روس کے قبضے میں یورپ کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ کی بجلی کس کو ملے گی؟

  • لارنس پیٹر
  • بی بی سی نیوز

16 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

یوکرین کے سب سے بڑے بجلی گھر پر روس نے بڑی تعداد میں فوجی تعینات کیے ہوئے ہیں

یوکرین نے ملک کے ایک بڑے ایٹمی بجلی گھر کو روس کے بجلی کی ترسیل کے گرڈ سے منسلک کرنے کے روسی منصوبے کو بے معنی ’خواہش‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

روسی فوجی جنوبی یوکرین میں دریائے ڈنیپئر کے کنارے پر قائم زاپوریزہیا ایٹمی پلانٹ پر قابض ہیں۔ یہ یورپ کا سب سے بڑا ایٹمی پلانٹ ہے۔ یوکرین کا عملہ اب بھی اسے چلا رہا ہے لیکن روس نے اپنے جوہری ماہرین کو ان کے کام کی نگرانی کے لیے بھیجا ہے۔

روس کے نائب وزیر اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس سے بجلی یوکرین کو فروخت کرے گا۔ روسی نائب وزیر اعظم مارات خسنولن نے کہا کہ اگر کیئو نے پلانٹ کی بجلی کی ادائیگی سے انکار کر دیا تو روس زاپوریزہیا پلانٹ کو روس کے توانائی کے نظام کے ساتھ جوڑ دے گا۔

بدھ کے روز روس کے زیر قبضہ جنوبی یوکرین کا دورہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر یوکرئنی توانائی کا نظام بجلی حاصل کرنے اور اس کے لیے ادائیگی کرنے کے لیے تیار ہے، تو ہم بجلی فراہم کریں گے، لیکن اگر نہیں، تو پلانٹ روس کے لیے کام کرے گا۔‘

تاہم یوکرین کی سرکاری نیوکلیئر ایجنسی اینرجوایٹم کے ترجمان نے کہا کہ پلانٹ کو روس سے منسلک کرنے میں کئی سال لگیں گے۔

Russian soldier on guard at Zaporizhzhia nuclear plant, 1 May 22

،تصویر کا ذریعہEPA

لیونیڈ اولینیک نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ پلانٹ صرف یوکرین کے انرجی گرڈ سے منسلک ہے۔

انھوں نے کریمیا سے روس کو جوڑنے والے پل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’روسی عملی طور پر پاور لائن بنا سکتے ہیں، لیکن اس میں ان کو کریمیا کے پل کی طرح ایک طویل وقت لگے گا یعنی کئی سال۔‘

مسٹر اولینک نے روسی بیان کو محض خواہش قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الوقت پاور سٹیشن کم سے کم سطح پر کام کر رہا ہے، لیکن یہ کیئو کے کنٹرول میں ہے اور یوکرین میں بجلی کی ترسیل کا پورا نظام ان کے کنٹرول میں ہے۔

عام طور پر یہ پلانٹ یوکرین کی جوہری توانائی کا نصف سے زیادہ اور ملک کی کل بجلی کی فراہمی کا 20 فیصد پیدا کرتا ہے۔ لیکن اب اس کے چھ میں سے صرف دو ری ایکٹر کام کر رہے ہیں۔

یوکرین کی افواج اب بھی دنیپئر کے مخالف کنارے پر واقع شہر زپوریزہیا پر قابض ہیں۔ نیو کلیئر پاور پلانٹ اینرہودر میں ہے، جو تقریباً 53,000 نفوس پر مشتمل ایک قصبہ ہے جو سوویت دور میں جوہری کارکنوں کے رہنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

انرہودر میں روسی قبضے کے خلاف کئی احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ہیں، جنھیں روسی سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور سٹن گرنیڈ کا بے دریغ استعمال کر کے پرتشدد طریقے سے منتشر کر دیا۔ اپنے دورے کے دوران روس کے نائب وزیر اعظم خسنولن نے کہا کہ ’میرے خیال میں اس خطے کا مستقبل ہمارے دوستانہ روسی خاندان کے ساتھ مل کر چلنے میں ہے۔‘

تین مارچ کو روسی افواج نے زاپوریزہیا پلانٹ پر گولہ باری کی، اور بعد میں اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اینرگوایٹم کے مطابق، اس کے ایک ری ایکٹر کے ارد گرد کی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی آئی اے ای اے نے کہا کہ تابکاری کی سطح اور ری ایکٹر کی حفاظت متاثر نہیں ہوئی۔ عالمی رہنماؤں نے اس حملے کے لیے روس کی مذمت کی اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر ’جوہری دہشت گردی‘ کا الزام لگایا۔

آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ پلانٹ کی صورت حال اب ’نازک‘ اور ’غیر مستحکم‘ ہے، کیونکہ روسی فوجی روس کی سرکاری نیوکلیئر ایجنسی روسایٹم کے ماہرین کی ایک ٹیم کے ساتھ عملے کو سخت نگرانی میں رکھے ہوئے ہیں۔

آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ وہ سائٹ کے معائنے کے لیے بات چیت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اولینک نے کہا کہ ’عملہ مشکل میں ہے، کیونکہ ان پر بہت زیادہ تکنیکی دباؤ ہے، روسی قابضوں جیسا برتاؤ کر رہے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ روس اس مقام پر تقریباً 500 فوجی اور 50 بکتر بند گاڑیاں رکھے ہوئے ہے۔ ’وہ دستاویزات کی جانچ کر رہے ہیں، وہ لوگوں کو آزادانہ طور پر بات نہیں کرنے دیتے اور انرودر میں ملاقاتیں نہیں کرنے دیتے ہیں۔‘

انھوں نے اصرار کیا کہ یوکرین ’پورے علاقے کو آزاد کرائے گا، قابضین کے ساتھ کوئی سودا نہیں ہو گا۔‘

Map of nuclear power stations in Ukraine

شمالی یوکرین کے چرنوبل ایٹمی پلانٹ جو سنہ 1986 میں دنیا کی بدترین جوہری تباہی کی علامت بن گیا تھا، پر روس کے عارضی قبضے نے عالمی رہنماؤں کو بھی خوفزدہ کر دیا تھا۔

منقطع پلانٹ میں تابکاری کی سطح مستحکم اور محفوظ حدود میں بتائی جاتی ہے، لیکن قریبی جگہوں پر ہاٹ سپاٹ ہیں جہاں روسی فوجیوں نے خندقیں کھودی ہیں۔

اولینک کا کہنا ہے کہ پلانٹ کے ارد گرد کے علاقے کے جنگل میں کچھ جگہ آگ لگی ہے، جس سے اسے براہ راست خطرہ نہیں ہے۔ لیکن انھوں نے مزید کہا: ’فائر فائٹر وہاں نہیں جا سکتے کیونکہ اتنی بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں، یہ بہت خطرناک ہے۔‘

روس کے 2014 میں کریمیا اور ڈونباس کے علاقے کے کچھ حصوں کے الحاق کے بعد، انھوں نے کہا، یوکرین نے جوہری ایندھن کا ذخیرہ کیا، جو اب ان کے پاس دو سال تک کے لیے کافی ہے۔

یوکرین نے اب جوہری ایندھن فراہم کرنے کے لیے امریکی پاور کمپنی ویسٹنگ ہاؤس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کا مقصد 40 فیصد جوہری ایندھن کو تبدیل کرنا ہے جو کیئو کو اب بھی ماسکو سے ملتا ہے۔



Source link