روس یوکرین تنازع: خارخیو میں ہلاک ہونے والا انڈین طالبعلم بنکر سے نکل کر کھانا لینے گیا تھا

  • عمران قریشی
  • بی بی سی ہندی

8 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشن

نوین گیاناگودر خارخیو کے نیشنل میڈیکل یونیورسٹی میں میڈیسین کی تعلیم حاصل کر رہا تھا

یوکرین کے شہر خارخیو میں ایک انڈین طالبعلم جو شہر میں کرفیو کے خاتمے کے بعد منگل کی صبح بنکر سے نکل کر کھانا خریدنے کے لیے قریبی سپر مارکیٹ گئے تھے روسی گولہ باری کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

نوین ایس گیناگودر نامی یہ نوجوان خارخیو کی نیشنل میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔

ہلاک ہونے والے نوین گیناگودر کے ساتھی سری کانت چیناگودا نے خارخیو سے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ان کی نوین سے ان کی موت سے تھوڑی دیر پہلے بات ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ یوکرین کا شہر خارخیو اس وقت روسی حملے کی زد میں ہے اور انڈیا کے ہزاروں شہری یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ وہاں سے نکلنے کے مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

انڈیا اپنے شہریوں کو یوکرین سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن روسی حملے کے باعث نقل و حرکت میں مشکلات کی وجہ سے اسے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ نے نوین گیناگودر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ بھارتی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ خاندان کے ساتھ رابطے میں ہے۔

گذشتہ ہفتے یوکرین پر روسی حملے کے بعد یوکرین میں پھنسے ہوئے کئی طالبعلم ٹوئٹر پر پیغامات کے ذریعے خوراک کے حصول میں مشکلات کی شکایت کر رہے ہیں۔

خارخیو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نوین گیناگودر کے ساتھی طالبعلم سری کانت چیناگودا نے بی بی سی ہندی کو بتایا’ نوین نے مجھے یوکرینی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے فون کیا اور کہا کہ وہ اس کے اکاونٹ میں رقم ٹرانسفر کرے کیونکہ وہ ہم سب کے لیے زیادہ خوراک خریدنا چاہتا تھا۔‘

نوین گیناگودر اور سری کانت چیناگودا خارخیو نیشنل میڈیکل یونیورسٹی میں میڈیسن کی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور اپنی تعلیم کے چوتھے سال میں تھے۔

سری کانت چیناگودا نے بتایا کہ جب صبح شہر سے کرفیو ختم ہوا تو نوین گینا گودرا بنکر سے نکل کر قریبی سپر مارکیٹ تک گئے تھے۔

سری کانت چیناگودا نے بتایا کہ اس نے رقم ٹرانسفر کرنے کے پانچ دس منٹ بعد اپنے ساتھی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔

’وہ میرا فون نہیں اٹھا رہا تھا۔ میں نے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ بعد میں کسی نے فون اٹھایا اور وہ یوکرینی زبان میں بات کر رہا تھا جس کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔‘

Presentational grey line

روس کا یوکرین پر حملہ: ہماری کوریج

Presentational grey line

سری کانت چیناگودا نے بتایا کہ اس نے شیلٹر میں موجود کسی اور شخص سے فون پر بات کرنے والے شخص کی بات کروائی جس نے بتایا کہ میرا دوست مارا جا چکا ہے۔

’مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔ میں خود سپر مارکیٹ تک گیا۔ وہاں کوئی دھماکہ نہیں ہوا ہے۔‘

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کیا نوین گیاناگودر پر حملہ کہاں سے ہوا۔

سری کانت چیناگودر نے بتایا کہ وہ لوگ شیلٹر سے نکلنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کیونکہ وہاں روسی گولہ باری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

نوین گیناگودر کا تعلق ریاست کرناٹکا کے ضلع ہویری سے تھا۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ باساوراج بومائی نے ایک ٹوئٹر پیغام میں نوین کی موت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ہم وزارت خارجہ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور نوین کی میت کو واپس لانے کی پوری کوشش کریں گے۔‘

سری کانت چیاناگودر نے کہا کہ نوین ایک بہت ہی اچھا انسان اور محنتی طالبعلم تھا کہ اس نے اپنے تیسرے تعلیمی سال میں 95 فیصد نمبر حاصل کیے تھے۔



Source link