خواتین پر گھریلو تشدد: ‘میرے شوہر اور سسرال نے ہاتھ پاؤں باندھ کر میرا اسقاط حمل کروایا‘

  • ترہب اصغر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

8 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

’شادی کے فوراً بعد ہی مار پیٹ اور گالم گلوچ شروع ہو گئی۔ اس میں صرف میرے شوہر ہی نہیں بلکہ سسرال والے بھی شامل تھے۔ میں نے دو، ڈھائی سال یہ سب برداشت کیا۔ لیکن پھر میری ہمت اس دن ختم ہو گئی جب ان لوگوں نے میرے پیٹ میں موجود میری بیٹی کا قتل کر دیا۔‘

گھریلو تشدد کا نشانہ بننی والی انیلہ (فرضی نام) نے جب اپنی کہانی بی بی سی کو سنانا شروع کی تو اُن کی آنکھیں میں آنسو بھر آئے۔

’میری اور میری بڑی بہن کی شادی سنہ 2018 میں ہماری خالہ کے بیٹوں سے ہوئی۔ شادی کے پہلے ہی دن سے ان کا رویہ کچھ ٹھیک نہیں تھا۔‘

حالیہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بارے میں قانون سازی بھی کی گئی ہے لیکن ان قوانین کی کمزور عملداری کے سبب ایسے متعدد معاملات میں سزائیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

انیلہ کو بھی شوہر اور سسرال کے تشدد کے ساتھ ساتھ پولیس اور قانون کی کمزور عملداری کا سامنا رہا ہے۔ وہ بتاتی ہیں اُن کے ملزمان کو سزا تو دور کی بات ابھی تک اس معاملے میں اُن کے شوہر اور سسرال کے خلاف ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی ہے۔

گھریلو تشدد کی اپنی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’میری پہلی بیٹی نابینا اور ذہنی طور پر معذور پیدا ہوئی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں پہلی بار حاملہ تھی تو ایک مرتبہ میرے شوہر نے میرے پیٹ میں مکے مارے اور سسرال والوں نے مجھے سیٹرھیوں سے دھکا بھی دیا تھا۔‘

’جب میری پہلی بیٹی ایک سال کی ہوئی تو میں دوبارہ حاملہ ہو گئی جس کے بعد میرے سسرال والوں نے مجھے دوایاں کھلا کر میرا حمل ضائع کروایا۔ اس واقعے کے تین ماہ بعد میں دوبارہ حاملہ ہو گئی۔ اس مرتبہ میرے شوہر اور سسرال کو امید تھی کہ بیٹا ہو گا۔‘

وہ مزید بتاتی ہیں کہ ’میرے حمل کے چھٹے مہینے میں میرے سسرال والوں نے الٹرا ساونڈ کروایا تو پتا چلا کہ اس بار بھی بیٹی ہے جس کے بعد انھوں نے مجھے پھر اپنا حمل ضائع کروانے کا کہا گیا مگر میں نے انکار کر دیا۔‘

’میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسقاط حمل کیا‘

حمل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انیلہ اپنے اوپر ہونے والے گھریلو تشدد کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ اُن کے شوہر اور سسرال کو بیٹے کی خواہش نے ’اندھا‘ کر دیا تھا۔

’اس کے بعد میری ساس اور شوہر نے لاہور کے ایک ہسپتال سے میرے اسقاط حمل کے لیے بات کی۔ ہسپتال والوں نے کہا کہ یہ لڑکی بہت کمزور ہے اور اس کی جان بھی جا سکتی ہے۔ اس لیے ہم یہ نہیں کر سکتے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’اس کے چند دن بعد میرے شوہر اور سسرال والوں نے مجھے میلسی میں میری ممانی کے گھر دعوت پر جانے کا کہا۔ میری ممانی ایک دائی ہیں۔ میں وہاں چلی گئی اور وہاں جا کر انھوں نے میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر زبردستی میرا ابارشن کر دیا۔ میں اس وقت چیخی چلائی لیکن میری فریاد سننے والا کوئی نہ تھا۔‘

وہ اس ذہنی اور جسمانی اذیت کے واقعے کے متعلق بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’مجھے آج بھی وہ تکلیف یاد ہے۔ یہ واقعہ گذشتہ برس نومبر کا ہے۔ پانچ ماہ گزرنے بعد بھی بھی میرے زخموں سے خون اور پس (پیپ) رستی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس واقعے کے بعد وہ مجھے میرے والدین کے گھر کے پاس ایک سٹرک پر چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔ انھوں نے میرا حمل ضائع کیا جس کے لیے میں انھیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘

تشدد اور زبردستی اسقاط حمل کے باوجود پولیس نے ایف آئی درج نہیں کی

حمل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انیلہ کا کہنا ہے کہ جسمانی تشدد اور زبردستی اسقاط حمل کرنے جیسے فعل کے بعد بھی جب انھوں نے پولیس سے رابطہ کیا تو اُن کی شکایت پر پولیس نے ان کے شوہر اور سسرال کے خلاف ایف آر درج نہیں کی۔

‘اس واقعے کی رپورٹ درج کروانے کے لیے میں نے پولیس سے رابطہ کیا تو پہلے بتایا گیا کہ آپ شاہدرہ تھانے میں جائیں کیونکہ میرے سسرال کا گھر وہاں ہے۔ جب میں وہاں گئی تو پہلے تو انھوں نے میری بات ہی نہیں سُنی۔ کافی دیر میری منت سماجت کے بعد انھوں نے میری درخواست لی۔‘

’میں نے پولیس کو سارا واقعہ بتایا تو انھوں نے کہا کہ آپ کو بلائیں گے۔ اگلے دن پولیس کے بلانے پر میں اپنی وکیل کے ساتھ تھانے گئی تو سامنے میرا شوہر اور سسرال والے بیٹھے تھے۔ میں نے کہا میں نے ان کے سامنے بات نہیں کرنا چاہتی۔ تاہم پولیس کے اصرار پر میں نے ان کے سامنے بھی بات کی۔‘

’اس وقت بھی میرے سسرال والے پولیس کے سامنے مجھ پر رعب جما رہے تھے۔ جب میں نے اپنی تمام باتیں بتائیں تو انھوں نے پولیس سے کہا کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’پولیس کے سامنے ان کے سسرال نے یہ بیان دیا کہ میرے اسقاط حمل کے دوران میرے والدین بھی وہاں موجود تھے۔ انھیں غلط ثابت کرنے کے لیے میں نے اپنی ممانی کو فون ملایا جنھوں نے یہ تصدیق کی کہ اس دن صرف میرا شوہر اور سسرال والے وہاں موجود تھا۔‘

’یہ سب سننے کے بعد پولیس نے مجھے صلح کرنے کا کہا اور میری ایف آر درج نہیں کی۔‘ وہ بتاتی ہیں کہ اس ضمن میں ان کی وکیل نے بھی کوشش کی کہ ایف آئی آر درج ہو جائے لیکن کچھ نہیں ہوا۔

ایف آر درج نہ کرنے کے معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی

پولیس نے اس معاملے کی ایف آر درج کیوں نہیں کی اس کا جواب دیتے ہوئے پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی آپریشز کامران عادل کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ ایسے معاملات میں ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق پنجاب پولیس کی جاری ہونے والی حالیہ رپورٹ کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو خواتین کے خلاف تشدد کے کیسز میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ اب ان واقعات کی رپورٹنگ پہلے سے زیادہ ہو رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے ایسے معاملات میں خواتین ان واقعات کی رپورٹ کرنے سے گریز کرتی تھیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہو گا کہ یہ واقعات درج نہیں کیے جاتے۔‘

ان کا عائشہ کے کیس کے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‘جس معاملے کی آپ نے بات کی اس میں ایسا کیوں ہوا اور کس کی کوتاہی ہے، اس کی تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔‘

’عدالت سے بھی یہ جواب ملا کہ گھریلو معاملہ ہے‘

انیلہ کی وکیل نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’جب پولیس نے اس کیس کی ایف آئی آر درج نہیں کی تو ہم نے عدالت سے رابطہ کیا کہ پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے تو وہاں سے بھی ہمیں یہی جواب ملا کہ یہ گھریلو معاملہ ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اس لیے اب ہم عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔‘

انیلہ آج کل اپنے والدین کے گھر ہیں اور اپنے شوہر سے خلا لینے کے لیے کیس فائل کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی تعلیم کو دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ پڑھ لکھ کر اپنی بیٹی کے لیے کچھ کر سکیں۔

یہ مسئلہ صرف عائشہ کی کہانی تک ہی محدود نہیں ہے۔ گھریلو تشدد کے دیگر کچھ کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں پولیس نے غیر سنجیدہ رویہ دکھاتے ہوئے ان خواتین کی شکایت پر ایف آئی آر درج نہیں کیں۔

ان کیسز میں ایف آر درج کیوں نہیں کی جاتی؟

کیا پولیس کا کام قانون پر عملدرآمد کرنا ہے یا پھر بطور ثالث کردار ادا کرنا؟ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز کامران عادل کا کہنا تھا کہ جس مسئلے کہ نشاندہی کی گئی ہے وہ مسئلہ بلاشبہ موجود ہے اور اس میں کوئی قانونی سقم نہیں ہے بلکہ یہ مخصوص افراد کے رویے کا مسئلہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب بھی کوئی شخص پولیس کے پاس اپنی شکایت لے کر آتا ہے تو پولیس پابند ہے کہ وہ اس شخص کی ایف آئی آر کاٹے اور معاملے کی تحقیقات کرے اور قصوروار شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔‘



Source link