تحریک عدم اعتماد: اپوزیشن کے نمبر پورے ہیں، اتحادی سو فیصد حکومت کے ساتھ نہیں، چوہدری پرویز الہی

3 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہTWITTER/CHAUDHRYPARVEZ

تحریک انصاف کی اہم اتحادی جماعت ق لیگ کے سینیئر رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ تعداد سے زیادہ نمبر ہیں اور اس وقت تمام اتحادی جماعتوں کا جھکاؤ بھی اپوزیشن کی جانب ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کر چکی ہیں جس کے تناظر میں حکومتی اتحادیوں سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں۔

پرویز الہی، جو پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں، پاکستانی ٹی وی چینل ہم نیوز پر مہر بخاری کو انٹرویو دے رہے تھے جس میں انھوں نے یہ تو واضح نہیں کیا کہ ق لیگ کس کا ساتھ دے گی لیکن انھوں نے تحریک انصاف پر کھل کر تنقید کی اور یہ بھی کہا کہ ‘ابھی بہت سے سرپرائز آنے ہیں۔’ ان کی تنقید اور چند جملے موجودہ سیاسی حالات میں کافی اہمیت کے حامل ہیں۔

’اس وقت کوئی تحریک انصاف کے ساتھ نہیں‘

مسلم لیگ ن

،تصویر کا ذریعہPML-N

تحریک عدم اعتماد پر چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ ’ان کو (تحریک انصاف) یہ بھی نہیں پتہ کہ کون ان کے ساتھ ہے اور کون نہیں۔‘

انھوں نے دعوی کیا کہ ’اس وقت حکومت کا کوئی اتحادی بھی سو فیصد حکومت کے ساتھ نہیں۔‘

اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہا کہ ’اس وقت اسٹیبلشمنٹ نے خود کو باہر رکھا ہوا ہے اور جو بھی آ جائے ان کے لیے قابل قبول ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کا کوئی ساتھ نہیں دے رہا۔

انھوں نے کہا ’اس وقت صرف ہمارا نہیں، بلکہ تمام اتحادی جماعتوں کا جھکاؤ اپوزیشن کی طرف ہے۔ یہ خان صاحب کا کام ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں۔ وہ ان کے پاس اب جا رہے ہیں جن کا ایک ووٹ ہے۔ یہ پہلے کر لینا چاہیے تھا۔‘

پرویز الہی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خود وزیر اعظم عمران خان نے اتحادی جماعتوں ق لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کو تحریک انصاف میں ضم ہونے کی پیشکش کی جس کو ق لیگ نے رد کر دیا تھا۔

’خان صاحب نے چار دن پہلے مونس کو کہا کہ تحریک انصاف میں ضم ہو جائیں۔ ہم نے انکار کر دیا۔ انھوں نے باپ کو بھی کہا۔ یہ ان کی ناسمجھی ہے۔‘

پنجاب کی وزارت اعلیٰ

عثمان بزدار

،تصویر کا ذریعہPUNJAB GOVT

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کی گفتگو کے دوران پنجاب کی وزارت اعلی کا تذکرہ کئی بار آیا اور انھوں نے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت اس عہدے کی خواہش مند ہے۔

’ہم سے دو اتحادی پارٹیوں نے کہا کہ پہلے عدم اعتماد کا معاملہ ہو جائے پھر اس کو دیکھتے ہیں، لیکن چوہدری شجاعت نے کہا کہ نہیں، یہ کام پہلے ہونا چاہیے۔‘

جب ان سے سوال ہوا کہ کیا تحریک انصاف کی جانب سے ان کی جماعت کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ’وہ کچھ بولیں تب ہے ناں، اس وقت تو تحریک انصاف سکتے میں ہے۔‘

’ہم نے کہا تھا کہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ دیں، پھر ہم آّپ کے لیے بھی ووٹ کر لیں گے۔ اگر وزارت اعلیٰ ہمارے پاس آئی تو ہم اتحادیوں کی کمیاں خامیاں بھی پوری کریں گے۔‘

’اکیلے فیصلہ نہیں کر سکتے‘

چوہدری پرویز الہی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس تمام گفتگو کے باوجود چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا کہ اب تک ان کی جماعت نے حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ کہ ’ہم اکیلے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے، باقی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حتمی فیصلہ کریں گے۔‘

’ہم تمام معاملات اتحادیوں کے سامنے رکھیں گے۔ فیصلہ جماعت بھی نہیں کر سکتی، ہمارے ساتھ زرداری صاحب ہیں، ایم کیو ایم ہے، باپ پارٹی ہے، ان سے مل کر فیصلہ کریں گے۔‘

چوہدری پرویز الہی نے تحریک انصاف اور وزیر اعظم عمران خان پر کھل کر تنقید کی اور حکومت کے دعووں کے برعکس کارکردگی کو بھی نشانہ بنایا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایسا کیا ہوا جس پر معاملات خراب ہوئے تو انھوں نے کہا کہ ہماری طرف سے وفاداری کی گئی، ان کی طرف سے دھمکیاں آ رہی ہیں۔ ’نیب کو کہا گیا کہ مونس کو پکڑو۔‘

چوہدری پرویز الہی سے جب سوال کیا گیا کہ وزیر اعظم کے مطابق اپوزیشن کی تحریک بیرونی سازش ہے تو انھوں نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ صرف تحریک انصاف کی نالائقی ہے، اور کچھ نہیں۔‘

’خان صاحب نے سب سے ہاتھ کیا ہے۔ ساڑھے تین سال انھوں نے کوئی کرکردگی نہیں دکھائی۔ مہنگائی ہے، لوگوں کو نوکریاں نہیں ملیں، کیا سب کو احساس پروگرام میں نوکری دیں گے، صحت کارڈ سے کیا ہوتا ہے، پہلے ہسپتالوں کو تو ٹھیک کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں پیپلزپارٹی، ن لیگ اور جے یو آئی کا اتحاد دیر پا لگ رہا ہے کیوںکہ ’جب ایک شخص کے خلاف سب اکھٹے ہو جائیں تو تلخیاں بھلائی جاتی ہیں۔‘



Source link