تحریکِ عدم اعتماد: جہانگیر ترین گروپ کتنا اہم ہے اور کیا حکومت ’ناراض اراکین‘ کو واپس لا سکے گی؟

  • عمر دراز ننگیانہ
  • بی بی سی اردو، لاہور

2 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے شہر لاہور میں حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے پارٹی کے ‘ناراض’ اراکین سے رابطہ کر کے انھیں واپس لانے کی کوششوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ صوبہ پنجاب میں اس حکومت کی جانب سے اس کام کی ذمہ داری صوبائی وزیر مراد راس کو سونپی گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے پنجاب کے وزیرِ سکول ایجوکیشن مراد راس نے جہانگیر ترین گروپ کے ارکان سے لاہور میں ملاقات کی اور ان کے مطالبات سنے تھے۔ مراد راس نے اپنی جماعت اور وزیرِاعظم کے ساتھ مشاورت کے بعد دوبارہ جہانگیر ترین گروپ کے اراکین سے ملاقات کا کہا تھا۔

جہانگیر ترین گروپ کے ممبر ایم پی اے طاہر رندھاوا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزرا کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں انھیں یقین دلایا گیا ہے کہ ان کے مطالبات کو سنجیدگی کے ساتھ سنا جائے گا اور ان پر عملدرآمد ہوگا۔

‘ہم اپنے مائنس بزدار کے فارمولے پر اب بھی قائم ہیں اور ہم نے انھیں کہا ہے کہ وہ وزیرِ اعلٰی عثمان بزدار کو ہٹائیں پھر باقی معاملات طے ہوں گے۔’

طاہر رندھاوا نے بتایا کہ صوبائی وزیر مراد راس نے ملاقات کے دوران بتایا کہ ‘انھیں وزیرِاعظم عمران خان نے مکمل اختیارات کے ساتھ بھیجا ہے اور وہ جہانگیر ترین گروپ کے مطالبات سن کر ان پر سنجیدگی سے عملدرآمد کی کوشش کروائیں گے۔ انھوں نے ہم سے کہا کہ آپ واپس آ جائیں۔’

یاد رہے کہ چند صوبائی وزرا سمیت پنجاب کی صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں بھی چند اراکین جہانگیر ترین کے گروپ میں شامل ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے باضابطہ طور پر پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت کے ساتھ اختلافات کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ موجودہ وزیرِاعلٰی پنجاب عثمان بزدار کو ہٹایا جائے اس کے بعد ہی وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں مزید بات چیت کریں گے۔

پنجاب کے وزیرِ سکول ایجوکیشن مراد راس نے پیر کے روز ایک بیان میں بتایا تھا کہ وہ 24 گھنٹے کے دوران ترین گروپ سے دوبارہ ملاقات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترین گروپ ممبران پاکستان تحریکِ انصاف کا اہم جزو ہیں اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ ‘اندرونی مسائل دیرینہ نہیں، جلد حل کر لیں گے۔’

تاہم منگل کے روز تو ان کی اعلان کردہ ملاقات نہیں ہو پائی۔

‘مائنس بزدار پر قائم ہیں’

ترین گروپ کے ممبر طاہر رندھاوا نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘مراد راس صاحب سے ہمارا ٹیلیفون پر رابطہ ہے۔ ہم اپنے گروپ کے اندر مشاورت کر رہے ہیں اور پھر اس کے بعد ہی فیصلہ ہوگا کہ آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔’

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی ‘مائنس بزدار’ کے اپنے مطالبے پر قائم ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا حکومتی وزرا نے انھیں عثمان بزدار کو بطور وزیرِاعلٰی ہٹانے کی یقین دہانی کروائی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک مرتبہ یہ تحریکِ عدم اعتماد والا معاملہ ہو جائے تو عثمان بزدار کو ہٹا دیا جائے گا۔’

یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان تحریکِ انصاف کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے حوالے سے بھی مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ حکومت نے چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارتِ اعلٰی کی پیشکش کی تھی۔

تاہم ساتھ ہی یہ کہا گیا تھا کہ ایسا مرکز میں عدم اعتماد کی تحریک کے بعد کیا جائے گا جس پر ق لیگ آمادہ نہیں ہوئی اور اس نے باضابطہ طور پر عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے حکومت کا ساتھ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

کیا ترین گروپ کے ساتھ بھی حکومت ایسا ہی بارگین چاہتی تھی؟

ممبر صوبائی اسمبلی طاہر رندھاوا کے مطابق حکومتی وزرا جنھوں نے ان سے رابطہ کیا تھا انھوں نے درخواست کی تھی کہ جہانگیر ترین گروپ ابھی کوئی فیصلہ نہ کرے۔

‘انھوں نے کہا تھا کہ آپ کسی فیصلے کا اعلان نہ کریں۔ ہم آپ کی بات سننے اور آپ کے مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہیں اور جلد ملاقاتیں کریں گے۔’

اس کے بعد وفاقی وزیر برائے دفاع پرویز خٹک اور صوبائی وزیر مراد راس کی ان سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں۔

طاہر رندھاوا کے مطابق ‘ان کے ساتھ ہماری جو بات چیت ہوئی ہے اس پر آنے والے چند دنوں میں ہم آپس میں مشاورت کریں گے اور پھر کوئی فیصلہ کریں گے۔’

چوہدری شجاعت، چوہدری پرویز الہٰی

،تصویر کا ذریعہTwitter/ChaudhryParvez

،تصویر کا کیپشن

حال ہی میں پاکستان تحریکِ انصاف کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے حوالے سے بھی مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ حکومت نے چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارتِ اعلٰی کی پیشکش کی تھی۔

کیا حالیہ ملاقاتیں کامیاب ہو سکتی ہیں؟

ترین گروپ اور حکومتی وزرا کی ملاقاتوں کی افادیت کے حوالے سے صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خیال میں ‘اس قسم کی ملاقاتوں کے بعد حکومت کو ترین گروپ کو منانے میں کامیابی ملنے کے امکانات کم ہیں۔’

ان کے خیال میں اگر یہی ملاقاتیں وزیرِاعظم عمران خان خود کرتے تو نتائج زیادہ بہتر آ سکتے تھے۔ ‘مراد راس صاحب اپنی طرف سے بہت سنجیدہ کوشش کر رہے ہوں گے لیکن اس کام کے لیے وہ تھوڑے جونیئر ہیں۔’

سلمان غنی کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق جہانگیر ترین گروپ کے چند محدود تعداد میں اراکین نے مراد راس سے ملاقات کی تھی۔ اس سے قبل پیر کے روز وزیرِاعلٰی عثمان بزدار کی زیرِ صدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں بھی ترین گروپ کے ممبر وزرا نے شرکت نہیں کی تھی۔

ترین گروپ کیا ہے اور کتنا اہم ہے؟

پاکستان تحریکِ انصاف میں اسے ‘جہانگیر ترین گروپ’ کہا جاتا ہے جو بنیادی طور پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے ان ممبران پر مشتمل ہے جو آزادانہ حیثیت میں سنہ 2018 کے انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے اور پھر جہانگیر خان ترین کے کہنے پر پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے تھے۔

ساتھ ہی اس گروپ میں وہ اراکین بھی شامل ہیں جو پی ٹی آئی ہی کے ٹکٹ پر انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے اور حال ہی میں اس وقت جہانگیر ترین کے ساتھ جا کھڑے ہوئے جب انھیں چینی سکینڈل میں عدالتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

‘ترین گروپ’ میں 30 سے زیادہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران شامل ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔

گروپ کا ایک بڑا حصہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی سے تعلق رکھتا ہے تاہم قومی اسمبلی میں بھی ایسے ممبران موجود ہیں جو باضاطبہ طور پر گروپ کے حصے کے طور پر نظر آئے ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ اگر حکومت ترین گروپ کو راضی نہیں کر پاتی تو کیا قومی اسمبلی کے یہ اراکان وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف ووٹ دے سکتے ہیں؟

کیا ترین گروپ تحریکِ عدم اعتماد کے لیے اہم ہو سکتا ہے؟

صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق وہ ایسا کر سکتے ہیں تاہم ایسا کرنے کے لیے انھیں اپنی جماعت کی پالیسی سے انحراف کرنے کے الزامات اور قانون کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

‘یہ ان کے لیے ایک مشکل ہو گی لیکن ان کے قومی اسمبلی سے تعلق رکھنے والے تین کے قریب ممبران تو پہلے ہی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ ڈیل کر چکے ہیں۔’

ان کا اشارہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ایم این اے راجہ ریض کی طرف تھا جنھوں نے حال ہی میں مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ وہ آئندہ انتخابات میں حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے خواہشمند ہیں۔

یاد رہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں یہ دعوٰی کرتی رہی ہیں کہ قومی اسمبلی میں وزیرِاعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے ان کے پاس مطلوبہ تعداد سے زیادہ ممبران کی حمایت موجود ہے اور ترین گروپ کے ممبران حال ہی میں سامنے آئے تھے۔

تجزیہ نگار سلمان غنی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ ترین گروپ کے قومی اسمبلی میں ممبران کی حمایت کے بغیر بھی حزبِ اختلاف اپنے نمبر پورے کر سکتی ہے۔



Source link