حیدرآباد: ایک اور ٹرانسفارمر پھٹ گیا، ایک بچے سمیت سات ہلاک

  • علی حسن
  • صحافی، حیدرآباد

17 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد کے ایک گنجان آباد رہائشی علاقے میں ٹرانسفارمر پھٹنے کے نتیجے ایک بچے سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

گذشتہ شام حیدرآباد میں جھلسنے والے 17 افراد کو ان کے لواحقین علاج کے لیے کراچی لے گئے تھے۔

حیدرآباد کے برنز وارڈ کے انچارج ڈاکٹر محمد علی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہو جانے والے اکثر افراد بہت زیادہ جھلس گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ‘حیدرآباد میں برنز وارڈ میں آئی سی یو بھی موجود نہیں ہے جہاں ان لوگوں کو رکھا جاتا۔ بعض لوگ 100 فیصد جھلس چکے تھے جنھیں امریکہ میں بھی نہیں بچایا جا سکتا تھا۔‘

لیاقت میڈیکل ہسپتال کے ڈائریکٹر ایڈ منسٹریشن عبدالستار جتوئی کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے مشکل تھا کہ پچاس فیصد سے زائد جھلسے ہوئے مریضوں کو رکھا جاتا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ‘اس بارے میں لواحقین کو بتا دیا گیا تھا کہ ہمارے پاس پچاس فیصد سے زائد جھلسے ہوئے مریضوں کے سر دست علاج کی سہولت ہی نہیں ہے تاہم اس کے باوجود انتظامیہ نے تمام وسائل اور ڈاکٹر جمع کر لیے تھے۔

حیدرآباد میں بجلی سپلائی کرنے والے ادارے کے ترجمان صادق کمبھر کا کہنا ہے کہ حادثے میں ہیسکو کا عملہ بھی زخمی ہوا ہے جس میں سے ایک ملازم ہلاک ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عملہ مرمت کروا کے لانے والے ٹرانسفارمر کو نصب کر رہا تھا۔ اس کی تنصیب کے دو منٹ بعد ہی جیسے ہی بجلی بحال کی گئی ٹرانسفار کے نیچے والی پلیٹ پھٹ گئے۔

انھوں نے بتایا کہ اس میں سے تیل نکلا اور اس میں بھی آگ لگ گئی۔ اس جگہ موجود افراد میں جس جس پر تیل گرا یا اسے آگ لگی وہ تمام لوگ جھلس گئے تھے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ پولس نے ہیسکو ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جس کی تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ ٹرانسفارمر کے نیچے کی پلیٹ کس طرح پھٹی۔

حیدرآباد میں گذشتہ ایک ماہ میں ٹرانسفارمر پھٹ جانے کا یہ دوسرا ایسا واقعہ ہے جس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہاں ٹرانسفارمر پھٹنے کے واقعات اب ایک معمول بن چکے ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ اتوار کو پیش آنے والا واقعہ گنجان آباد بستی اسلام آباد میں پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں جھلس جانے والوں میں سے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مقامی ذرائع کے مطابق اب یہ معمول بن چکا ہے کہ جس علاقے میں ٹرانسفارمر پھٹتا ہے وہاں ہیسکو کا متعلقہ عملہ علاقہ مکینوں سے اس کی مرمت کے لیے چندہ جمع کرتا ہے اور بعض مرتبہ تو کئی کئی دن بعد مرمت کے بعد دوبارہ نصب کیا جاتا ہے۔

مختلف علاقوں میں ٹرانسفارمر پھٹ جاتے ہیں جس کی وجہ ہیسکو کا عملہ یہ بتاتا ہے کہ ٹرانسفارمر کی صلاحیت سے زیادہ بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔



Source link

Leave a Reply