جو بائیڈن اور پوتن کے ملاقات: مشترکہ مقاصد کے حصول میں پیش رفت کے لیے تعاون کا عزم

16 جون 2021، 19:36 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 56 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان بدھ کو جنیوا میں ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں صدور نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس ملاقات کو معنی خیز قرار دیا ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ‘تناؤ سے بھرپور عرصے میں بھی’ مشترکہ مقاصد کے حصول میں پیش رفت کر سکتے ہیں۔

دونوں صدور کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس اور امریکہ کے تعاون سے آپسی تنازعات اور جوہری جنگ کے خدشے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

اپنی پریس بریفنگ میں دونوں رہنماؤں نے متعدد موضوعات پر گفتگو کی جس میں انسانی حقوق، جوہری ہتھیار اور سائبر سکیورٹی وغیرہ بھی شامل تھے۔

جو بائیڈن تجربہ کار سیاستدان ہیں

صدر پوتن نے کہا کہ روس نے امریکہ کو مبینہ سائبر حملوں کے متعلق ’تفصیلی معلومات فراہم‘ کی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکہ نے اب تک اس پر جواب نہیں دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ وہ اور صدر بائیڈن سائبر سکیورٹی پر ’بحث کے لیے پرعزم‘ ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ سائبر سکیورٹی دونوں ممالک کے لیے اہم ہے اور اُنھوں نے حال ہی میں امریکہ میں ایک تیل کی پائپ لائن سسٹم اور روس میں ایک طبی نظام پر سائبر حملے کی جانب اشارہ کیا۔

صدر پوتن کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن ’تجربہ کار سیاستدان‘ ہیں اور یہ بھی کہا کہ ’وہ صدر ٹرمپ سے بہت مختلف ہیں۔‘

ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے امریکہ میں اسلحے کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے لیے امریکی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ’ہمارے ملکوں میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کے ذمہ دار لیڈر خود ہوتے ہیں۔ آپ امریکہ کی سڑکوں کو دیکھیں، روز لوگ مرتے ہیں۔ آپ منھ بھی نہیں کھول پاتے کہ آپ کو گولی مار دی جاتی ہے۔`

اُنھوں نے کہا کہ ’دنیا بھر میں سی آئی اے کے خفیہ عقوبت خانوں میں لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ کیا ایسے انسانی حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے؟`

Russian President Vladimir Putin and U.S President Joe Biden shake hands during their meeting at Villa la Grange in Geneva, Switzerland June 16, 2021.

،تصویر کا ذریعہReuters

امریکہ کے ساتھ ہوں، روس کے خلاف نہیں

اُن کے بعد امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے پریس کانفرنس کی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہیں، روس کے خلاف نہیں۔

’جہاں کہیں بھی اختلاف ہیں، وہاں میں چاہوں گا کہ صدر پوتن سمجھیں کہ میں جو کہتا ہوں وہ کیوں کہتا ہوں، اور جو کرتا ہوں وہ کیوں کرتا ہوں۔ میں نے صدر پوتن کو بتایا ہے کہ میرا ایجنڈا روس یا کسی اور کے خلاف نہیں بلکہ امریکی عوام کے حق میں ہے۔`

صدر بائیڈن نے کہا کہ انسانی حقوق امریکیوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ ’ہمیشہ ایجنڈے پر رہیں گے۔‘

جب صدر جو بائیڈن سے پوچھا گیا کہ اُنھوں نے امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت روکنے کے لیے کیا کیا ہے، تو اُن کا کہنا تھا کہ ‘پوتن جانتے ہیں کہ اس کے نتائج ہوں گے۔’

اُنھوں نے کہا کہ روس ’بے تابی سے بطور عالمی قوت اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

بائیڈن نے کہا کہ مسلسل مداخلت کی ’وہ یہ قیمت چکائیں گے‘ کہ یہ حیثیت ختم ہو جائے گی۔

جنیوا میں ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات بھی کم درجے پر ہیں اور دونوں ممالک اپنے سفیروں کو واپس بلا چکے ہیں، تاہم اپنی پریس کانفرنس میں صدر پوتن نے کہا کہ صدر جو بائیڈن سے ملاقات میں سفیروں کی واپسی طے پا گئی ہے۔

توقع کی جا رہی تھی کہ ملاقات میں اقتصادی پابندیوں، سائبر حملوں اور انتخابات میں مداخلت کے موضوعات پر بات چیت ہو گی۔

دونوں صدور کے مابین ملاقات کے لیے مقام کا انتخاب دلچسپی سے خالی نہیں۔ 1985 میں جب سرد جنگ کے عروج پر تھی تب امریکی صدر رونلڈ ریگن اور سوویت یونین کے رہنما میخائل گورباچوف کی جنیوا میں ملاقات ہوئی تھی۔

Ronald Reagan and Mikhail Gorbatchev in 1985

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

1985 میں صدر رونلڈ ریگن اور سوریت رہنما میخائل گورباچوف کا ملاقات کا ایک منظر

امریکہ اور روس کے سفارتی تعلقات کم ترین سطح پر ہیں اور دونوں ممالک میں کسی کا بھی سفیر دوسرے ملک میں موجود نہیں۔

روس نے حال ہی امریکہ کو ’غیر دوستانہ‘ ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

البتہ امریکی صدر نے کہا ہے کہ تعلقات میں ’استحکام‘ اور ’غیریقینی‘ کی فضا کو ختم کرنے کے لیے اس ملاقات کی اہمیت ہے۔ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے روس کے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ کچھ معاملات ایسے ہیں جن پر مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔

البتہ روسی صدر کے خارجہ امور کے مشیر یوری اشاکوف نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’پرامیدی‘ کی زیادہ گنجائش نہیں۔

ایک سینئر امریکی اہلکار سے جب پوچھا گیا کہ صدر بائیڈن اور روسی صدر مل کر کھانا کھائیں گے تو امریکی اہلکار نے بتایا کہ ایسا نہیں ہو گا۔

Flags of the US and Russia wave on the Mont Blanc bridge, a day prior to the US-Russia summit in Geneva, Switzerland, 15 June 2021.

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

جینوا میں امریکہ اور روس کے پرچم لہرائے جا چکے ہیں

صدر جو بائیڈن ایک بار پہلے روسی صدر سے بطور نائب امریکی صدر ملاقات کر چکے ہیں۔

جنیوا میں امریکہ اور روس کے جھنڈے لہرائے جا چکے ہیں۔ مسلح پولیس سپیڈ بوٹس میں جنیوا لیک میں اپنی پوزیشنیں سنبھال چکے ہیں۔ لیک کو تمام سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

یہ ملاقات ’دوستانہ‘ ماحول میں نہیں ہو گی۔ امریکی صدر نے کچھ عرصہ پہلے روسی صدر کو ’بے رحم قاتل‘ قرار دیا تھا۔

اسی طرح روس کے ٹی وی سٹیشن نےآج اپنی ایک رپورٹ میں صدر جو بائیڈن کی جہاز کی سیڑھیوں سے بحفاظت نیچے اترنے کی تعریف کی ہے۔

دونوں رہنماؤں کے پاس بات چیت کے لیے اسلحہ کی تخفیف، سائبر سیکورٹی اور نئے میدان جنگ سمیت کئی موضوعات ہیں۔

امریکہ کے پاس انسانی حقوق کے حوالے سے شکایات کی لمبی فہرست ہے جسے صدر پوتن رد کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔

صرف قیدیوں کی تبادلے کے حوالے سے کسی پیشرفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ امریکہ اپنے فوجی پال ویلن کی رہائی چاہتا ہے جو روس میں جاسوسی کے الزامات پر سزا پا چکے ہیں، جبکہ روس بھی ماضی میں قیدیوں کے تبادلے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

دونوں ملکوں کے مابین ’سفارتی جنگ‘ کو روکنے کے لیے شاید کوئی معاہدہ طے پا جائے اور دونوں ملک اپنے سفیروں کو واپس اپنے عہدوں پر بھیج دیں۔

اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں کوئی نیا موڑ نہیں آئے گا اور دونوں ملکوں کی عداوت کے ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے لیکن یہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے لیے موقع ہے کہ وہ آمنےسامنے بیٹھ کر کھلے انداز میں اپنے خدشات پر بات چیت کر سکیں اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچا لیں۔

line

بڑے موضوعات کیا ہیں؟

سفارتکاری

امید کی جا رہی ہے کہ دونوں فریق سفیروں کو واپس بلانے کے معاملے پر بات کریں گے۔ امریکہ حالیہ برسوں میں درجنوں روسی سفارت کاروں کے ملک سے نکالنےکے علاوہ روسی سفارت خانے کے دو احاطوں کو بند کر چکا ہے ۔ اسی طرح روس نے بھی امریکی سفارت خانے پر مقامی لوگوں کو بھرتی کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی اور امریکی سفارتی عملے کو کم ویزے جاری کیے تھے۔

تخفیف اسلحہ

حکام کا خیال ہے کہ تخفیف اسلحہ کے معاہدےکے حوالے سے کچھ معاملات پر پیشرفت ہو سکتی ہے۔ روس نے رواں برس فروری میں جوہری اسلحہ کے حوالےسے معاہدے میں توسیع کی تھی۔ روس چاہتا ہےکہ اس میں مزید توسیع کر دی جائے۔

سائبر حملے

توقع کی جا رہی ہے کہ صدر جو بائیڈن روسی ہیکروں کے سائبر حملوں کے حوالے اپنے خدشات کا اظہار کریں گے۔ صدر پوتن ان حملوں میں روس کے ملوث ہونے سے انکار کر چکے ہیں۔

امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ صدر پوتن اس کی تردید کرتے ہیں۔

قیدیوں کا تبادلہ

روسی جیلوں میں قید دو امریکی شہریوں کے خاندانوں نے سربراہ ملاقات سے پہلے قیدیوں کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھایا ہے۔ جب صدر پوتن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے بات چیت پر تیار ہوں گے تو ان کا جواب تھا: ’یقینا`۔

الیکسی نوالنی

روس اپوزیشن رہنما نوالنی کو زہر دینے اور اسے قید کرنے کو اندارونی معاملہ قرار دیتے ہیں جبکہ ایک سینئر امریکی اہلکار نے نوالنی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ تمام معاملات مذاکرات کی میز پر موجود ہوں گے۔

یوکرین

2014 میں روس کی طرف سے یوکرین کے علاقے کرائمیا کو اپنے ملک میں شامل کرنے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین تعلقات خراب ہو گئے تھے۔ حالیہ مہینوں میں ایک بار کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہو گیا تھا جب ایسی رپورٹس سامنے آئیں کہ روس کرائمیا میں اپنی فوجی طاقت کو بڑھا رہا ہے۔

روسی صدر نے یوکرین کے نیٹو اتحاد میں شمولیت کو تسلیم کرنے پر اپنی ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تھا۔

شام

توقع کی جا رہی ہے کہ صدر بائیڈن روسی صدر کو کہیں گے کہ شام میں امداد پہچانے کے لیے اقوم متحدہ کا واحد راستہ بند نہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ میں اس حوالے سے ووٹنگ ہونا ہے جہاں روس کو ویٹو کی طاقت حاصل ہے۔



Source link

Leave a Reply