حق کے لیے آواز اٹھانے والی افغان خاتون تمنا زریابی پریانی کو رہا کر دیا گیا ہے

33 منٹ قبل

،تصویر کا کیپشن

تمنا زریابی پریانی نے جنوری میں گرفتاری سے قبل ایک ویڈیو کے ذریعے مدد کی اپیل کی تھی

رواں سال جنوری کے مہینے میں افغانستان میں مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا کی جانے والی حقوقِ نسواں کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون کارکن کو رہا کر دیا گیا ہے۔

19 جنوری کو تمنا زریابی پریانی کو حقوق نسواں کے احتجاج میں حصہ لینے کے بعد کابل کے پروان-2 محلے میں ان کے اپارٹمنٹ سے ‘گرفتار‘ کر لیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ رہائی کے بعد ان کی صحت کے بارے میں علم نہیں ہے جبکہ تمنا کی جانب سے بھی تاحال کوئی عوامی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

گذشتہ سال افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے خواتین کے حقوق کو محدود کیے گئے ہیں۔

حالیہ مہینوں کے دوران خواتین کو تعلیم اور دفاتر یا کام کرنے کی جگہوں پر جانے سے روک دیا گیا ہے۔

تمنا پریانی نے درجنوں دیگر خواتین کے ساتھ مظاہروں میں حصہ لے کر ان اقدامات کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔

لیکن کچھ دنوں بعد جب مسلح افراد ان کے گھر انھیں گرفتار کرنے کے لیے پہنچے تو انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں مدد کی درخواست کی گئی تھی۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہEPA

ان کے لاپتہ ہونے کے بعد پڑوسیوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو‏ئنٹن سومروائل کو بتایا کہ تمنا پریانی کو ان کی دو بہنوں کے ساتھ لے جایا گیا تھا اور اس کے بعد سے کوئی بھی اس اپارٹمنٹ میں نہیں رہ رہا ہے۔ انھوں نے صرف اتنا کہا کہ ایک ‘مسلح گروپ’ انھیں لے گیا ہے۔ طالبان نے ان کی گرفتاری سے انکار کیا تھا۔

تمنا پریانی کی ‘گرفتاری‘ کے اگلے دن یعنی 20 جنوری کو بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، اقوام متحدہ میں طالبان کی سفیر بننے کے امیدوار سہیل شاہین نے کہا ‘اگر [طالبان] نے انھیں حراست میں لیا ہوتا تو وہ کہتے کہ انھوں نے انھیں حراست میں لیا ہے، اور اگر یہ الزام ہے تو وہ عدالت جائیں گے اور وہ اپنا دفاع کریں گے۔۔۔ یہ قانونی چیز ہے، لیکن اگر انھیں حراست میں نہیں لیا گیا ہے تو وہ بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے اس طرح کے جعلی سین بنا رہی ہیں اور فلمیں شوٹ کر رہی ہیں۔’

لیکن اس وقت تمنا پریانی کی ایک سہیلی نے ایک الگ ہی کہانی سنائی تھی۔

بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ‘میں نے ان سے کہا جتنا جلدی ممکن ہو اپنا گھر چھوڑ دیں، اس بات کو زیادہ سنجیدگی سے لیں کہ آپ خطرے میں ہیں۔۔۔ جب میں گھر پہنچی تو ایک دوست، ایک احتجاج کرنے والی دوست۔۔۔ میں اس کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ وہ رو رہی تھی کہ تمنا کو طالبان نے گرفتار کر لیا ہے اور اس نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی ہے۔’

واضح رہے کہ طالبان کے اقتدار پر قبضے سے قبل خواتین کو افغانستان میں قدرے زیادہ آزادی حاصل تھی۔ لیکن ان کے دور حکومت میں افغانستان دنیا کا واحد ملک بن گیا ہے جو عوامی طور پر صنف کی بنیاد پر تعلیم کو محدود کرتا ہے۔

اس مسئلے کو اجاگر کرنے والی خواتین کی طرف سے باقاعدہ احتجاج گروپ کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

سہیل شاہین

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu

اقوام متحدہ کی تشویش

افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر کا کہنا ہے کہ اسے دو افغان خواتین کی گمشدگی سے متعلق تشویش ہے، جو اپنے کام اور تعلیم جیسے حقوق کے لیے مظاہروں میں شریک ہوئیں۔ اقوام متحدہ نے طالبان رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ لاپتہ کی گئی خواتین سے متعلق معلومات دے۔

دنیا کے بیشتر ممالک طالبان کو افغانستان کا جائز حکمران تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ کابل پر مغربی ممالک کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی فاقہ کشی کا شکار ہو رہی ہے۔

طالبان کے دور حکومت میں افغانستان دنیا کا واحد ملک بن گیا ہے جو عوامی طور پر جنس کی بنیاد پر تعلیم کو محدود کرتا ہے، جو کہ طالبان کی قانونی حیثیت حاصل کرنے اور پابندیوں سے جان چھڑانے کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ اس مسئلے کو اجاگر کرنے والی خواتین کی طرف سے باقاعدہ احتجاج طالبان کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

اس سے قطع نظر کہ تمنا پریانی، ان کی بہنیں اور ان کے دوست کس کے پاس ہیں، طالبان افغان خواتین کو اجتماعی طور پر سزائیں دے رہے ہیں۔

گذشتہ 20 برسوں کے دوران یہاں کی خواتین نے زیادہ آزادانہ زندگی گزارنے کے لیے ثقافتی اور خاندانی تعصب کو ترک کر دیا ہے۔ کئی دہائیوں کی پیشرفت کو طالبان تباہ کرنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتے ہیں۔



Source link