جنوبی افریقہ میں خواتین کو متعدد شادیوں کی اجازت دینے کی تجویز، مذہبی حلقے نالاں

  • پومزا فہلانی
  • بی بی سی نیوز جوہانسبرگ

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جنوبی افریقہ کی حکومت کی طرف سے ’پولی اینڈری‘ یعنی ایک وقت میں ایک خاتون کو ایک سے زائد افراد کے ساتھ شادی کو جائز قرار دینے کی تجویز پر ملک میں موجود قدامت پسند حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے کو آیا ہے۔ پولی اینڈری کے مضمون پر مہارت رکھنے والے پروفیسر کولس ماچوکو کے لیے کوئی زیادہ حیرت کی بات نہیں ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس تجویز پر اعتراض کا مقصد عورت پر کنٹرول ختم ہونے کا ہے۔ ان کے مطابق افریقی معاشرے صیحح معنوں میں مساوات کے قائل نہیں ہیں۔ ہمیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ایسی خواتین کے ساتھ کیا کریں جن پر ہمارا بس نہیں چلتا۔ جنوبی افریقہ کا آئین دنیا کا ایک لبرل ترین آئین ہے، جو ہم جنس پرستوں کی شادی کو جائز قرار دیتا ہے اور مردوں کے لیے زیادہ شادیوں کی بھی اجازت دیتا ہے۔کاروباری شخصیت اور ٹی وی پروگرام کے میزبان موسیٰ مسیلیکو جن کی چار بیویاں ہیں بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو خواتین کے لیے زیادہ شادیوں کی اس تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ چیز افریقی ثقافت کو تباہ کر دے گی۔ ان لوگوں کے بچوں کا کیا بنے گا؟ وہ اپنی شناخت کے بارے میں کیسے جان سکیں گے۔ اب خواتین مرد کا کردار بھی ادا کر سکیں گی۔ یہ پہلے کسی نہیں سنا ہوگا۔ اب کیا خواتین لا بولا یعنی برائیڈ پرائس بھی ادا کریں گی۔ کیا مرد اس عورت کے خاندانی نام کو اپنے نام کے ساتھ لکھ سکیں گے؟

خفیہ اجتماعات

پروفیسر کولس ماچوکو نے اپنے آبائی ملک زمبابوے میں پولی اینڈری سے متعلق تحقیق کی ہے۔ انھوں نے کوئی 20 خواتین سے اس متعلق بات کی ہے اور ایسے 45 مردوں سے بات کی ہے جو ایسی خواتین کے شوہر ہیں جن کی ایک سے زیادہ شادیاں ہوئی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسی شادیاں معاشرے میں باعث شرم سمجھی جاتی ہیں اور قانون میں بھی ان کی گنجائش نہیں ہے۔

ایسے میں ایک عورت چھپ کر ایک سے زائد مردوں سے شادی کرتی ہے۔ جب وہ کسی ایسے شخص سے ملتی ہیں جس پر انھیں اعتماد نہیں ہوتا یا اس کے بارے میں وہ کچھ جانتی نہیں ہیں تو ایسے میں وہ سرے سے ایسی شادیوں سے ہی انکاری ہو جاتی ہیں۔

اس انکار کا مقصد سخت ردعمل سے بچنا ہوتا ہے۔

Musa Mseleku surrounded by his four wives

،تصویر کا ذریعہMusa Mseleku

،تصویر کا کیپشن

موسیٰ مسیلیکو اپنی چار بیویوں کے ساتھ

پروفیسر کولس ماچکو کی تحقیق میں ایسے لوگ شامل ہیں جو علیحدہ رہتے ہیں مگر وہ اس قسم کے پولی اینڈریس قسم کے اجتماعات میں شریک ہونے کے لیے پرعزم ہیں اور وہ آپس میں ایسی شادیوں کے قائل ہیں۔

پروفیسر کولس کے مطابق ایک خاتون نے یہ نظریہ اس وقت ذہن نشین کر لیا تھا جب وہ سکول میں چھٹی جماعت کی طالبعلم تھیں یعنی اس وقت ان کی عمر محض 12 برس تھی۔ انھوں نے جب دیکھا کہ شہد کے چھتے میں مکھیوں کی ملکہ کے ایک سے زائد شوہر ہوتے ہیں۔

جب وہ بالغ ہوئیں تو انھوں نے زیادہ دوستوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر لیا، جو سب ایک دوسرے سے واقف تھے۔ اس خاتون کے موجودہ چار خاوند ان نو افراد میں شامل ہیں جن سے وہ جنسی تعلقات قائم کیے ہوئے تھیں۔

پولی اینڈری میں عورت ہی اکثر تعلقات قائم کرنے میں پہل کرتی ہے اور اپنے دیگر شوہروں کو بھی اپنی شادی میں مدعو کرتی ہے۔ ان میں سے کچھ برائیڈ پرائس ادا کرتے ہیں جبکہ دوسرے اس کی زندگی کی ضروری اشیا کے لیے حصہ ڈالتے ہیں۔

وہ ایسے شوہر کو طلاق دے سکتی ہے جس کے بارے میں اس کا خیال ہو کہ وہ دیگر مردوں کے ساتھ اس کے جنسی تعلقات کو خراب کر رہا ہے۔

پروفیسر کولس کے مطابق جن مردوں کا انھوں نے انٹرویو کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ محبت کی وجہ سے ایسی شادی پر راضی ہوئے تھے۔ بس وہ اپنی محبت کو کھونا نہیں چاہتے تھے۔

کچھ مردوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیگمات کو جنسی اطمینان فراہم نہیں کر سکتے تھے اور ایسے میں طلاق دینے اور دوسرے مردوں سے تعلقات قائم کرنے کے بجائے نئی شادی کی اجازت دی۔

ایک اور وجہ بانجھ پن تھی۔ کچھ مردوں نے اپنی بیگمات کو مشورہ دیا کہ وہ کسی اور سے بھی شادی کر لیں تاکہ اس کے بچے ہو سکیں۔ اس طرح مرد بھی اپنی عزت بچا لیتے ہیں اور لوگوں کی نظروں میں داغدار ہونے سے بچ جاتے ہیں کہ وہ بچے نہیں جن سکتے۔

حکومتی تجویز پر مذہبی پیشوا نالاں

پروفیسر کولس کے مطابق وہ جنوبی افریقہ میں پولی اینڈریس شادیوں سے بے خبر تھے۔ سب کے حقوق کی بات کرنے والے سماجی کارکنوں نے حکومت سے کہا کہ اس طرح کی شادیوں کو جائز قرار دیا جائے تاکہ معاشرے میں برابری اور پسند کو یقینی بنایا جا سکے کیونک قانون پہلے ہی ایک مرد کو ایک سے زائد شایوں کی اجازت دیتا ہے۔

Illustration

ان کی تجویز کو ایک دستاویز میں شامل کیا گیا ہے، جسے باضابطہ طور پر گرین پیپر کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے کہ حکومت نے عوامی تبصرے کے لیے جاری کیا ہے کیونکہ اس چیز نے سنہ 1994 میں سفید فام اقلیت کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد شادی بیاہ کے قوانین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متعارف کروانے پر زور دیا ہے۔

خواتین کے حقوق کا دفاع کرنے والی قانونی فرم ویمن لیگل سینٹر کی وکیل چارلن مے کے مطابق یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ گرین پیپر انسانی حقوق کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور ہم اس سے صرف نظر نہیں کر سکتے۔

ان کے مطابق ہم اس وجہ سے اصطلاحات کو مسترد نہیں کر سکتے کہ یہ ہمارے پدر شاہی معاشرے کے کچھ تصورات کو زک پہنچاتے ہیں۔ ان دستاویزات میں مسلمانوں، ہندوؤں، یہودیوں اور راستافیرین مذہب والوں کے شادی کے تصورات کو بھی قانونی حق دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

اگرچہ ان مذاہب کے پیروکاروں نے اس کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا ہے لیکن پارلیمنٹ میں نشستیں رکھنے والے مذہبی پیشواؤں کی طرف سے پولی اینڈری کو قانونی حیثیت دینے کی تجویز کی مذمت کی گئی ہے۔

حزب اختلاف کی افریقن کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی (اے سی ڈی پی) کے رہنما ریورنڈ کینتھ میشو نے کہا ہے کہ یہ چیز معاشرے کو تباہ کر دے گی۔

ان کے مطابق پھر ایسا وقت بھی آئے گا کہ ایک مرد اپنی اہلیہ سے کہے گا کہ آپ مجھ سے زیادہ دوسرے مرد کے ساتھ وقت گزارتی ہیں۔ اور یہ چیز دو مردوں کے درمیان تضاد پیدا کرے گی۔

اسلامی الجماع پارٹی کے رہنما گنیف ہینڈرکس کا کہنا ہے کہ آپ تصور کرسکتے ہیں کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو یہ معلوم کرنے کے لیے کہ والد کون ہے اس کے متعدد ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت پیش آئے گی۔

ایک فیملی کے بچے

موسیٰ مسیلیکو نے جنوبی افریقی عوام پر زور دیا کہ وہ مساوات کے اصول کے ایسے انوکھے معنی نہ نکالیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ بات جب آئین کا حصہ بن جائے گی تو ہمارے لیے اچھی ہو جائے گی۔

A person having a DNA test

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب ان سے پوچھا گیا کہ عورتوں کے لیے اس سے مختلف کیوں ہونا چاہیے جبکہ ان کی اپنی چار بیویاں ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ میری شادیوں کی وجہ سے مجھے منافق کہا جاتا ہے لیکن میں خاموش رہنے کے بجائے اب بات کروں گا۔

ان کے مطابق سیدھی سی بات یہ ہے کہ یہ بات غیر افریقی قسم کی ہے۔ ہم اپنی شناخت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ مگر پروفیسر کولس ماکوچو کا کہنا ہے کہ کبھی پولی اینڈری کا کینیا، کانگو اور نائیجیریا میں بھی رواج پایا جاتا تھا۔ اور گیبون میں ابھی بھی قانون ایسی شادیوں کی اجازت دیتا ہے۔

مسیحیت اور نوآبادیات کی آمد کے ساتھ ہی عورت کا کردار معمولی رہ گیا۔ اب مرد اور عورت کی برابری ختم ہو چکی ہے اور شادی کو محض پدرشاہی کو پروان چڑھانے کا ایک طریقہ سمجھ لیا گیا ہے۔

پروفیسر کولس ماچوکو کے مطابق بچوں سے متعلق جنم لینے والے اعتراض کا تعلق بھی پدرشاہی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ بچوں سے متعلق اعتراض کا ایک سادہ جواب ہے کہ ایسی شادیوں سے جو بھی بچے پیدا ہوتے ہیں وہ ایک اس خاندان کے ہی بچے ہیں۔



Source link

Leave a Reply