بی جے پی بھی ہندوتوا کے بل پر سیاست کر رہی تھی۔ اگر شیوسینا نے ان علاقوں میں توسیع کی کوشش کی ہوتی تو بی جے پی کے ساتھ تصادم ناگزیر تھا۔ یہ بھی ایک وجہ تھی جس کی وجہ سے شیوسینا نے خود کو مہاراشٹر تک محدود رکھا۔

ویبھو پورندرے نے اس پہلو پر لکھا: ‘یہ نہیں کہا جا سکتا کہ شیوسینا مہاراشٹر سے باہر بی جے پی کی وجہ سے نہیں پھیلی۔ وہ بھی اس وقت جب بی جے پی کی جڑیں بہت پرانی ہیں۔ بالاصاحب کے ذہن میں یہ خیال ضرور آیا ہوگا کہ بہت زیادہ باہر نہیں جائيں ورنہ بی جے پی کے ساتھ تعلقات خراب ہو جائيں گے۔ پرمود مہاجن اور ایل کے اڈوانی سے ان کے ذاتی تعلقات تھے۔’

لیکن فی الحال شیو سینا اور بی جے پی کے راستے الگ ہو چکے ہیں۔ شیوسینا اب کانگریس، این سی پی، ترنمول جیسے نئے اتحادیوں کے ساتھ قومی سطح پر سیاست میں حصہ لے رہی ہے۔

ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں شیوسینا بال ٹھاکرے کی فکر سے مختلف سیاست کرتی نظر آتی ہے۔ ایسے میں بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ادھو کی نئی شیوسینا مہاراشٹر سے باہر پھیلے گی اور قومی سیاست میں اپنا اثر چھوڑ پائے گی؟ ظاہر ہے اس کا جواب آنے والے وقت ہی دے گا۔



Source link