رئیس محمد: حنیف محمد کے بھائی اور سابق فرسٹ کلاس کرکٹر وفات پا گئے، ان کی زندگی پر ایک نظر

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہRaees Mohammad

،تصویر کا کیپشن

رئیس محمد اپنے بھائیوں میں واحد تھے جو ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیل سکے۔ ان کے چار بھائی وزیر محمد، حنیف محمد، مشتاق محمد اور صادق محمد ٹیسٹ کرکٹ کھیلے

سابق فرسٹ کلاس کرکٹر رئیس محمد پیر کے روز 89 سال کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔

وہ پاکستان کرکٹ کے مشہور ’محمد برادران‘ میں دوسرے نمبر پر تھے۔ ان کے چار بھائیوں وزیر محمد، حنیف محمد، مشتاق محمد اور صادق محمد نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی لیکن رئیس محمد وہ واحد بھائی تھے جنھیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا موقع نہ مل سکا۔

رئیس محمد 25 دسمبر 1932 کو جوناگڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ دیگر بھائیوں کی طرح کرکٹ کھیلنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی میں بھی والدہ امیر بی کا اہم کردار تھا۔

رئیس محمد دائیں ہاتھ کے بلے باز اور لیگ سپنر تھے۔ انھوں نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز 1949 میں کراچی سندھ الیون کی طرف سے کامن ویلتھ الیون کے خلاف کیا تھا۔

رئیس محمد نے تیرہ سالہ فرسٹ کلاس کیریئر میں 30 میچز کھیلے اور 32.78 کی اوسط سے 1344 رنز بنائے جن میں دو سنچریاں اور 8 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ انھوں نے اپنی لیگ سپن بولنگ سے 33 وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔

رئیس محمد نے کچھ عرصہ قبل بی بی سی اردو کو دیے گئے اپنے تفصیلی انٹرویو میں اپنے کیریئر کے مختلف پہلوؤں پر کھل کر بات کی تھی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

،ویڈیو کیپشن

رئیس محمد: ’کہا گیا تین، تین بھائیوں کو ایک ساتھ نہیں کھلا سکتا’

’کتنے بھائی کھیلیں گے؟‘

اپنے انٹرویو میں رئیس محمد نے بتایا تھا کہ ’جب پاکستانی ٹیم پہلی بار ٹیسٹ سیریز کھیلنے انڈیا جا رہی تھی تو میں نے باغ جناح میں کھیلے گئے ٹرائل میچ میں 93 رنز بنانے کے علاوہ ان چار بلے بازوں کو بھی آؤٹ کیا جو پاکستانی ٹیم میں سلیکٹ ہوئے تھے۔

’لیکن مجھ پر امیر الہی کو ترجیح دی گئی اور کہا گیا کہ ان کا تجربہ مجھ سے زیادہ ہے۔ ٹیم کی انڈیا روانگی کے موقع پر کپتان عبدالحفیظ کاردار نے اعتراف کیا تھا کہ انھیں افسوس ہے کہ وہ رئیس محمد کو ٹیم میں شامل نہیں کرا سکے۔‘

جب ٹیم 1954 میں انگلینڈ جارہی تھی تو بہاولپور میں ایک مہینے کا کیمپ لگا۔ اس وقت ٹیم کو حنیف محمد کے اوپننگ پارٹنر کی تلاش تھی کیونکہ نذر محمد بازو ٹوٹ جانے کے سبب کرکٹ سے باہر ہوچکے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’لیکن مجھے اس کیمپ میں نئی گیند کی شکل تک نہیں دکھائی گئی حالانکہ میں نے دو میچوں میں اوپنر کی حیثیت سے اچھی بیٹنگ کی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ میں چھیالیس رنز بنا چکا تھا کہ مجھے بیٹنگ سے واپس بلا لیا گیا۔‘

ان کا دعویٰ تھا کہ ’انھیں ڈر تھا کہ اگر میں بڑی اننگز کھیل گیا تو مجھے سلیکٹ کرنا پڑے گا۔ اس دور میں پاکستانی کرکٹ میں بہت زیادہ سیاست تھی۔‘

رئیس محمد نے اپنے انٹرویو میں ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک سابق سیکریٹری کا بھی حوالہ دیا تھا جو بقول ان کے نہیں چاہتے تھے کہ ایک ہی وقت میں تین بھائی ٹیم میں کھیلیں۔

ان کا کہنا تھا ’اس زمانے میں چیمہ صاحب کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری ہوا کرتے تھے۔ جب بھی میرے ٹیسٹ کھیلنے کی بات آتی تو وہ کہتے تھے کہ کتنے بھائی ایک ساتھ ٹیم میں کھیلیں گے؟ لوگ اعتراض کریں گے کہ یہ بھائیوں کی ٹیم ہے حالانکہ اس زمانے میں ہم تمام بھائیوں کی کارکردگی بہت ہی اچھی رہتی تھی۔‘

ایک ہی اننگز میں تین بھائیوں کی سنچریاں

1954 میں قائد اعظم ٹرافی کا فائنل اس اعتبار سے محمد برادرز کے لیے یادگار تھا کہ اس میں کراچی کی طرف سے کھیلتے ہوئے سروسز کے خلاف ایک ہی اننگز میں تین بھائیوں وزیر محمد، رئیس محمد اور حنیف محمد نے سنچریاں بنائی تھیں۔

رئیس محمد نے اسی میچ میں اپنے کیریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 82 رنز دے کر چار وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔

کرکٹ کی تاریخ میں یہ اب تک واحد موقع ہے کہ کسی فرسٹ کلاس میچ کی ایک ہی اننگز میں تین بھائیوں نے سنچریاں سکور کیں۔

رئیس محمد
،تصویر کا کیپشن

رئیس محمد

ٹیسٹ کیپ کے بجائے بارہواں کھلاڑی

رئیس محمد وہ لمحہ کبھی نہیں بھولے جب انھیں ٹیسٹ کھیلنے کی خوشخبری سنائی گئی لیکن پھر بارہواں کھلاڑی بنا دیا گیا۔

اپنے انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ ’1955 میں انڈیا کے خلاف ڈھاکہ ٹیسٹ سے ایک رات قبل کپتان عبدالحفیظ کاردار نے میرے کمرے میں آکر کہا کہ آپ جلدی سو جائیں کیونکہ صبح آپ نے ٹیسٹ میچ کھیلنا ہے۔

’لیکن میچ کی صبح میری جگہ مقصود احمد کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا جنھیں اچانک لاہور سے ڈھاکہ بلوا لیا گیا تھا۔ مجھے بارہواں کھلاڑی بنا دیا گیا۔ اسی سیریز کے بہاولپور ٹیسٹ میں بھی میں بارہواں کھلاڑی تھا جس کے بعد میں کبھی ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیل سکا۔‘

بیٹوں کے ٹیسٹ نہ کھیلنے کا دکھ

رئیس محمد کے دو بیٹے شاہد محمد اور آصف محمد فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے ہیں لیکن انھیں دونوں بیٹوں کے ٹیسٹ نہ کھیلنے کا بہت دکھ رہا جس کا انھوں نے برملا اظہار یوں کیا تھا۔

’میں تو ٹیسٹ نہ کھیل سکا لیکن زیادہ دکھ اس بات کا رہا کہ دونوں بیٹوں میں سے کوئی ایک بھی ٹیسٹ کھیلنے میں کامیاب نہ ہوسکا حالانکہ جب حنیف بھائی (حنیف محمد) چیف سلیکٹر تھے تو اس وقت میرے بیٹے آصف محمد کی کارکردگی بہت اچھی تھی اور اس وقت سب یہی کہہ رہے تھے کہ آصف محمد اچھا کرکٹر ہے لیکن قسمت شعیب محمد پر مہربان رہی۔ میں تو نہ کھیل سکا لیکن اگر میرا کوئی بیٹا بھی ٹیسٹ کھیل لیتا تو مجھے تسکین ہوجاتی۔‘

مصوری اور کیرم کے شوقین

رئیس محمد کلاسیکی موسیقی کے دلدادہ تھے۔ انھیں غلام علی، فریدہ خانم اور اقبال بانو کی غزلیں پسند تھیں۔

وہ مصوری بھی کیا کرتے تھے اور کیرم کھیلنے کے بہت شوقین تھے۔

ہر ہفتے وہ حنیف محمد کے گھر باقاعدگی سے جایا کرتے تھے جہاں بھائیوں کے درمیان کیرم کے دلچسپ مقابلے ہوا کرتے تھے۔



Source link