تحریک عدم اعتماد: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے صدارتی ریفرینس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل پر اعتراضات

23 مار چ 2022، 14:01 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 43 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہAFP

اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بدھ کے روز وزیر اعظم ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارچ 25 کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہو گا اور روایت کے تحت وفات پانے والے ایم این اے کے ایصال ثواب کے لیے دعا ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد 30 سے یکم اپریل تک سپیکر جس دن کے لیے چاہیں گے، وہ (وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر) ووٹنگ کا دن مقرر کریں گے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘27 مارچ کے جلسے میں واضح ہو جائے گا کہ عوام کس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اپوزیشن اگر پراعتماد ہے تو ہم بھی پراعتماد ہیں۔‘انھوں نے امید بھی ظاہر کی کہ اتحادی عمران خان کے ساتھ ہوں گے۔ادھر پاکستانی سپریم کورٹ کے دوسرے سینیئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اُس لارجر بینچ کی تشکیل پر سوالات اٹھا دیے ہیں جو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے حکومتی پارٹی سے منحرف ارکانِ قومی اسمبلی کے ووٹ کی حیثیت جاننے کے لیے دائر صدارتی ریفرینس پر سماعت کے لیے بنایا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر کے 19 مارچ کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پٹیشن پر جاری کردہ آرڈر پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے مذکورہ پٹیشن اور صدارتی ریفرینس کو ایک ساتھ سماعت کے لیے کیسے مقرر کر لیا جبکہ ریفرینس اس وقت دائر ہی نہیں کیا گیا تھا۔

یہ اعتراضات انھوں نے چیف جسٹس کو لکھے ایک خط میں کیے ہیں۔ اُنھوں نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پٹیشن دائر کی ہے جس میں آرڈر جاری کیا جاتا ہے اور حکومت نے اب ریفرینس دائر کیا ہے جس میں رائے دی جانی ہے، چنانچہ یہ دونوں معاملات ایک ساتھ طے نہیں کیے جا سکتے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سیاسی جماعتوں بشمول حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے مجوزہ سیاسی جلسوں کے پیشِ نظر اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ سیاسی تصادم اور متوقع ناخوشگوار حالات کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔

قاضی فائز عیسیٰ

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

اسی طرح وفاقی حکومت نے اپنے ریفرینس میں سپریم کورٹ سے رائے مانگی ہے کہ آیا ان ارکانِ قومی اسمبلی کے ووٹ کی کوئی حیثیت ہے یا نہیں جو وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ میں اپنی پارٹی کے مؤقف کے برخلاف جا کر ووٹ دیں۔

یہ صدارتی ریفرنس وزیرِ اعظم عمران خان کے مشورے پر بھیجا گیا، جس کی بنیاد تحریک انصاف کے سربراہ کی طرف سے ایسے 14 اراکین کو شوکاز نوٹس ہے، جس میں ان سے پارٹی سے انحراف سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGovernment of Pakistan

جسٹس عیسیٰ نے اپنے خط میں چیف جسٹس سے مزید کہا ہے کہ بینچ کی تشکیل کے معاملے میں سابق چیف جسٹس کی جانب سے اہم آئینی سوالات کے حامل مقدمات کی سماعت کے لیے سینیئر ترین ججز پر مشتمل بینچ قائم کیا جاتا تھا جبکہ موجودہ معاملے کی سماعت کے لیے جو پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے اس میں چوتھے، آٹھویں اور 13 ویں سینیئر ترین ججز شامل ہیں۔

اس ریفرنس کی سماعت کے لیے تشکیل کردہ بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جمال مندوخیل، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اگلے چیف جسٹس اور سینیئر ترین جج ہیں تاہم انھیں اس بینچ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

بینر
لائن

،تصویر کا ذریعہNot Specified

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس سے پہلے ججز کی تعیناتی کے حوالے سے واضح مؤقف اپناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی مخالفت کر چکے ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کے لیے نامزدگی کے وقت لاہور ہائی کورٹ کی سینیئر ترین جج نہیں تھیں۔ جسٹس عیسیٰ نے اس موقع پر جوڈیشل کمیشن کے سامنے نکتہ اٹھایا تھا کہ ججز کی سپریم کورٹ میں نامزدگی کے لیے واضح معیار ہونا چاہیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چونکہ اہم مقدمات کی سماعت کے لیے سینیئر ترین ججز پر مشتمل بینچز کے قیام کی روایت کو ترک کر دیا گیا ہے، اس لیے اب بینچز کی تشکیل کے لیے کوئی واضح معیار موجود نہیں ہے جس سے غیر ضروری اور ناگزیر منفی تاثرات پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر ان مقدمات میں جن پر پوری قوم کی نظریں لگی ہوں۔

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی جج اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے ذاتی مفادات کو کام کے آڑے نہ آنے دے، ایسی کوئی بھی کوشش چاہے کتنی بھی ہو کامیاب نہیں ہو گی اگر اس کے متضاد عوامی تاثر جنم لے کیونکہ اعلیٰ عدالتوں میں ججز کے ضابطہ اخلاق کے مطابق ‘انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔’

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خط میں رجسٹرار سپریم کورٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ‘وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ سے درآمد کردہ’ ایک بیوروکریٹ سپریم کورٹ کے رجسٹرار ہیں اور عام تاثر یہ ہے کہ وہی فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سے مقدمات کی سماعت ہو گی، کب اور کس کے سامنے ہو گی، اور کون سے مقدمات بھلا دیے جائیں گے۔

اُنھوں نے اس حوالے سے قراردادِ مقاصد اور آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان مکمل طور پر علیحدگی ہو گی، اس لیے ریاست کے انتظامی ستون کے کسی افسر کو بطور رجسٹرار نہیں تعینات کیا جا سکتا۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ جہاں تک اُنھیں معلوم ہے، (چیف جسٹس کے) ہر پیشرو نے سینیئر ترین جج سے مشاورت کی کیونکہ وہ بطور ادارہ سپریم کورٹ کے تسلسل کے ضامن ہوتے ہیں، تاہم اس روایت کو ترک کر دیا گیا ہے جس کے ادارے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔



Source link