جوہر ٹاؤن: لاہور میں حافظ سعید کے گھر کے نزدیک بم دھماکے پر مقدمہ درج، تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی

23 جون 2021

اپ ڈیٹ کی گئی 8 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہReuters

پاکستان میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں بدھ کو جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے مکان کے نزدیک ایک بم دھماکہ پیش آیا۔ محکمۂ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے مطابق اس میں پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک اور کم از کم 24 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سی ٹی ڈی نے دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ سات سمیت دیگر دفعات کے تحت اس واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نامعلوم ملزمان نے ’بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد ایک کار میں رکھ کر دھماکہ کیا۔‘

اطلاعات کے مطابق دھماکے سے قریبی گھروں اور گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دھماکے کی جگہ پر گہرا گڑھا پڑچکا تھا۔۔۔ گھروں کے اندر اور باہر گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔‘

یاد رہے کہ کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید احمد مختلف مقدمات کے تحت جیل میں قید ہیں۔ انھیں گذشتہ برس لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے تین مختلف مقدمات میں گیارہ برس قید کی سزا سنائی تھی۔

واقعے کے بعد سی ٹی ڈی اور بم ڈسپوزل سکواڈ کی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے اور اس علاقے میں سکیورٹی کی نفری بڑھا دی گئی۔

’دھماکے کا ہدف قانون نافذ کرنے والے اہلکار تھے‘

سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس اہلکار سمیت تین افراد کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ زخمیوں کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔

کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان یونس نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے مقام پر ایک گڑھا پڑ گیا ہے اور اس مقام کے نزدیک ایک تباہ شدہ گاڑی اور ایک موٹر سائیکل کھڑی پائی گئی۔

لاہور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر موجود پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) انعام غنی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ بم دھماکہ تھا جس کا ’ہدف وہاں پر موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ یعنی سی ٹی ڈی پنجاب نے مکمل طور پر واقعے کی تحقیقات سنبھال لی ہیں۔

‘سی ٹی ڈی کے ماہرین یہ معلوم کریں گے کہ دھماکے کی نوعیت کیا تھی اور کیا یہ کوئی خودکش حملہ تھا یا نہیں۔ ہم جلد اس کے ذمہ داران تک پہنچ جائیں گے۔’

لاہور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب آئی جی پنجاب انعام غنی سے حافظ سعید کے مکان کی موجودگی اور اس پر ممکنہ حملے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے تصدیق کی کہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ کا مکان نزدیک ہی ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ وہاں تک جانے کے راستے میں پولیس کی رکاوٹیں تھیں جس کی وجہ سے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی گاڑی مکان کے قریب نہیں پہنچی اور اب تک کا ابتدائی تجزیہ یہی ہے کہ حملہ پولیس پر کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ حملے کے نتیجے میں جن مکانات کو نقصان پہنچا ہے ان کی تلافی کی جائے گی۔

حملے کی ذمہ داری کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک عناصر پاکستان کو ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے اس لیے یہاں کہ امن و امان کے خلاف ایسی کارروائیاں ہوتی ہیں۔

دھماکے کے مقام پر عینی شاہدین نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ دھماکہ اس قدر زور دار تھے کہ قریبی کئی گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے اور اس کے قریب واقع کئی گھروں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

ایک عینی شاہد خاتون نے ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں دھماکے کے مقام پر ایک موٹر سائیکل کو کھڑے دیکھا تھا۔ ان کا دعوٰی تھا کہ قریب موجود پولیس نے اس موٹر سائیکل کر چیک کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

‘وہی موٹر سائیکل دھماکے سے پھٹی تھی۔ انھوں نے اس کو چیک کیوں نہیں کیا۔ میں نے تین مرتبہ اس کو اس گھر کے سامنے کھڑے ہوئے دیکھا تھا۔’

تاہم بعد ازاں واقعے پر درج مقدمے میں کہا گیا کہ دھماکہ خیز مواد ایک کار میں موجود تھا۔

دھماکے کی تحقیقات کا حکم

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی جوہر ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی۔

ادھر پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے دھماکے کے زخمی افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔

انھوں نے جوہر ٹاؤن میں دھماکے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) انعام غنی سے رپورٹ طلب کرلی اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

لاہور

وزیرِاعلیٰ پنجاب نے جناح اسپتال اور دیگر اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت بھی کر دی۔

شہباز شریف کی دھماکے کی مذمت

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی لاہور میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں پر اپنے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ایک بیان کے مطابق انھوں نے کہا کہ پنجاب کے دارالحکومت میں یہ واقعہ ’آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے‘ اور وہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ’امن و امان کی بگڑتی صورتحال توجہ کی متقاضی ہے۔‘



Source link

Leave a Reply