تحریک عدم اعتماد اور ملاقاتیں: پی پی پی کا ایم کیو ایم کے تمام نکات سے اتفاق کا اعلان

14 مار چ 2022، 16:30 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہPPP MEDIA CELL

پاکستان پیپلزپارٹی نے اسلام آباد میں حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ایم کیوایم کے تمام تر نکات سے اتفاق ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعے بتایا گیا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ایم کیوایم وفد کی ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان کے مطابق زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں ایم کیو ایم کی جانب سے عامر خان، خالد مقبول صدیقی، امین الحق، وسیم اختر، خواجہ اظہار اور جاوید حنیف جب کہ پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی، سید مراد علی شاہ، سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، شرجیل میمن اور رخسانہ بنگش بھی موجود تھے۔

اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم نے ملک کے وسیع تر مفاد میں ایک دوسرے سے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ اس ملاقات پر ایم کیو ایم کا موقف اب تک سامنے نہیں آیا۔

تحریکِ انصاف کا 27 مارچ کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر جلسہ

عمران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سے پہلے پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے 27 مارچ کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر جلسہ عام کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

پیر کو پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کی جانب سے کی گئی ٹویٹس میں کہا گیا کہ ’کپتان نے ڈی چوک اسلام آباد جلسے کا حتمی فیصلہ کر لیا، انشااللہ 27 مارچ کو تاریخ ساز اجتماع ہونے جا رہا ہے۔‘

اس حوالے اسد عمر نے مزید لکھا کہ ’دنیا دیکھے گی پاکستان کی عوام کیسے اپنی آزادی اور خود مختاری کے لیے اپنے کپتان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔‘

اس سے قبل تحریک انصاف کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے ایک روز قبل ڈی چوک میں جلسے کے انعقاد کیا جائے گا تاہم تاحال تحریک عدم اعتماد کے لیے اجلاس بلانے اور اس پر ووٹنگ کی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیٹیر فیصل جاوید خان نے کہا کہ ’عدم اعتماد پر ووٹنگ کی تاریخ سپیکر قومی اسمبلی دیں گے اور یہ 27 مارچ کے بعد کوئی بھی تاریخ ہو سکتی ہے۔‘

اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا اعلان پیر کے روز پی ٹی آئی کی کور کمیٹی میٹنگ کے اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق پارٹی کی کور کمیٹی نے ’عمران خان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔‘

اس حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ’اجلاس حکومت نے نہیں سپیکر نے بلانا ہے اور اس بارے میں وہ وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہیں کیونکہ او آئی سی کا اجلاس پارلیمان میں ہونا ہے۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ جلد از جلد ہو۔‘

فواد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’جو ووٹ دینے جائے گا اسے جلسے کے شرکا کے درمیان سے گزر کر جانا ہو گا‘

کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے ڈی چوک کے جلسے کو ’تمام جلسوں کی ماں قرار‘ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جلسے میں ملک بھر سے ’دس لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے۔‘

پی ٹی آئی کے رہنما عامر محمود کیانی نے ڈی چوک میں ہونے والے جلسے سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جلسے میں 10 لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے اور یہ جلسہ پاکستان کی آئندہ آنے والی سیاست کے رُخ کا تعین کرے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جس نے ووٹ ڈالنا ہو گا، وہ اس دس لاکھ کے ہجوم میں سے گزر کر جائے گا اور جب ووٹ ڈال کر آئے گا تب بھی یہیں سے گزر کر جائے گا۔ اس لیے اپنی پیٹیاں کس لیں کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہو گا۔‘

جب عامر کیانی سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ بات ’منحرف اراکین‘ کے لیے دھمکی ہے اور کیا یہی حکومت کی حکمتِ عملی ہو گی تو اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک سیاسی جماعت ہیں اور ہماری حکمتِ عملی یہی ہو گی، اور باتیں ازراہِ گفتگو ہوتی ہیں۔‘

حکومتی رہنماؤں کی اس پریس کانفرنس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما شیری رحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اسے اپوزیشن کو ڈرانے اور دھمکانے کی حکمت عملی قرار دیا۔

اپوزیشن رہنماؤں کی سکیورٹی سے متعلق سوال پر فواد چوہدری نے صحافی کو جواب دیا کہ ’نہ آپ کو کوئی خطرہ ہے، نہ ہی اُن کو کوئی خطرہ ہے۔‘

فواد چوہدری کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’سیاست، حکومت اور مستقبل ہمارے پاس ہے۔‘

وزیراعظم پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’تحریک انصاف کو جگانے پر اپوزیشن رہنماؤں کا شکریہ‘

پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کا احوال بتاتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اجلاس میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال، خصوصاً تحریکِ عدم اعتماد کے بارے میں تفصیل سے بات ہوئی ہے اور کور کمیٹی نے عمران خان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک مرتبہ پھر ثابت ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ایک وفاقی پارٹی ہے یہ چار ڈویژنوں کی پارٹی نہیں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ نے دیکھا کہ جس طرح کے جلسے ہو رہے ہیں، کل حافظ آباد میں ہوا، اس سے پہلے میلسی، منڈی بہاؤالدین، لوئر دیر اور اب سوات میں ہونے جا رہا ہے اور پھر تمام جلسوں کی ماں ڈی چوک پر ہونے جا رہا ہے۔‘

’اس وقت جو لوگوں کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے دیگر اراکین کی جانب سے بھی شدید ردِ عمل دیا گیا ہے اور جس جس کو پیسے آفر کیے گئے اس نے پہلے پارٹی میں آ کر بتایا۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کے کم از کم تین ارکان کو کروڑوں روپے کی آفر کی گئی۔

فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ ’روس یوکرین جنگ کے بعد سے جب دنیا بھر میں روسی امیر ترین افراد کی بیرونِ ملک اثاثے ضبط کرنے کی بات ہوئی تو کیسے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور کچھ میڈیا مالکان کے چہرے اُتر گئے، اور پھر وزیراعظم عمران خان کے خلاف ایک مہم چلانے کی کوشش کی گئی۔‘

انھوں نے اپوزیشن جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف اور آصف زرداری کا شکریہ کہ وہ عدم اعتماد لے کر آئے کیونکہ ہماری جماعت خود بھی سستیوں میں پڑ گئی تھی۔‘

’انھوں نے ایک سوئے ہوئے شیر کو جگا دیا ہے اور آج تحریک انصاف کا کارکن جو گھروں میں بیٹھا ہوا تھا وہ اس طرح سے باہر نکلا ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔‘

عمران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’ن لیگ، پیپلز پارٹی عمران خان کے مقابلے کا ایک جلسہ کر کے دکھا دیں‘

اس حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’میں ن لیگ، پیپلز پارٹی اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ عمران خان کے مقابلے کا ایک جلسہ ہی کر کے دکھا دیں، ایک عوامی ریفرنڈم کا پتا چل جائے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان اور پی ٹی آئی کبھی بلیک میل نہیں ہوئے اور ہم پوری قوت سے عمران خان کے پیچھے کھڑے ہیں اور اس وقت عمران خان کے پاس جو فارمولا ہے اس کے بعد اپوزیشن کو ہاتھ ملتے ہوئے بھی دیکھیں گے، انھیں سمجھ نہیں آئی گی کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس کی قانونی حکمتِ عملی بھی ہمارے پاس ہے اور تاش کے سارے پتے ہمارے پاس ہیں، ہم فیصلہ کریں گے کے اگلی چال کیا ہو گی۔ اگلی چال جو بھی ہو گی، آپ سے وعدہ ہے کہ ان تین جوکرز کا یہ آخری کھیل اس کے بعد یہ نظر نہیں آئیں گے۔‘



Source link