بلوچستان اور سندھ کے درمیان مچھلی کے شکار پر تنازع، دو دن سے بند کراچی بندرگاہ کامیاب مذاکرات کے بعد کھول دی گئی

  • تنویر ملک
  • صحافی، کراچی
23 فروری 2022

اپ ڈیٹ کی گئی 7 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہTANVEER MALIK

ماہی گیروں کے احتجاج کے باعث منگل سے بند کراچی بندرگاہ بدھ کی رات حکومت اور ماہی گیروں کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد کھول دی گئی ہے۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چینل کھلنے کے بعد جہاز رانی کی سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں۔

کراچی بندرگاہ پر جہازوں کی آمد و رفت کی مرکزی گزر گاہ سندھ کے ماہی گیروں کے احتجاج کی وجہ سے منگل کے روز سے بند تھی جس کی وجہ سے ملک کی بیرونی تجارت معطل تھی۔

سندھ کے ماہی گیر یہ احتجاج بلوچستان کی سمندری حدود میں مچھلی کے شکار پر پابندی کے خلاف کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں سندھ سے بلوچستان کے سمندر میں جانے والی کئی لانچوں کو بھی بلوچستان کے محکمہ ماہی گیری نے قبضے میں بھی لیا ہے۔

پاکستان کی ساحلی پٹی صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان میں واقع ہے اور ساحلی بستیوں پر رہنے والے ماہی گیروں کی چھوٹی کشتیوں اور لانچوں کے ساتھ بڑے فشنگ ٹرالرز کے ذریعے بھی مچھلی اور دوسری سمندری حیات پکڑی جاتی ہے۔

ماہی گیروں کے احتجاج کے بعد حکومتی عہدیداروں نے ماہی گیروں کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات بھی کیے تاہم منگل کو مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا تھا۔

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے جہاز رانی و بندرگاہ محمود مولوی نے ٹوئٹر پر مذاکرات کی کامیابی کا اعلان کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ماہی گیروں کے جائز مطالبات حل کیے جائیں گے اور جلد بندر گاہ کا چینل کھول دیا جائے گا۔

سندھ کے ماہی گیروں کے احتجاج وجہ کیا ہے؟

سندھ کے ماہی گیروں کی جانب سے کراچی کی بندرگاہ کے مرکزی چینل پر کشتیاں اور لانچیں لا کر کھڑی کر دی گئی تھیں جس کی وجہ سے کراچی کی بندرگاہ میں بیرونِ ملک سے تجارتی سامان لانے اور لے جانے والے جہازوں کی آمد و رفت کا سلسلہ رک گیا تھا۔

ماہی گیروں کی نمائندہ تنظیم کے ایک عہدیدار علاؤالدین نے بتایا کہ احتجاج سندھ کے ماہی گیر بلوچستان کی سمندری حدود میں سندھ سے جانے والی ماہی گیروں کی کشتیوں اور لانچوں پر پابندی کے خلاف تھا۔

صوبہ بلوچستان کی جانب سے اپنی حدود میں 12 ناٹیکل میل کے اندر سندھ کی جانب سے آنے والی کشتیوں اور لانچوں پر مچھلی پکڑنے پر پابندی کی گئی ہے۔ علاؤالدین نے بتایا کہ جب بلوچستان سے سندھ کی حدود میں آنے والے ماہی گیروں پر کوئی پابندی نہیں ہے تو پھر یہاں سے بلوچستان کی جانب جانے والی کشتیوں اور لانچوں پر مچھلی پکڑنے پر پابندی ناانصافی ہے۔

علاؤالدین نے بتایا کہ بلوچستان کے محکمہ ماہی گیری نے سندھ سے جانے والی نو لانچوں کو قبضے میں لیا تھا جس میں سے تین کو چھوڑ دیا گیا اور چھ ابھی تک تحویل میں ہیں۔

بلوچستان میں شکار پر پابندی کیوں لگائی گئی؟

بلوچستان میں سندھ سے آنے والی لانچوں پر پابندی کے سلسلے میں نیشنل پارٹی کے ماہی گیر کے امور کے سیکریٹری آدم قادر بخش نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ سمندری حدود پر 12 ناٹیکل میل تک صوبے کا حق تو 1973 کے آئین میں دیا گیا ہے تاہم تین فروری کو بلوچستان حکومت نے گجہ اور وائر نیٹ جال کے ذریعے مچھلیاں پکڑے والی لانچوں پر پابندی عائد کر دی جس کے ذریعے مچھلی، اس کے بچے اور یہاں تک کہ انڈے تک پکڑ لیے جاتے ہیں۔

گوادر، ٹرالر، ماہی گیر

انھوں نے بتایا کہ بلوچستان کے ماہی گیر بڑے سوراخ والے نیٹ استعمال کرتے ہیں۔

’سندھ سے آنے والے ٹرالر اور لانچیں اگر تنگ سوراخ والے جال استعمال نہ کریں تو وہ آ سکتے ہیں تاہم حکومت بلوچستان نے کوسٹ گارڈ اور میری ٹائم سکیورٹی کو کہا کہ تنگ سوراخ والے جال استعمال کرنے والی لانچوں اور ٹرالر کو پکڑ لیں۔‘

بلوچستان کی جانب سے اپنی حدود میں سندھ سے آنے والی کشتیوں اور لانچوں پر مچھلی کے شکار پر پابندی کے بارے میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز میں بحری امور کے محقق نوفل شاہ رخ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اس پابندی کی ایک وجہ ہے اور بلوچستان کو پورا حق ہے کہ وہ 12 ناٹیکل میل تک دوسرے صوبے سے آنے والی لانچوں پر پابندی لگا دے۔

انھوں نے کہا بلوچستان کے ماہی گیر بنیادی طور پر چھوٹے ماہی گیر ہیں اور ان کی گزر اوقات اسی مچھلی پر ہوتی ہے۔

نوفل شاہ رخ بتاتے ہیں کہ سندھ سے بڑے فشنگ ٹرالر آتے ہیں اور ان کے پاس ایسے جال ہیں کہ وہ بہتر گہرائی تک مچھلی کے ساتھ ان کے بچوں اور انڈوں تک کو پکڑ لیتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان ٹرالرز نے سندھ کے سمندر کو تو خالی کر دیا ہے اور یہاں اب وہ مچھلی نہیں ملتی جو بلوچستان کے اندر موجود ہے جس کی وجہ سے وہ اس صوبے کا رخ کرتے ہیں۔

’بلوچستان کے ماہی گیروں کے لیے ضروری ہے کہ ان کی سمندری حدود کے اندر یہ ٹرالرز نہ آئیں ورنہ ان کا سمندر مچھلی کے ذخیرے سے آہستہ آہستہ خالی ہو جائے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس وقت سندھ میں جو طبقہ فشنگ ٹرالرز سے وابستہ ہے وہ یہاں کے مقامی نہیں ہیں بلکہ یہ دوسری قومیتوں کے لوگ ہیں جن ک پاس بڑے ٹرالرز ہیں، یہ سمندر کے اندر بہت گہرائی میں جا کر مچھلیوں، اُن کے بچے اور انڈوں تک کو نکال کر لے جاتے ہیں۔‘



Source link