روس، یوکرین جنگ: کیا پوتن نے افریقہ میں جنگجوؤں کو تربیت دی تھی؟

  • پیٹر ایموائی
  • بی بی سی ریئلٹی چیک

55 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہReuters

ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر ان دنوں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس کے متعلق کچھ لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن جنوبی افریقہ میں آزادی کے لیے سرگرم گوریلا گروپوں کو تربیت دے رہے ہیں۔

اس تصویر کو اس لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ یہ جواز پیش کیا جائے کہ کیوں افریقی ممالک کو یوکرین کی جنگ میں روس کی حمایت کرنی چاہیے۔

2px presentational grey line

اس تصویر کو یوگنڈا کے صدر یووری موسیونی کے بیٹے نے بھی ٹوئٹر پر پوسٹ کیا ہے۔

لیکن اس سے صدر پوتن کی اس وقت افریقہ میں موجودگی کا پتہ نہیں چلتا اور جس دور کے متعلق یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ تصویر لی گئی تھی وہ بھی غلط ہے۔

پوتن تنزانیہ میں نہیں تھے

سنہ 2018 کے آخر میں زمبابوے کے بلاگز میں پوسٹ کیے جانے کے بعد اس تصویر کو بڑے پیمانے پر آن لائن شیئر کیا گیا تھا۔

ان پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ تصویر سنہ 1973 کی ہے جب پوتن جنوبی افریقہ میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں کے لیے تنزانیہ کے ایک فوجی تربیتی کیمپ میں موجود تھے۔

یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ تصویر میں موزمبیق کے مستقبل کے صدر سامورا میچل اور ایمرسن ایمنانگاگوا بھی موجود تھے جو کہ اب زمبابوے کے صدر ہیں۔

بلاگز میں دعویٰ کیا گیا کہ پوتن سنہ 1973 سے سنہ 1977 تک چار سال تنزانیہ کے کیمپوں میں آزادی کے لیے لڑنے والوں کو تربیت دیتے رہے تھے۔

Mr Putin waving his hand next to the pyramids in Egypt

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پوتن بحیثیت وزیرِ اعظم اور صدر کئی ممالک کا دورہ کر چکے ہیں

تاہم صدر پوتن کے روسی یا افریقی ریکارڈز سے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ سنہ 1952 میں پیدا ہونے والے پوتن 1970 کی دہائی کے دوران افریقہ گئے تھے۔

کریملن کی ویب سائٹ پر پوتن کے پروفائل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اُس وقت لینن گراڈ سٹیٹ یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے اور انھوں نے 1975 میں گریجویشن مکمل کی تھی۔

دوسرا یہ کہ تنزانیہ کے کیمپوں میں موزمبیق کی آزادی کے لیے لڑنے والے جنگجوؤں کو بیرونی ممالک کی طرف سے زیادہ تر تربیت چینی تربیت کاروں نے دی تھی نہ کہ سوویت تربیت کاروں نے۔

اور ایمنانگاگوا سنہ 1973 میں تنزانیہ میں ہو ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ انھیں 1965 میں اس وقت کے روڈیشیا کی سفید فام اقلیتی حکومت نے گرفتار کر کے 10 سال تک قید میں رکھا ہوا تھا۔

A photo showing a smiling Samora Machel

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

موزمبیق کے صدر سامورا میچل 1986 میں طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے

اسّی کی دہائی میں روسیوں کا موزمبیق کا دورہ؟

موزمبیق کے مصنف ریناٹو ماتوسے نے اس تصویر کو اپنی سنہ 2018 کی ایک کتاب میں استعمال کیا ہے، جہاں انھوں نے کہا ہے کہ اس میں میچل کو سویت (سابق سویت یونین) فوجی مشیروں کے ساتھ 1980 کی دہائی کے وسط میں ملک کے دارالحکومت ماپوٹو کے قریب ایک فوجی مرکز کا دورہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ واضح ہے کہ اس میں پوتن موجود نہیں ہیں۔

line

روس کا یوکرین پر حملہ: ہماری کوریج

line

سنہ 1985 اور 1990 کے درمیان پوتن مشرقی جرمنی میں کے جی بی کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے اور اس سے پہلے وہ ایک نچلے درجے کے آفیسر تھے، اس لیے اس بات کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے کہ وہ اس طرح کے وفد کے سرکردہ رُکن تھے۔

کریملن نے بھی ان کے موزمبیق کے دورے کا بھی کبھی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی یہ ان کسی سوانح حیات میں ایسا لکھا گیا ہے۔

جیروگی دیرلوگویان جو 1980 کی دہائی میں پرتگالی زبان سے روسی زبان میں ترجمہ کرنے والے ایک مترجم تھے اور اب نیویارک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، کا کہنا ہے کہ تصویر میں نظر آنے والے شخص کو پوتن کہنا ایک ’مذاق‘ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے جو بوٹ پہنے ہوئے ہیں ان سے لگتا ہے کہ وہ کوئی فوجی آدمی ہے، جبکہ پوتن انٹیلیجنس آفیسر تھے۔ اور بظاہر تصویر میں نظر آنے والا شخص ایک بڑی عمر کا ’پوتن‘ لگتا ہے۔

Vladimir Putin lifting a cup of coffee with his watch visible on the right hand

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پوتن گھڑی ہمیشہ اپنی دائیں کلائی پر باندھتے ہیں جبکہ تصویر میں وردی میں ملبوس شخص نے گھڑی بائیں کلائی پر پہنی ہوئی ہے

اور آخر میں اس پہیلی کے متعلق ایک اور انکشاف۔

تصویر میں دکھائے جانے والے پراسرار شخص نے گھڑی اپنی بائیں کلائی پر باندھی ہوئی ہے، جبکہ پوتن ہمیشہ، یا کم از کم آج کل اسے اپنی دائیں کلائی پر باندھتے ہیں۔

اگرچہ تصویر میں نظر آنے والے شخص کے متعلق تاثر ہے کہ یہ سوویت اہلکار ہے، لیکن ابھی تک کسی نے بھی اس کی شناخت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

Reality Check branding



Source link