تحریک عدم اعتماد: ’وزیر اعظم عمران خان کو کہا ہے سندھ میں گورنر راج لگا دیں‘: شیخ رشید

17 مار چ 2022، 19:48 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 2 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کی تجویز دی ہے۔

شیخ رشید نے جمعرات کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اس تجویز پر فیصلہ کرنا یا نہ کرنا وزیر اعظم کا کام ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’عمران خان سے کہا ہے کہ سندھ نے جو خرید و فروخت کی ہے ہمیں سندھ میں گورنر راج نافذ کر دینا چاہیے، یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔‘

خیال رہے ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب جمعرات کو پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز پر تحریک انصاف کے رہنما راجہ ریاض نے یہ دعویٰ کیا کہ اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں دو درجن حکومتی ایم این اے موجود ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان گذشتہ چند دنوں سے اپوزیشن پر ہارس ٹریڈنگ کرنے اور اراکین اسمبلی کو پیسے دے کر وفاداریاں بدلنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

جمعرات کی شام کو ہی پاکستان تحریک انصاف کے وزرا نے سندھ ہاؤس میں موجود حکومتی ایم این اے کے نام سامنے آنے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید کی جانب سے وزیر اعظم کو سندھ میں گورنر راج لگانے کی تجویز پر کہا ہے کہ شیخ رشید نے بطور ایک اتحادی اور وزیرِ داخلہ کے طور پر گورنر راج کی تجویز دی ہے اس پر غور کریں گے۔

اس معاملے پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ملک کے وزیر داخلہ کی جانب سے ایسی تجویز آنا اہم ہے اور اس پر ہم غور کریں گے۔‘حکومت کی جانب سے اتحادیوں کی حمایت کے متعلق بات کرتے ہوئے حکومتی وزرا کا کہنا تھا کہ ہم اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کی کوشش میں ہیں اور اس سلسلے میں ہم کسی سے پیسوں یا وزارتوں کے لیے سودے بازی نہیں کریں گے، باقی اگر کوئی اپنے وزیراعظم سے ملنا چاہے تو مل سکتا ہے۔‘

اپوزیشن اراکین اور تحریک انصاف کے رہنما راجہ ریاض کے سندھ ہاؤس پر ممکنہ پولیس ایکشن کے خدشات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘ہم کوئی پولیس ایکشن نہیں کر رہے، کوئی پولیس نہیں بھیج رہے اور جو اپنے ضمیر سے ووٹ دینے آنا چاہتے ہیں وہ شوق سے آئیں۔ کیونکہ یہ پیسوں کی لالچ میں گئے ہیں تو یہ جانیں اور ان کے علاقے جانیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘جو آٹھ سے بارہ لوگوں کی بات ہو رہی تھی، آج سندھ ہاؤس ایکسپوز ہو گیا ہے۔ سندھ کے لوگوں کے پیسوں سے 20 20 کروڑ روپے میں لوگوں کو خریدا جا رہا ہے۔ آج سارے دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ چور لوٹی دولت کو پچانے کے لیے کبھی قومی حکومت، کبھی ٹیکنوکریٹ حکومت کی بات کر رہے ہیں۔‘

وفاقی وزرا

،تصویر کا ذریعہPID.GOV.PK

اقتدار کے لیے وزارتوں کی سودے بازی نہیں کریں گے

وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا ہے کہ اپنے اقتدار کے لیے سودے بازی نہیں کریں گے، ہم اپنے اقتدار کے لیے وزارتیں نہیں بانٹیں گے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزرا اسد عمر اور فواد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ ‘ اپنے ووٹر اور پاکستان کے لیے سیاست کریں گے، اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں رہیں گے لیکن کسی قسم کی سودے بازی نہیں ہو گی، صرف ملک کی خاطر ہم ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

’واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم چاہیں تو حکومت کے پاس اربوں روپے ہیں اور اربوں روپے دے کر 12 کیا ان کے آدھے سے زیادہ اراکین اسمبلی خرید سکتے ہیں کیونکہ یہ سب اسی کام کے شوقین ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ اور اتحادی ملک اور قوم کے لیے بہتر فیصلہ کریں گے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ عمران خان کو قوم نے وزیراعظم بنایا ہے اور پاکستان تحریک انصاف آخری وقت تک مقابلہ کرے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسی سیاست عمران خان نے نہ کبھی کی ہے اور نہ آئندہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کل بھی اسی اصول اور نظریے پر کھڑے تھے اور آج بھی اسی نظریے پر کھڑے ہیں اور کل بھی اسی اصول اور نظریے پر کھڑے رہیں گے، چاہے کچھ بھی ہوتا رہے اور جتنی بھی ویڈیوز چلتی رہیں، عمران خان اپنے نظریے سے نہیں ہٹے گے۔

انھوں نے کہا کہ کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ تحریک انصاف پوری طرح مقابلہ جاری رکھے گی اور آخری وقت تک جاری رکھے گی مگر فرق یہ ہے کہ ہم جو بھی کریں گے وہ قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے کریں گے۔ آئین اور قانون کے دائرے کے اندر ہمیں جو بھی حق حاصل ہے، وہ ہم استعمال کریں گے۔

اسد عمر نے کہا کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ پتہ چلے گا کہ ہم کیا اقدامات کر رہے ہیں، کوئی غیر قانونی کام نہیں کریں گے جو یہاں ہو رہا ہے، سندھ سے پولیس کو لایا جارہا ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ بیرونی ملک سے کوئی حملہ ہونے جا رہا ہے اور وہاں سے ہتھیار بند سپاہیوں کو لایا جارہا ہے، یہاں نوٹوں کے پورے بکسے لائے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ساری قوم دیکھ رہی ہے کہ یہ لوگ جمہوریت کا صرف نام استعمال کرتے ہیں، جمہوریت کے نام پر کاروبار کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 27 مارچ کو ہمارا جلسہ ہونے جا رہا ہے، ہم اس کی اور عدم اعتماد کے لیے بھی پوری تیاری کر رہے ہیں، ایک طرف عوام کا بھی فیصلہ آئے گا اور ان کی عدم اعتماد کی تحریک کو بھی ہم ناکام بنائیں گے۔



Source link