تحریک عدم اعتماد اور سپریم کورٹ کا کمرہ عدالت نمبر ون: ’جن پر پہلے آرٹیکل چھ لگا ہے اس پر تو عمل درآمد کروائیں‘

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو، اسلام آباد

8 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

سپریم کورٹ کا کمرہ عدالت نمبر ون جو کہ پاکستان کے چیف جسٹس کی عدالت ہے، پیر کو صدارتی ریفرنس کی سماعت سے پہلے ہی بھر چکا تھا۔ یہ صدارتی ریفرنس حکمراں جماعت کے متعدد اراکین قومی اسمبلی کے پارٹی پالیسیوں سے انحراف کر کے ممکنہ طور پر تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دینے سے متعلق قانونی رائے لینے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا ہے۔

حزب مخالف کی جماعتوں کے رہنماؤں کو، جن میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن اور اختر مینگل شامل تھے، کمرہ عدالت کی اگلی نشتوں پر بٹھایا گیا جبکہ ان جماعتوں کے اراکین قومی اسمبلی پچھلی نشستوں پر موجود تھے۔

سماعت کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے سندھ ہاؤس پر ہونے والے حملے کے بارے میں کہا کہ کس طرح حکمراں جماعت کی طرف سے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکمراں جماعت کے کارکنوں کی طرف سے ایسا کرنے کا مقصد ان ارکان قومی اسمبلی کو ہراساں کرنا تھا جنھوں نے وزیر اعظم کی پالیسوں کی خلاف اپنی آواز بلند کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جو افراد اس واقعے میں ملوث تھے ان کے خلاف ایسی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جو کہ قابل ضمانت تھیں۔

اس موقع پر سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے بھی کہا کہ اس واقعہ سے متعلق جو مقدمہ درج کیا گیا ہے اس میں سندھ ہاؤس کی انتظامیہ کا موقف شامل نہیں کیا گیا۔

اس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو روسٹم پر طلب کیا اور انھیں حکم دیا کہ اس مقدمے میں سندھ ہاؤس کی انتظامیہ کا مؤقف بھی شامل کیا جائے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سندھ ہاؤس پر ہونے والے حملے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ پرتشدد احتجاج کرنے کا حق قانون نے کسی کو نہیں دیا اور جنھوں نے ایسا کیا ہے ان کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔

فاروق ایچ نائیک نے وفاقی وزیر اطلاعات کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کہا ہے کہ جو بھی ارکان وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ ڈالنے جائیں گے تو وہ اس روز پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے دس لاکھ ووٹروں کے مجمعے سے گزر کر جائیں گے اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کسی بھی رکن قومی اسمبلی میں اپنا قانونی حق استعمال کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ آئین میں ایسا کہیں نہیں لکھا ہوا کہ جو رکن پارٹی پالیسیوں سے اختلاف کرتا ہو تو اس کو زبردستی اپنا قانونی حق استمعال کرنے سے روکا جائے۔

اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کو یہ یقین دہانی کروائی کہ جس دن عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ہوگی اس روز ریڈ زون جس میں سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس واقع ہیں، وہاں پر کوئی جلسہ نہیں ہو گا۔

اٹارنی جنرل کے اس دعوے کے برعکس وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سپریم کورٹ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں نے جب اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ جلسہ کرنے کا استحقاق سیاسی جماعتوں کا ہے اور اس بارے میں وہی فیصلہ کریں گے۔

سماعت کے دوران عدالت نے حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے وکلا سے کہا کہ وہ جلسے کے مقام کے حوالے سے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں اور باہمی مشاورت سے جگہ کا تعین ہونا چاہیے تا کہ کوئی تصادم نہ ہو۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کے اثرات ملک کے اقتصادی حالات پر بھی پڑتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے قومی اسمبلی کا اجلاس آئین میں دیے گئے وقت پر نہ بلانے کے بارے میں فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کیا جائے اس پر اٹارنی جنرل نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا نام لیے بغیر کہا کہ ’جن پر پہلے سے آرٹیکل چھ لگا ہوا ہے اس پر تو عمل درآمد کروائیں۔‘

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صدر ان کا اپنا ہے تو وہ انھیں اس پر عمل درآمد کے لیے کہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت ابھی تک قومی اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت پر قائل نہیں ہوئی۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر نے اجلاس تاخیر سے بلانے کے لیے کوئی وجوہات بتائی ہوں گی جو کہ اس وقت عدالت کے سامنے موجود نہیں ہیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ عدالت صرف یہ چاہتی ہے کہ کسی کے ووٹ کا حق متاثر نہ ہو۔

انھوں نے حزب مخالف کی جماعتوں کے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ معاملہ سپیکر کے سامنے بھی اٹھا سکتے ہیں۔

سپیکر کے کردار کے بارے میں جب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل اپنے دلائل دے رہے تھے تو اس دوران قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اپنے وکیل اعظم نذیر تارڑ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی نشستوں سے اٹھ کر اپنے وکیل فاورق ایچ نائیک کے پاس متعدد بار گئے۔

بینر

سماعت کے دوران وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل بھی کمرہ عدالت میں آئے تاہم ان کی نشست کے اردگرد متعدد پولیس اہلکار موجود تھے۔

اس صدارتی ریفرنس میں جو قانونی سوالات اٹھائے گئے ہیں اس کے بارے میں رائے دینے کے بارے میں چیف جسٹس نے لارجر بینچ تشکیل دینے کا عندیہ دیا اور کمرہ عدالت میں موجود وکلا اپنے تئیں یہ اندازہ لگاتے رہے کہ اس لارجر بینچ میں کون کونسا جج شامل کیا جاسکتا ہے۔

جب عدالتی سماعت ختم ہوئی تو قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف دیگر حزب مخالف کے رہنماؤں کے ساتھ میڈیا ٹاک میں مصروف ہوگئے۔ فواد چوہدری اور شہباز گل کو بھی میڈیا کے نمائندوں نے روک لیا اور ان سے سوالات کیے۔

شہباز گل سپریم کورٹ کے احاطے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر سے بڑی گرم جوشی سے ملے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی رکن اسمبلی احمد خان سے بھی گرم جوشی سے ملے۔ ان جماعتوں کے رہنماؤں کی آپس میں اس طرح کی گرم جوشی دیکھ کر یہ ذرا بھی احساس نہیں ہو رہا تھا کہ یہ وہی سیاسی جماعتوں کے رہنما ہیں جو کہ پریس کانفرنس اور جلسوں میں ایک دوسرے کو چور اور ڈاکو جیسے القابات سے نوازتے ہیں۔



Source link