بےنظیر کی حکومت کے خلاف سازش کا الزام، سابق فوجی افسران کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
15 فروری 2022، 20:11 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی ایک منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سپریم کورٹ نے فوج کے دو سابق افسران کی سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں فوجی عدالت سے سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

جن فوجی افسران کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کیا گیا ہے ان میں کرنل ریٹائرڈ عنایت اللہ اور کرنل ریٹائرڈ آزاد منہاس کی اپیلیں شامل ہیں۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ 25 سال قبل اسی مقدمے میں میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی اور برگیڈئیر مستنصر بلا کی اپیلیں مسترد کر چکی ہے۔ فوجی عدالت نے میجر جنرل ظہیر الااسلام کو سات سال قید جبکہ برگیڈئیر مستنصر بلا کو 14 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

مقدمے کا پس منظر

عسکری اداروں نے میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی اور برگیڈئیر مستنصر بلا سمیت 38 فوجی افسران کو 26 ستمبر سنہ 1995 کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ نہ صرف 30 ستمبر کو راولپنڈی میں ہونے والی کور کمانڈرز میٹنگ پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے بلکہ اس وقت کی وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور کابینہ کے ارکان سمیت اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبد الوحید کاکڑ اور فوجی افسران کو قتل کر کے میجر جنرل ظہیر الااسلام عباسی کو امیر المومنین بننا چاہتے تھے۔

جن افراد کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا ان میں کرنل عنایت اللہ اور کرنل آزاد منہاس بھی شامل تھے۔

عسکری اداروں نے ان افراد کو حراست میں لینے کے بعد یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور فوجی یونیفارم بھی برآمد کیے گئے تھے۔

جس وقت یہ مقدمہ درج کیا گیا اس وقت میجر جنرل ظہیر الااسلام عباسی جنرل ہیڈ کوراٹر میں ڈائریکٹر جنرل انفنٹری جبکہ برگیڈئیر مستنصر بلا اس وقت جنوبی پنجاب میں تعینات تھے اور کرنل آزاد منہاس منگلہ کور میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

یہ مبینہ سازش اس وقت بےنقاب ہوئی جب اس سازش کو تیار کرنے والے اہم رکن قاری سیف اللہ اختر کو جو کہ حرکت جہاد الااسلامی کے سربراہ تھے، گرفتار کیا گیا اور وہ اس معاملے میں وعدہ معاف گواہ بن گئے۔

فوجی عدالت نے ان افسران کا کورٹ مارشل کرنے کے بعد دسمبر سنہ 1995 میں ان کو سزائیں سنائی تھیں تاہم قاری سیف اللہ اختر کو اس مقدمے میں کوئی سزا نہیں سنائی گئی اور مقدمے کی عدالتی کارروائی کے بعد وہ افغانستان چلے گئے اور عسکری ذرائع کے مطابق وہ وہاں عسکریت پسندوں کا ایک تربیتی کیمپ چلاتے تھے۔

قاری سیف اللہ اختر کو سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو پر اکتوبر سنہ2007 میں کراچی میں ہونے والے حملے کے الزام میں بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

آپریشن خلافت

،تصویر کا ذریعہInqilaab Publishers

،تصویر کا کیپشن

مستنصر بلا نے رہائی کے بعد سنہ 2008 میں ’آپریشن خلافت‘ اور ’جمہوریت کفر، خلافت فرض ہے‘ کے عنوان سے کتابیں بھی لکھیں جو اب مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں

فوجی عدالت نے کرنل ریٹائرڈ عنایت اللہ اور کرنل ریٹائرڈ آزاد منہاس کو منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے اور ملک کے خلاف جنگ شروع کرنے کی سازش کے الزام سے تو بری کر دیا تاہم انھیں اس الزام میں نوکری سے برطرفی کے ساتھ ساتھ چار سال قید کی سزا دی اس لیے دی گئی کہ ان دونوں افسران کو اس سازش کا علم تھا لیکن انھوں نے اعلیٰ حکام کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔

فوج کی جیگ برانچ میں کام کرنے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ اگر کسی معاملے کا علم ہی نہ ہو تو اس بارے میں کوئی کیسے کسی کو آگاہ کرسکتا ہے اور دوسرا یہ کہ اگر ان دونوں افسران کو سازش کا علم تھا تو پھر ان کو بھی سازش کے جرم میں سزا دی جانی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

منگل کو عدالتی کارروائی میں کیا ہوا؟

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کے روز ان درخواستوں کی سماعت کی۔

کرنل ریٹائرڈ آزاد منہاس نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف بدنیتی پر مبنی کورٹ مارشل کیا گیا اور غیر متعلقہ افسران سے انکوائری اور کورٹ مارشل کی کارروائی کرائی گئی۔

کرنل ریٹائرڈ آزاد منہاس نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑھ کر انصاف کا قتل اور کیا ہوسکتا ہے کہ تفتیشی افسر برگیڈیئر اسحاق جنہوں نے اس مقدمے کی تفتیش کی تھی ان کو ہی درخواست گزاروں کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کا جج مقرر کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ کورٹ مارشل کے دوران ان پر سازش کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ اگر ان کے خلاف ایک الزام بھی ثابت ہو جائے تو وہ ان سزاؤں کے خلاف اپیلیں واپس لے لیں گے۔

کرنل ریٹائرڈ عنایت اللہ نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ من پسند افراد کو ترقی دینے کے لیے انھیں راستے سے ہٹانے کی غرض سے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ جس وقت ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اس وقت وہ ملک کے مفاد کے لیے اہم اور حساس ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔

کرنل ریٹائرڈ عنایت اللہ نے دلائل کے دوران یہ سوال بھی اٹھایا کہ دنیا کا کونسا ایسا قانون ہے جو جرم کی معلومات ہونے پر سزا دیتا ہے۔

عبدالوحید کاکڑ

،تصویر کا ذریعہPAkistan Army

،تصویر کا کیپشن

جب اس سارے واقعے میں ملوث کرداروں کو گرفتار کر لیا گیا تو وزیراعظم بے نظیربھٹو سے اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے فون پر رابطہ کر کے ملاقات کا وقت مانگا تھا

انھوں نے کہا کہ حتی کہ آرمی ایکٹ میں بھی متبادل فرد جرم کی گنجائش نہیں ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیوں نہیں کیا گیا۔ بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زمانہ امن میں تو فیلڈ جنرل کوٹ مارشل کی گنجائش نہیں ہوتی۔ بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں پانچ رکنی عدالت ہوتی ہے اور وہاں ملزمان کو زیادہ تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

درخواست گزاروں نے اپنے دلائل کے دوران عدالت سے استدعا کی کہ فوجی عدالت کا فیصلہ نہ صرف کالعدم قرار دیا جائے بلکہ ریٹائرمنٹ کی مراعات دینے کا بھی حکم صادر کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ درخواست گزاروں نے یہ موقف اپنایا کہ جن عہدوں پر وہ تعینات تھے اگر ان عہدوں کی مراعات بھی چھوڑ دیں تو صرف کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہونے پر افسر کو تین پلاٹ ملنے تھے۔

ایڈشنل اٹارنی جنرل نے ان درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ کورٹ مارشل کے خلاف اپیلیں 13 سال کی تاخیر سے دائر کی گئیں۔

انھوں نے کہا کہ درخواست گزاروں کو اس وقت کی منتخب حکومت کے خلاف کی جانے والی سازش کا علم تھا لیکن انھوں نے اپنے حکام کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا۔

ایڈشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ڈسپلن فورس سے تعلق رکھنے والے افسران کا حساس معلومات کو چھپانا بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جس فوجداری قانون کے تحت اپیلیں دائر کی گئیں وہ آرمی ایکٹ میں شامل ہی نہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ملزمان کو سزائیں آرمی ایکٹ کے مطابق دی گئیں اور مجاز فورم سے اپیلیں خارج ہوئیں جبکہ اس وقت کے آرمی چیف نے سزاؤں کی توثیق کی تھی۔

درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ عنایت اللہ کا کہنا تھا کہ ان کی اپیلیں زائد المیعاد نہیں ہیں کیونکہ سزا کے بعد انھیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

ایڈشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سابق فوجی افسران یعنی درخواست گزار آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت عدالت آئے ہیں اور یہ قانون ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔

خیال رہے کہ دونوں درخواست گزاروں نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی تھی کہ وہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لے۔

درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ عنایت اللہ نے کہا کہ سرکاری وکیل غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل کا کام تو دلائل دینا ہوتا ہے۔ انھوں نے درخواست گزاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی درخواست پر دلائل دیں۔

درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ عنایت اللہ نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حکومت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے حکومت کو برطرف کیا تھا تو انھوں نے اسی قانون کے تحت ہی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر سپریم کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں ایسا ہوتا تھا جب ملک کی ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے سب سیکشن تین اور پانچ کے تحت فوجی عدالت کی طرف سے دیے گئے فیلصوں کو نہیں سنتی تھیں لیکن اب آئین میں 10 اے کا اضافہ کیا گیا ہے جو کہ فیئر ٹرائل کا حق دیتا ہے۔

کرنل آزاد منہاس کا کہنا تھا کہ فوجی عدالت کے فیصلے میں کہیں بھی ان کی جائیداد ضبط کرنے کا ذکر نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ان کی جائیدادیں ضبط کرلی گئیں۔

عدالت نے درخواست گزاروں سے کہا کہ اگر وہ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں تو وہ اس بارے میں تحریری طور پر اپنا موقف عدالت میں جمع کروا دیں۔

عدالت نے ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ مناسب وقت پر ان درخواستوں پر فیصلہ سنائے گی۔

واضح رہے کہ یہ معاملہ گذشتہ چھ سال سے زیادہ عرصے سے سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے جبکہ اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ میں بھی یہ معاملہ کافی عرصے تک زیر التوا رہا تاہم لاہور ہائی کورٹ نے فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف ان اپیلوں کو مسترد کر دیا تھا۔

اس مقدمے کی عدالتی کارروائی پر نظر رکھنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز الااحسن نے ایک سال تک ان اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کیے رکھا اور بعد ازاں یہ معاملہ انھوں نے اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منظور ملک کو بھجوا دیا تھا کہ ان اپیلوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے دوبارہ یہ معاملہ جسٹس اعجاز الاحسن کو بھیج دیا تھا جنھوں نے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔ جسٹس اعجاز الااحسن اس وقت سپریم کورٹ کے جج ہیں۔



Source link