بجٹ میں الیکٹرک اور چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں چھوٹ: کیا تنخواہ دار طبقہ اب باآسانی گاڑی خرید پائے گا؟

  • عمر دراز ننگیانہ
  • بی بی سی اردو، لاہور

11 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہToyota Pakistan

پاکستان میں اگر چھوٹی سی بھی نئی گاڑی خریدنے نکلیں تو جیب میں کم از کم دس سے گیارہ لاکھ روپے تو ضرور ہونے چاہیں۔ متوسط طبقے کے کسی تنخواہ دار شخص کو اتنے پیسے جمع کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔

لاہور کی ارشہ میر نوکری پیشہ خاتوں ہیں اور تنخواہ میں سے پیسے بچا بچا کر دو سال قبل انھوں نے ایک سیکنڈ ہینڈ جاپانی گاڑی خریدی تھی۔ اس چھوٹی سی 660 سی سی گاڑی پر بھی ان کے گیارہ لاکھ روپے خرچ ہو گئے تھے۔

وہ چاہتی ہیں کہ چھوٹی ہی سہی، اب نئی گاڑی خریدیں لیکن اپنی پرانی گاڑی بیچ بھی دیں تو جس گاڑی کی انھیں ضرورت ہے وہ ان کی پہنچ میں نہیں۔

پاکستان میں مقامی طور پر 850 سی سی سے کم تین گاڑیاں بنتی ہیں کیونکہ یہ مقامی طور پر بن رہی تھیں تو توقع یہ تھی کہ یہ کم قیمت ہوں گی تاہم ارشہ میر بتاتی ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔

جاپان کی سوزوکی کمپنی کی آلٹو گاڑی اور دو پاکستانی کمپنیوں کی چینی ٹیکنالوجی پر تیار کی جانے والی پرنس پرل اور یونائیٹڈ براوو مقامی طور پر اسمبل یا تیار کی جاتی ہیں۔

سوزوکی آلٹو کی تین اقسام ہیں۔ ان میں فیچرز کا فرق ہے۔ بہت ہی بنیادی آلٹو وی ایکس 11 لاکھ 98 ہزار روپے کے لگ بھگ ہے۔ اس میں ائیر کنڈیشنر تک بھی موجود نہیں۔ اے سی کے ساتھ آلٹو وی ایکس آر ہے جس کی قیمت 14 لاکھ 33 ہزار روپے ہے۔

زیادہ فیچرز چاہیں تو آپ کو آلٹو وی ایکس ایل خریدنا پڑے گی جس کی قیمت 16 لاکھ 33 ہزار کے قریب ہے۔ یاد رہے یہ ایک چھوٹی 660 سی سی گاڑی ہے۔

گاڑیاں

سوزوکی کے بعد پرنس کی پرل کی قیمت 1149000 ہے جبکہ یونائیٹڈ براوو کی قیمت بھی لگ بھگ 1099000 ہے۔ ارشہ میر ان میں سے سوزوکی آلٹو وی ایکس آر لینا چاہتی ہیں تاہم ان کی جمع پونجھی انھیں اس کی اجازت نہیں دیتی۔

گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ حکومت کی طرف سے ان سے ٹیکس کی مد میں اس قدر زیادہ پیسے لے لیے جاتے ہیں کہ ان کے لیے سستی گاڑی تیار کرنا ممکن نہیں رہتا۔

حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں کوشش کی ہے کہ گاڑی ایک عام آدمی کی پہنچ میں لائی جائے اور اس کے لیے 850 سی سی سے کم انجن والی اور الیکٹرک یعنی بجلی سے چلنے والی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں بڑی چھوٹ دی گئی ہے۔

اس کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیاں سستی ہو جائیں گی۔ تو کیا ارشہ اور ان جیسے تنخواہ دار طبقے کے لوگ اب باآسانی گاڑی خرید پائیں گے۔ ارشہ تو سمجھتی ہیں کہ وہ اب بھی نہیں خرید پائیں گی مگر کیوں؟

اول اگر وہ الیکٹرک گاڑی کا آپشن دیکھتی ہیں تو پاکستان میں ایسی گاڑیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کوئی کمپنی مقامی طور پر تو ایسی کوئی گاڑی بنا ہی نہیں رہی۔

الیکٹرک گاڑیوں پر صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس ہو گا

وفاقی حکومت کے مشیرِ خزانہ شوکت ترین کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ ’الیکٹرک گاڑیاں پاکستان میں مقامی طور پر بنیں۔ اس لیے کپمنیوں کو ٹیکس کی مد میں بڑی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔‘

ایک تو مقامی طور پر اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کر کے محض ایک فیصد کر دی جائے گی۔ دوسرا الیکٹرک گاڑی درآمد کرنے پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس یعنی ویٹ کی چھوٹ دی جائے گی۔

الیکٹرک گاڑی مقامی طور پر تیار کرنے کے لیے سی کے ڈی کٹس کی درآمد پر بھی ویٹ کی چھوٹ ہو گی۔ ’سی کے ڈی‘ کٹس بنیادی طور پر گاڑی کے حصے اور پرزے ہوتے ہیں جو درآمد کر کے مقامی طور پر جوڑ کر وہ گاڑی تیار کی جاتی ہے۔

اس طرح جب پرزوں کی درآمد پر ویٹ نہیں دینا پڑے گا اور گاڑی تیار ہونے کے بعد بیچنے پر سیلز ٹیکس صرف ایک فیصد دینا ہو گا تو یقیناً اس گاڑی کی قیمت کم ہو گی۔

گاڑیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

دنیا میں الیکٹرک کار بنانے والی سب سے معروف کمپنی ٹیسلا کی ایس ماڈل کار

لیکن الیکٹرک گاڑیاں ہیں کہاں؟

پاکستان میں جو چند ایک الیکٹرک گاڑیاں موجود ہیں وہ صارفین نے خود سے درآمد کر رکھی ہیں۔ ملک کے اندر گاڑیاں بنانے والی کوئی کمپنی تاحال کوئی الیکٹرک گاڑی نہیں بنا رہی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا مقصد ہی یہی ہے کہ گاڑیاں بنانے والی کپمنیوں کو اس جانب راغب کیا جائے۔ اس لیے ارشہ میر الیکٹرک گاڑی نہیں خرید سکتیں اور نہ ہی آنے والے چند برسوں میں ایسا ہونے کی امید نظر آتی ہے۔

سنیل احمد گاڑیوں کی خرید و فروخت اور گاڑیوں کی صنعت کے حوالے سے خبروں کے لیے مقبول پاک ویلز نامی مقامی ویب سائٹ کے چیئرمین ہیں اور پاکستان میں گاڑیوں کی صنعت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی آمد یا مقامی طور پر ان کی تیاری میں مسئلہ ٹیکس مراعات سے زیادہ بڑا ہے۔

چارجنگ سٹیشن تو ہیں نہیں

سنیل احمد نے بتایا کہ پاکستان میں تاحال صرف چار چارجنگ سٹیشنز ہیں۔ ان میں سے دو لاہور، ایک کراچی اور ایک اسلام آباد میں موجود ہے یعنی ایسے مقامات جہاں سے آپ الیکٹرک گاڑی میں چارجنگ کر پائیں گے وہ پورے ملک میں صرف چار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ الیکٹرک گاڑی میں لاہور سے اسلام آباد تک راستے میں چارچنگ کیے بغیر نہیں پہنچ سکتے۔

’یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کے موبائل کی بیٹری ختم ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔ اگر راستے میں ختم ہو گئی تو آپ کیا کریں گے؟ اس لیے جب تک ملک میں چارجنگ سٹیشنز کا جال نہیں ہو گا اس وقت تک الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ نہیں ہو گی اور مانگ نہیں ہو گی تو کوئی کپمنی اس طرف سرمایہ کاری کیوں کرنا چاہے گی۔‘

گاڑیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سٹیشن بھی حکومت کو خود بنانا پڑیں گے

سنیل احمد کے مطابق چارجنگ سٹیشنز کا یہ نیٹ ورک بھی ابتدائی طور پر حکومت کو خود بنانا پڑے گا کیونکہ نجی شعبے کو ایسے سٹیشن لگانے میں زیادہ مالی فوائد نظر نہیں آتے۔

سنیل احمد کے خیال میں پاکستان میں اگر کوئی کپمنی الیکٹرک گاڑیوں پر سرمایہ کاری کرتی نظر آ رہی ہے تو وہ ایم جی ہے جو ایم جی زیڈ ایس نامی الیکٹرک گاڑی پاکستان میں متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یاد رہے کہ ایم جی ایک سابقہ برطانوی کپمنی تھی جو مکمل طور پر چینی کپمنی نے خرید لی تھی۔ حال ہی میں ایم جی ڈیلر شپ نے پاکستان میں چند گاڑیاں پاکستان میں متعارف کروائی ہیں جن میں زیادہ تر سپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز شامل ہیں۔

تاہم لاہور کی ارشہ منیر کے مطابق ’ایک تنخواہ دار شخص کے لیے پاکستان میں چاہتے ہوئے بھی ایسی گاڑیاں خریدنا بہت مشکل ہے۔‘

تو ارشہ 850 سی سی سے کم انجن کی گاڑی کیوں نہیں خرید لیتیں؟ بجٹ میں وفاقی حکومت نے ان گاڑیوں پر بھی ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔

850 سی سی گاڑیاں کتنی سستی ہو سکتی ہیں؟

حکومت کے مطابق ملک میں مقامی طور پر بننے والی 850 سی سی اور اس سے کم انجن کی گاڑیوں پر بھی ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے۔

نئے بجٹ میں حکومت نے ان گاڑیوں پر لاگو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں لیا جانے والا 2.5 فیصد ٹیکس ختم کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کر کے 12,5 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاک سوزوکی کے ترجمان شفیق احمد شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حکومت کی طرف سے اس طرح کے اقدامات صارفین اور صنعت کے لیے خوش آئیند ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ اس کے بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں کتنی کمی آئے گی کیونکہ ’اس کے تعین میں وقت درکار ہو گا۔‘

سنیل احمد کی ویب سائٹ پاک ویلز کے مطابق اس کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں مقامی طور پر بننے اور اسمبل ہونے والی اس انجن کی تین گاڑیوں سوزوکی آلٹو، پرنس پرل اور یونائیٹڈ براوو کی قیمتوں میں 75000 روپے سے لے کر 115000 روپے تک کمی آئے گی۔

گاڑیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا اس کمی سے ارشہ جیسے افراد کو فائدہ ہو گا؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ارشہ میر کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس کمی کے بعد بھی پاکستان میں تیار کی جانے والی چھوٹی گاڑی نہیں خرید سکیں گی۔

’ان تینوں میں سب سے بہتر میرے لیے آلٹو وی ایکس آر ہو گی جس میں کم از کم اے سی اور دوسرے فیچرز تو ہوں اور اس کی قیمت پھر بھی 14 لاکھ کے قریب ہو گی۔ میں اگر اپنی پرانی گاڑی بیچوں تو بھی میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہوں گے کہ میں یہ گاڑی خریدوں۔‘

ارشہ کے مطابق نئی گاڑی کی قیمیت گرنے سے ان کی پرانی گاڑی کی قیمت بھی تو گر جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آلٹو وی ایکس آر سے کم قیمت والی گاڑیوں کو وہ پائیدار اور محفوظ نہیں سمجھتیں۔

متوسط طبقے کے لیے گاڑی پرائز بانڈ کی طرح ہوتی ہے

پاک ویلز کے چیئرمین سنیل احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جن تین چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس میں چھوٹ دی جا رہی ہے ان میں ایک کمپنی تو سوزوکی ہے جو پاکستان میں دہائیوں سے موجود ہے۔ اس لیے اس کی گاڑیوں کی ری سیل ویلیو زیادہ ہے۔

’متوسط طبقے کے لیے گاڑی پرائز بانڈ کی طرح ہے جب دل کیا بیچ دی اور پیسے بھی کم نہ ہوں۔ اس لیے زیادہ تر لوگ کہتے ہیں کہ اگر زندگی بھر کی جمع پونجھی خرچ کر ہی رہے ہیں تو کسی ایسی گاڑی پر کریں جو کل کو آرام سے بک جائے۔‘

ان کے مطابق اس قسم کی گاڑی کی قیمت میں کوئی زیادہ کمی نہیں ہو پائے گی۔ ’صارف کو اتنا ہی ریلیف ملے گا جتنا اس بجٹ میں دیا جا رہا ہے لیکن گاڑی کی قیمت پھر بھی بڑھ سکتی ہے۔‘

پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں زیادہ کیوں ہیں؟

سنیل احمد کے مطابق اس کی دو وجوہات ہیں: ایک تو قیمتیں مقرر کرنے پر کوئی قید نہیں، دوسرا گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور صارف کے درمیان وہ ڈیلر ہے جو کمیشن بناتا ہے اور پریمیم کی مد میں پیسے کماتا ہے۔

’جب تک یہ دونوں چیزیں ہیں اس وقت تک پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں کو کم کرنا مشکل ہے۔ اب جیسے ہی ان گاڑیون کی قیمت کم ہو گی تو مانگ بڑھے گی، اس کے ساتھ ہی ڈیلیوری ٹائم بڑھ جائے گا اور پھر پریمیم کی مد میں گاڑی صارف کو مہنگی ملے گی۔‘

یہی وجہ ہے کہ ارشہ میر بجٹ میں دی جانے والی ٹیکس کی چھوٹ سے فوری طور پر زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں انھیں گاڑی تبدیل کرنے کے لیے مزید انتظار کرنا پڑے گا تاکہ جمع پونجی بڑھ سکے۔



Source link

Leave a Reply