راوی ریور فرنٹ منصوبہ: سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کو کس حد تک ریلیف فراہم کر پائے گا؟

  • عمر دراز ننگیانہ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

16 منٹ قبل

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان اور اُن کی جماعت کی حکومت کا دریائے راوی کے کنارے ایک ’جدید نیا شہر‘ بسانے کا منصوبہ آغاز ہی سے مشکلات کا شکار نظر آتا ہے۔

راوی ریور فرنٹ منصوبے کے لیے دریائے راوی کے دونوں کناروں پر ایک لاکھ دو ہزار ایکڑ زمین درکار ہے اور تاحال یہ واضح نہیں کہ موجودہ حکومت مطلوبہ اراضی کا 70 فیصد سے زائد حصہ حاصل کر بھی پائے گی یا نہیں۔

راوی ریور فرنٹ منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی روڈا کی ہے جس نے اس منصوبے کو تین مرحلوں میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے مرحلے کے لیے تقریباً 44 ہزار ایکڑ زمین درکار ہے۔ دوسرے کے لیے 28 ہزار ایکڑ اور تیسرے مرحلے کیے لیے 30 ہزار ایکڑ زمین چاہیے ہو گی۔

روڈا کا ارادہ پہلے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ساتھ باقی تینوں مراحل پر بھی کام جاری رکھنے کا تھا تاہم اس کے لیے بنیادی ضرورت زمین کا حصول ہے۔

مطلوبہ زمین کا زیادہ تر حصہ کسانوں کا زیرِکاشت علاقہ ہے۔ جب روڈا قانون کے تحت معاوضے کے عوض حکومت نے کسانوں سے یہ زمین حاصل کرنے کا سلسلہ لگ بھگ ایک سال قبل شروع کیا تو اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

کچھ کسان زمین بیچنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ باقی کو اعتراض تھا کہ حکومت ان کے زرعی رقبوں کا صحیح معاوضہ ادا نہیں کر رہی تھی۔ جبکہ کچھ کسان یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ’رہائشی منصوبے‘ کے لیے زرعی زمین کو ختم کرنا درست فیصلہ ہی نہیں ہے۔

راوی ریور فرنٹ

،تصویر کا ذریعہMEINHARDT GROUP

احتجاج کے ساتھ ساتھ متاثرہ کسانوں نے عدالت سے بھی رجوع کر لیا تھا۔ ان درخواستوں پر گذشتہ برس لاہور کی عدالت نے روڈا کو زمین خریدنے کا عمل جاری رکھنے سے روک دیا تھا۔

روڈا کے ترجمان شیر افضل کے مطابق روڈا نے اب تک لگ بھگ پانچ ہزار ایکڑ زمین حاصل کر لی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کل 10 ہزار ایکڑ رقبے کے لیے روڈا کی جانب سے کسانوں کو رقم ادا کی جا چکی ہے اور اس کے علاوہ تقریباً 20 ہزار ایکڑ رقبہ ایسا ہے جو پہلے ہی سے حکومت کی ملکیت تھا۔

تاہم فی الحال روڈا اس سے زیادہ زمین نہیں خرید سکتی۔ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں روڈا کی چند شقوں کو غیر آئینی اور زمین حاصل کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر حال ہی میں روڈا کو اتنی سہولت ملی ہے کہ وہ اُس زمین پر ترقیاتی کام جاری رکھ سکتی ہے جس کی ادائیگی وہ پہلے سے کر چکی تھی۔

عدالت نے فریقین کو ایک ماہ کے اندر تمام ضروری دستاویزات جمع کروانے کا حکم دیا ہے جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف روڈا کی اپیل پر سپریم کورٹ کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔

تاہم راوی ریور فرنٹ منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے اب کئی پہلو سپریم کورٹ کے فیصلے سے جڑے ہیں۔ عدالتی کارروائی میں کتنا وقت لگتا ہے، اور کیا اُس وقت تک منصوبے پر کام ہو پائے گا؟

اگر عدالتِ عظمٰی حکومت کو زمین کے حصول کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق عمل کرنے کا کہتی ہے تو کیا حکومتِ پنجاب دوبارہ سے قانون سازی کرے گی اور کیا خریدی گئی زمینوں کے لیے ادا کی گئی رقم میں مزید اضافہ ہو جائے گا؟

ایسے میں کیا سرمایہ کار التوا کے شکار منصوبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہیں گے؟ اور اگر موجودہ حکومت کے دور میں منصوبے پر پیش رفت ممکن نہ ہوئی تو کیا آئندہ حکومت اس منصوبے میں دلچسپی لے گی؟

اب تک منصوبے پر کتنا کام ہو چکا ہے؟

روڈا کے ترجمان شیر افضل کے مطابق روڈا نے پہلے مرحلے میں لگ بھگ دو ہزار ایکڑ پر بنائے جانے والے ’سیفرون بے‘ نامی منصوبے کے لیے ٹھیکہ دے رکھا ہے۔ یہ ٹھیکہ مقامی تعمیراتی کمپنیوں پر مشتمل ایک گروپ ’جاوداں گروپ‘ کو دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ روڈا نے حال ہی میں ’چہار باغ‘ نامی ایک منصوبے کا افتتاح کیا ہے۔ روڈا کے ترجمان کے مطابق یہ سکیم لگ بھگ تین سو ایکڑ پر محیط ہے جس پر ترقیاتی کام روڈا خود کرے گی۔

’اس رہائشی منصوبے میں زندگی کی تمام تر سہولیات میسر ہوں گی جن میں سکول و کالج، یونیورسٹیاں، ہسپتال اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں روڈا خود پلاٹس بنا کر فروخت کرے گی۔

حکومتِ پنجاب کے مطابق راوی ریور فرنٹ کے پہلے مرحلے میں ابتدا میں 15 ہزار ایکڑ پر محیط ’سفائر‘ بے، ایگری، نالج، ایمرلڈ بے، ٹوپاز بلاک، بیراجز اور جھیل بنائی جائے گی۔

راوی ریور فرنٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے نے منصوبے کو کیسے متاثر کیا؟

لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے مطابق روڈا کے پاس کوئی آزادانہ ماسٹر پلان نہیں تھا۔ اس کی غیر موجودگی میں تمام تر سکیمیں غیر قانونی ہیں جن میں چہار باغ اور سفائر بے جیسی سکیمیں شامل تھیں۔

اگر حکومت کو سپریم کورٹ سے مشروط اجازت نہ ملتی تو روڈا اس نوعیت کے سکیموں پر ترقیاتی کاموں کو اس وقت تک آگے نہیں بڑھا سکتی تھی جب تک وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی نظر میں مطلوبہ تبدیلیاں نہ کر لیتی۔

فیصلے میں روڈا کے اس ترمیمی قانون کو بھی غیر آئینی قرار دے کر ختم کر دیا گیا تھا جس کے مطابق روڈا کو مقامی بلدیاتی حکومتوں سے مشاورت کے ساتھ منصوبے کا ماسٹر پلان اور دیگر معاملات طے کرنے تھے۔ تاہم اس وقت صوبہ پنجاب میں بلدیاتی نظام موجود نہیں تھا۔

سپریم کورٹ کا ایک حالیہ فیصلہ مشکلات پیدا کر سکتا ہے؟

سپریم کورٹ نے منگل کے روز متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی سنہ 2013 میں دائر کی گئی ایک درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے صوبہ سندھ کی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ’مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کرے۔‘

سپریم کورٹ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت صوبائی حکومتیں ’بااختیار‘ مقامی حکومتیں قائم کرنے کی پابند ہیں۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ’صوبائی حکومت کوئی ایسا منصوبہ نہیں لانچ کر سکتی جو مقامی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔۔۔ شہر کا ماسٹر پلان تیار کرنے اور اس پر عملدرآمد کرنا مقامی حکومتوں کی صوابدید ہے۔‘

لاہور ہائی کورٹ میں چند درخواست گزاروں کی نمائندگی کرنے والے وکیل رافع عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کو بنیاد بنا کر عدالت میں ایک اور درخواست دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

‘اس میں ہم عدالت سے درخواست کریں گے کہ پنجاب حکومت کو بلدیاتی حکومتوں تک اختیارات کی منتقلی کا حکم دیا جائے اور اس کے بعد روڈا کو منصوبے (راوی ریور فرنٹ) کا ماسٹر پلان مقامی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے ساتھ ہی بنانا ہو گا۔‘

سپریم کورٹ سے ملنے والا ریلیف کتنا اہم ہے؟

ماہرین کے مطابق روڈا کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کے بعد ملنے والا حالیہ ریلیف اتنا ہی ہے کہ وہ ترقیاتی کام کو آگے بڑھا سکتی ہے۔

معاملے سے منسلک ایک وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ روڈا کا دعوٰی ہے کہ اس کے پاس 30 ہزار ایکڑ زمین ایسی موجود ہے جس پر وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ترقیاتی کام جاری رکھ سکتی ہے۔

’اگر وہ سرمایہ کاری لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور اتنی زمین پر تعمیراتی کام کر لیتے ہیں تو پھر قانونی کارروائی پر وقت لگنے کا بھی انھیں کوئی زیادہ نقصان نہیں ہو گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اتنی زیادہ زمین پر اگر ترقیاتی کام ہو جاتا ہے تو اس صورت میں منصوبے کی شکل ابھرنی شروع ہو جائے گی۔ اس کے بعد اس کو روکنا مشکل ہو گا۔

’تاہم دیکھنا یہ ہو گا کہ ایک ایسا منصوبہ جو عدالت میں ہے اس پر سرمایہ کاری کب اور کتنی مل پاتی ہے۔‘

راوی ریور فرنٹ کیسا شہر ہو گا؟

عمران خان نے حال ہی میں منصوبے کی جگہ کا دورہ کیا اور وہاں کھڑے ہو کر انھوں نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ راوی ریور فرنٹ کوئی ہاؤسنگ سکیم نہیں بلکہ ایک نیا شہر بسایا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان

،تصویر کا ذریعہPTV

،تصویر کا کیپشن

گذشتہ ہفتے منصوبے کے مقام کا دورہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہائی کورٹ میں اپنا مؤقف صحیح طریقے سے پیش نہیں کر پائی تھی تاہم سپریم کورٹ میں وہ اس کو بہتر انداز میں پیش کریں گے۔

منصوبے کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے بتایا کہ یہ اس لیے ضروری ہے کہ ’یہ 20 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے، اتنا بڑا منصوبہ پاکستان میں نہیں بنا۔ اس سے بیرون ملک سے سرمایہ کاری آئے گی اور نوکریاں ملیں گی۔۔۔ جس تیزی سے ہماری آبادی بڑھ رہی ہے ہمیں نئے شہروں کی ضرورت ہے۔‘

راوی اربن ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کے منصوبے کا سنگ بنیاد سات اگست 2020 کو رکھا گیا تھا اور اس کا افتتاح وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ سال ستمبر میں کیا تھا۔ اس منصوبے کا کل رقبہ ایک لاکھ دو ہزار ایکڑ پر محیط تھا۔

باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنائے جانے والے شہروں کی طرح اس میں ایجوکیشن سٹی، سپورٹس سٹی اور میڈیکل سٹی بنانے کے ذیلی منصوبے بھی شامل ہیں۔



Source link