بی-52: شبرغان میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملے کرنے والا امریکی بمبار طیارہ جو ویتنام کی جنگ سے تباہی پھیلاتا چلا آ رہا ہے

16 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہU.S. Air Force

،تصویر کا کیپشن

ویت نام کی جنگ میں اس طیارے کا بہت استعمال ہوا

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی جاری ہے اور افغان فوج کے ساتھ طالبان جنگجوؤں کی لڑائی اب بڑے شہروں میں بھی لڑی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ امریکہ نے ملک میں فضائی حملوں کے ذریعے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ نے بی-52 سٹریٹو فورٹرس (بی 52 بمبار) طیاروں کے ذریعے افغانستان کے کئی علاقوں میں بمباری کی ہے جنھیں قطر میں امریکی فوجی اڈے سے اڑایا جا رہا ہے۔

افغانستان میں بی 52 بمبار طیاروں کا دوبارہ استعمال یقیناً امریکی حکومت کی نئی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغان حکومت اور فوج کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔

ان فضائی حملوں کے پش منظر میں اس موضوع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں بات چیت ہو رہی ہے۔

بعض لوگ اس بمباری سے افغان شہریوں اور ان کی املاک کو پہنچنے والے نقصان پر شکایت کر رہے ہیں تو کچھ کے لیے یہ بالکل درست اقدام ہے جس سے افغان فوج کی پوزیشن مستحکم ہوگی۔

‘بیسویں صدی کا سب سے خطرناک بمبار طیارہ’

آٹھ انجن والے بی 52 کو بیسویں صدی کا سب سے زیادہ خطرناک بمبار طیارہ سمجھا جاتا ہے اور اسے امریکہ کی تین نسلوں نے اڑایا ہے۔

اس کی افادیت آج بھی اتنی ہی ہے جتنی چھ دہائیوں قبل اس کی پہلی اڑان میں تھی۔ ویت نام سے لے کر افغانستان تک ہونے والی جنگوں میں اس طیارے کا استعمال کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ 2044 تک یہ امریکی فضائیہ کے استعمال میں رہے گا۔

ڈیٹا پک

2018 میں بی 52 بمبار طیاروں کا دوبارہ استعمال شروع کیا گیا تھا ان کے ذریعے شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سنہ 2001 میں بھی بی 52 بمبار طیاروں کو افغانستان میں استعمال کیا گیا تھا جب امریکی فوج کا مقصد طالبان کی حکومت کو ختم کرنا اور پاکستان کی سرحد کے قریب تورہ بورہ کے پہاڑوں میں القاعدہ کے رہمنا اسامہ بن لادن کی پناہ گاہوں کو تباہ کرنا تھا۔

اس جہاز نے ویتنام جنگ، عراق کی دو جنگوں اور افغانستان کی حالیہ مہم میں حصہ لیا ہے۔

امریکی فضائیہ کے یہ طیارے کافی پرانے ہو گئے ہیں مگر آج بھی امریکہ نے کسی کو پیغام پہنچانا ہو تو بی 52 بمبار طیارے بھجوائے جاتے ہیں۔

بم برسانے والا بی 52 کب بنا اور یہ اتنا خاص کیوں؟

یہ طیارہ 1950 کی دہائی میں تیار کیا گیا تھا۔ 1962 میں ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا آخری بی 52 تیار کیا گیا اور اس نے امریکہ اور روس کے درمیان کیوبن میزائل بحران میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اڑان بھری۔

کرنل کیتھ شلٹز نے بی 52 بمبار طیارہ 30 سال تک اڑایا ہے اور ان کا کہنا ہے: ‘ہم جب اس جہاز پر ہتھیار لادتے ہیں تو دنیا اس کا نوٹس لیتی ہے۔ یہ جہاز میدان جنگ میں سب سے پہلے پہنچتا ہے۔ اس کا کام رکاوٹیں ہٹانا ہے تاکہ گیگر جہاز آ کر اپنا کام آسانی سے کر سکیں۔’

رکاوٹیں ہٹانے والا یہ بمبار طیارہ 159 فٹ لمبی، اس کے پر 185 فٹ کے ہیں اور اس میں پانچ افراد سوار ہوتے ہیں۔

کرنل شلٹز کا اس طیارے کی آواز کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ آواز ‘آزادی کی ہے۔’

B-52s

،تصویر کا ذریعہK.Schultz

بی 52 طیارہ 650 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 50 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہے جبکہ عام مسافر طیارہ 35 ہزار فٹ کی بلندی تک ہی جاتا ہے۔

بی 52 بمبار پر 70 ہزار پاؤنڈ وزنی ہتھیار لادے جاتے ہیں جن میں سینکڑوں روایتی ہتھیار اور 32 جوہری کروز میزائل شامل ہیں۔

اس میں فضا میں ایندھن بھرے جانے کی صلاحیت ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ دنیا میں کسی جگہ بھی کارروائی کے لیے جا سکتا ہے۔

عراق میں ہونے والے آپریشن ڈیزرٹ سٹورم میں حصہ لینے والے کرنل وارن وارڈ کا کہنا ہے کہ ‘اگرچہ یہ ایک بدشکل جہاز ہے لیکن یہ اپنا کام پورا کرتا ہے۔ دیگر جہاز بنائے گئے تاکہ بی 52 کی جگہ لی سکیں۔ بی ون بمبار آیا لیکن اس کی جگہ نہ لے سکا۔ پھر بی ٹو آیا اور وہ بھی کامیاب نہ ہوا۔’

1950 سے اب تک بی 52 کا بیرونی حصہ تھوڑا تبدیل ہوا ہے، اور اندرونی طور پر اس جہاز میں اب کمپیوٹر اور جی پی ایس نظام نصب کر دیا گیا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ اس جہاز کو صرف ایک مقصد ذہن میں رکھ کر تیار کیا گیا ہو کہ اس کام بموں کی بارش کرنا ہے۔ لیکن بعد میں اس جہاز میں تبدیلی کی گئی اور اب یہ جہاز ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس کیا جا سکتا ہے۔

جیسے جیسے ٹیکنالوجی میں جدت آتی گئی اسی طرح بی 52 میں بھی جدت لائی گئی۔ اس کے اوپر والے حصے میں عملے کا ایک اہلکار ریڈار جیمر آپریٹ کرتا ہے تاکہ طیارہ شکن میّائل اور جنگی طیاروں کو چکمہ دیا جا سکے۔

B-52 drops bombs on Vietnam

،تصویر کا ذریعہUSAF

کرنل وارن وارڈ کا کہنا ہے ‘یہ جہاز جتنا بڑا ہے اس لحاظ سے اس کے اندر عملے کے لیے خاص جگہ نہیں ہے۔ یہ طیارہ لوگوں کے لیے تیار نہیں بلکہ بمباری کے لیے تیار کیا گیا تھا۔’

کرنال وارڈ نے ایک بار یہ جہاز 47.2 گھنٹے تک اڑایا تھا۔ ‘ہم نے برکسڈیل سے مشرق کی جانب اڑان بھری اور دوبارہ برکسڈیل پر لینڈ کیا۔ یعنی تقریباً پوری دنیا کا سفر کیا۔’

ان کا کہنا ہے کہ اس جہاز میں آرام کا سوچنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ اس میں صرف سیڑھی پر سیدھا کھڑا ہوا جا سکتا ہے۔

‘آپ اس میں داخل ہوتے ہیں اور آپ کو گرمی کا احساس ہوتا ہے اور آپ کے پسینے چھوٹتے ہیں۔

‘لیکن جیسے آپ بلندی پر پہنچتے ہیں تو سخت سردی ہو جاتی ہے لیکن پسینے کی وجہ سے آپ کے کپڑے گیلے ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کو مزید سردی لگتی ہے۔’

بی 52 طیارے کی یہ صلاحیت کہ یہ دنیا بھر میں کارروائی کر سکے، جنگوں میں ایک نئی چیز ہے اور اس کا نفسیاتی اثر بہت زیادہ ہے۔

شلٹز کا کہنا ہے ‘یہ ایک انوکھا تجربہ ہے کہ ہزاروں میل دور جنگ میں حصہ لیا جائے۔ 25 ہزار فٹ کی بلندی پر آپ کو جنگ کی آوازیں نہیں آئیں۔ آپ کو دو سو پاؤنڈ بم کے پھٹنے کی آواز نہیں آتی۔’

B-52 with payload at Barksdale

،تصویر کا ذریعہTSgt Robert Horstman

کرنل وارڈ کا کہنا ہے ‘میں اپنے گھر میں سو کر اٹھتا، ٹیک آف کرتا، دنیا کے دوسرے حصے میں جنگ میں حصہ لے کر واپس اپنے گھر میں آ کر سو جاتا۔’

بی 52 کے انجینیئروں کے عملے کے سربراہ جیکب ڈن کا کہنا ہے ‘ہمارے سارے جہاز مونث ہیں۔ یہ بس توہم پرستی ہے۔’

بنیادی طور پر اسے صرف ایک کام کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا: زیادہ اونچائی سے بموں کی بارش۔ مگر اب اس میں امریکی ہتھیاروں میں کچھ میں رکھا جاسکتا ہے جیسے لیزر گائیڈڈ کروز میزائل۔ افغانستان میں ان طیاروں کی مدد سے کم بلندی سے بھی فضائی حملے کیے جاسکتے ہیں۔

مستقبل میں بی 52 بمبار طیارے میں جدید اسلحے کا نظام، کمیونیکیشن نظام نصب کیے جائیں گے۔ لیکن اس کے پائلٹوں اور عملے کے لیے یہ ہمیشہ بف یعنی ‘بڑا، موٹا اور بھدا’ ہی رہے گا۔



Source link

Leave a Reply