خواتین کے خلاف جرائم: 17 خواتین کو دھوکا دے کر شادی کرنے اور کروڑوں کا فراڈ کرنے والا شخص کیسے پکڑا گیا؟

21 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہBiswa Ranjan/BBC

انڈیا میں بھونیشور پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے، جنھوں نے اپنے آپ کو کبھی ڈاکٹر اور کبھی مرکزی وزارت صحت کا سینئیر افسر ظاہر کر کے 17 خواتین کو دھوکہ دہی سے اپنے جال میں پھنسایا اور کروڑوں لوٹے۔

66 برس کے رمیش چندر سوین کو اتوار کی رات دیر گئے بھونیشور میں ایک اپارٹمنٹ سے گرفتار کیا گیا اور پیر کو مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ نے انھیں عدالتی تحویل میں بھیجنے کا فیصلہ سُنایا۔

رمیش پر انڈیا کی آٹھ ریاستوں میں 17 خواتین سے دھوکہ دہی کے ذریعے شادی کرنے اور اُن سے پیسے بٹورنے کا الزام ہے۔ ان 17 خواتین کا تعلق اڑیسہ، آسام، دلی، مدھیہ پردیش، پنجاب، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ سے ہے۔

بھونیشور کے ڈی سی پی اوماشنکر داس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ان 17 خواتین کے علاوہ رمیش نے کئی اور خواتین کو بھی اپنے جال میں پھنسایا ہو۔

ان کے مطابق ’ہمیں رمیش کی گرفتاری کے بعد 17 میں سے تین خواتین کے بارے میں معلومات ملی ہیں۔

ان تینوں میں سے ایک اڑیسہ، ایک چھتیس گڑھ اور ایک آسام سے ہیں اور تینوں نے اعلیٰ تعلیم مکمل کر رکھی ہے۔ ان کے مطابق اب پولیس کی حراست میں ملزم سے پوچھ گچھ کر کے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا ان 17 خواتین کے علاوہ اس نے کہیں کسی اور عورت کو بھی تو اپنے جال میں نہیں پھنسایا؟

اوماشنکر داس نے کہا کہ بھونیشور کے خواتین کے تھانے کی انچارج کی قیادت میں تین رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے تاکہ ریمانڈ کے دوران ملزم سے اس کے مبینہ جرائم کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔

ان کے مطابق ملزم کے فون کو فارنزک کے لیے بھجوا دیا گیا ہے اور اس کے مالی لین دین کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

رمیش کیسے پکڑے گئے؟

रमेश चंद्र स्वाईं

،تصویر کا ذریعہBiswa Ranjan/BBC

رمیش کی گرفتاری کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے ڈی سی پی اوماشنکر داس نے کہا ہے کہ ’ہم اس شخص کو کئی دنوں سے تلاش کر رہے تھے اور ہم نے اسے پکڑنے کے لیے جال بچھایا تھا، لیکن وہ کئی مہینوں سے بھونیشور سے باہر رہ رہا تھا اور اس نے اپنا فون نمبر بھی تبدیل کر دیا تھا۔ اس لیے اسے پکڑنا مشکل ہو رہا تھا۔ آخر کار اتوار کو ہمیں ایک ذریعے سے معلوم ہوا کہ وہ بھونیشور آیا ہے اور اسی رات ہم نے اسے اس کے کھنڈگیری اپارٹمنٹ سے گرفتار کر لیا۔‘

بھونیشور پولیس نے ملزم کے خلاف کارروائی ایک خاتون کی تحریری شکایت پر شروع کی، جسے رمیش نے دھوکہ دیا تھا۔ دلی کے ایک سکول میں پڑھانے والی ایک خاتون رمیش کا آخری شکار بنی تھیں۔

خود کو وزارت صحت کا ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ظاہر کرتے ہوئے رمیش نے اس خاتون سے منگنی کر لی اور پھر سنہ 2020 میں کبیر پوری کے آریہ سماج مندر میں اُن سے شادی ہوئی۔ کچھ دن دلی میں رہنے کے بعد رمیش اپنی نئی دلہن کے ساتھ بھونیشور آئے اور کھنڈگیری کے ایک اپارٹمنٹ میں رہنے لگے۔

रमेश चंद्र स्वाईं

،تصویر کا ذریعہBiswa Ranjan/BBC

بھونیشور میں قیام کے دوران دلی کی اس خاتون کو کسی طرح پتا چلا کہ رمیش پہلے سے شادی شدہ ہیں۔

اس بارے میں مکمل اطمینان حاصل کرنے کے بعد اس نے پانچ جولائی 2021 کو بھونیشور کے خواتین کے تھانے میں رمیش کے خلاف شکایت درج کروائی اور خود دلی واپس چلی گئیں۔

بھونیشور پولیس نے رمیش کے خلاف دھوکہ دہی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے ان کی تلاش شروع کر دی۔ لیکن رمیش کو شاید اس بات کا علم ہو گیا تھا۔ انھوں نے اپنا موبائل نمبر بدلا اور بھونیشور سے غائب ہو گئے۔

پولیس کے مطابق اس دوران وہ گوہاٹی میں رہنے والی اپنی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے تھے۔

سات مہینے کے بعد رمیش یہ محسوس کرتے ہوئے بھونیشور واپس آئے کہ اب پولیس مزید تفتیش نہیں کر رہی۔ لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ دلی میں مقیم اُن کی بیوی واپس کھنڈگیری کے فلیٹ کی ایک ایک پل کی رپورٹ حاصل کر رہی ہے۔ رمیش کی واپسی پر جیسے ہی ان کی دلی میں مقیم بیوی کو مخبر کے ذریعے اطلاع ملی تو انھوں نے فوراً اس کی اطلاع بھونیشور پولس کو دی اور آخر کار رمیش جو برسوں سے خواتین اور پولیس کو چکمہ دے رہے تھے، پولیس کی گرفت میں آ گئے۔

रमेश चंद्र स्वाईं

،تصویر کا ذریعہBiswa Ranjan/BBC

شادی کے 20 سال بعد ایک اور شادی

اڑیسہ کے کیندرپارا ضلع کے پٹکورا کے رہنے والے رمیش چندر کی پہلی شادی سنہ 1982 میں ہوئی تھی۔ پہلی بیوی سے اُن کے تین بیٹے ہیں۔ تینوں ڈاکٹر ہیں اور بیرون ملک رہتے ہیں۔

سنہ 2002 میں اپنی پہلی شادی کے 20 سال بعد ملزم نے دھوکہ دہی سے ایک اور خاتون سے شادی کر لی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق اُن کے جال میں پھنسی خاتون جھارکھنڈ کی رہنے والی تھیں اور اڑیسہ کے ساحلی شہر پارادیپ میں ایک نجی کمپنی کے زیر انتظام ہسپتال میں ڈاکٹر تھیں۔ کچھ دنوں کے بعد اس عورت کا تبادلہ الہٰ آباد ہو گیا، پھر رمیش وہاں گیا اور اس ’بیوی‘ کے ساتھ رہنے لگا اور درمیان میں اس سے پیسے اور زیورات لینے لگا۔

بھونیشور پولیس کو اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق رمیش نے دلی کی اپنی ٹیچر بیوی سے 13 لاکھ روپے اور سینٹرل آرمڈ پولیس کی ایک خاتون افسر سے دس لاکھ روپے دھوکے سے لیے۔ پولیس ملزم کے دیگر دھوکہ دہی کے مقدمات کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔

خواتین کو لٹکانے کا طریقہ

پولیس تفتیش اور متاثرہ خواتین کے بیانات ظاہر کرے ہیں کہ ملزم رمیش اپنے شکار کا انتخاب بہت احتیاط سے کرتے تھے۔ اپنے شکار کی تلاش کے لیے وہ زیادہ تر ازدواجی رشتوں میں باندھنے والی سائٹس کا سہارا لیتا تھا۔ ملزم صرف ایسی خواتین کا انتخاب کرتا تھا، جن کی عمر بڑھنے کے باوجود شادی نہ ہوئی ہو یا جن کی طلاق ہو چکی ہو یا جو شوہر سے الگ ہو گئی ہوں۔

لیکن اپنے شکار کا فیصلہ کرتے وقت وہ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ خاتون یا تو سرکاری ملازم ہے یا وہ خاندانی طور پر امیر ہو۔

اپنا ہدف طے کرنے کے بعد رمیش ان سے رابطہ قائم کرتے۔ خواتین سے ملنے کے بعد وہ اپنی چرب زبانی اور مخصوص گفتگو سے ان کا اعتماد حاصل کر لیتا تھا۔ رمیش خود کو کبھی ڈاکٹر کے طور پر تو کبھی مرکزی وزارت صحت کے سینیئر افسر کے طور پر متعارف کرواتے تھے۔

بھونیشور پولیس کے مطابق ملزم نے اعتماد حاصل کرنے کے لیے متعدد جعلی شناختی کارڈ بھی بنا رکھے تھے۔

اس کے علاوہ وہ وزارت صحت کے جعلی خطوط بھی استعمال کرتے تھے۔ رمیش نے بدھو بھوشن سوین اور رمانی رنجن سوین کے نام پر جعلی شناختی کارڈ بنائے تھے، جو ان کی گرفتاری کے دوران ان کے کھنڈگیری فلیٹ سے برآمد ہوئے۔

رمیش ڈاکٹر نہیں ہیں لیکن انھوں نے کوچی سے پیرا میڈیکل، لیبارٹری ٹیکنالوجی اور فارمیسی کا ڈپلومہ کورس کیا، جس کی وجہ سے انھیں میڈیکل سائنس کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات تھیں۔

یہ معلومات خواتین کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کی گئیں۔

रमेश चंद्र स्वाईं

،تصویر کا ذریعہBiswa Ranjan/BBC

دھوکہ دہی کے دیگر کیسز

جھوٹی شادی کر کے خواتین کو دھوکہ دینے کے علاوہ رمیش نے کئی دوسرے لوگوں کو بھی دھوکہ دیا۔ اس نے ملک کے بہت سے نوجوانوں کو میڈیکل کالجوں میں داخلے کا وعدہ کر کے اپنے جال میں پھنسایا اور ان سے پیسے بٹورے۔

اس سلسلے میں انھیں حیدرآباد پولیس کی سپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) نے بھی گرفتار کیا تھا۔ لیکن ضمانت پر باہر آنے کے بعد انھوں نے دوبارہ اپنے فراڈ کا کام شروع کر دیا۔

ڈی سی پی اوماشنکر داس کا کہنا ہے کہ بھونیشور پولیس حیدرآباد پولیس سے رابطہ کر کے اس سلسلے میں مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ رمیش نے سنہ 2006 میں میڈیکل کے طلبا کو تعلیمی قرض حاصل کرنے کے لیے فرضی دستاویزات دے کر کیرالہ کے مختلف بینکوں سے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی دھوکہ دہی کی تھی۔ اس معاملے میں انھیں گرفتار بھی کیا گیا تھا، لیکن پھر کچھ دنوں بعد وہ ضمانت پر رہا کر دیے گئے۔

یہی نہیں، رمیش نے ایک گرودوارہ سے میڈیکل کالج کھولنے کی اجازت کے بہانے 13 لاکھ روپے بٹورے۔

یہ حیران کن پہلو ضرور ہے کہ انڈیا کی متعدد ریاستوں میں اتنے لوگوں سے دھوکہ کرنے اور دو بار گرفتار ہونے کے باوجود رمیش اب تک قانون کی گرفت میں آنے سے کیسے بچ رہے تھے۔



Source link