روس یوکرین تنازع: مغربی ممالک کی جانب سے روس پر لگائی گئی پابندیاں اور اس کا معاشی نقصان

25 فروری 2022، 19:49 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہReuters

مغربی ممالک نے یوکرین پر فوج کشی کے رد عمل میں روس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں۔

ان اقتصادی پابندیوں کا مقصد روس کی معیشت کو مفلوج کرنا اور صدر ولادیمیر پوتن کو ان کی فوجی مہم جوئی پر سزا دینا ہے۔

اقتصادی پابندیاں کیا ہوتی ہیں؟

اقتصادی یا سفارتی پابندیاں کسی ایک ملک کی طرف سے دوسرے پر اس لیے لگائی جاتی ہیں تاکہ مخالف کو ممکنہ جارحیت یا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے روکا جا سکے۔

ان میں فضائی اور سفری قدغنیں اور اسلحے کی فروخت پر پابندیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

یہ انتہائی اقدامات جو پابندیوں کی صورت میں کسی ملک پر لگائے جاتے ہیں وہ فوجی قوت کے استعمال کے بغیر کسی ملک کو اپنا رویہ یا پالیسیوں کو بدلنے کے لیے مجبور کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔

مغربی ممالک کیا پابندیاں لگا رہے ہیں؟

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے یہ کہتے ہوئے کہ ‘روس نے جنگ کا راستہ اختیار کیا ہے’ اعلان کیا کہ

  • روس کے چار بڑے بینکوں کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور ان کو ڈالروں میں کاروبار کرنے کی سہولت سے محروم کر دیا جائے گا۔
  • روسی ایوان صدر سے قربت رکھنے والے امراء پر پابندیاں لگا دی جائیں گی۔
  • امریکہ اور اس کے اتحادی روس سے ‘ہائی ٹیک’ یا جدید ترین آلات درآمد کرنے پر پابندی لگا دیں گے تاکہ اس کو اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے سے روکا جا سکے۔
روس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یورپی یونین میں شامل ملکوں کی پابندیاں:

  • روس کی بینکنگ مارکیٹ کے ستر فیصد حصے کو نشانہ بنانا اور دفاعی صنعت سے متعلق کمپنیوں سمیت سرکاری کمپنیوں سے کاروبار منقطع کرنا۔
  • توانائی کے شعبے کو زک پہنچانا اور روس میں تیل صاف کرنے والے کارخانوں میں استعمال ہونے والے آلات اور مواد کی درآمد پر پابندی۔
  • روسی فضائی کمپنوں کو جہاز اور آلات کی فروخت روکنا۔
  • ہائی ٹیک یا جدید ترین آلات میں استعمال ہونے والا خام مال یا پرزے جن میں ‘سیمی کنڈکٹر’ (نیم موصل) اور سوفٹ وئیر تک روس کی رسائی کو محدود کرنا۔

برطانیہ نے اعلان کیا ہے:

  • روس کے تمام بڑے بینکوں کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور انھیں برطانیہ کے مالیاتی نظام سے نکال باہر کیا جائے گا۔
  • ایسے قوانین وضح کیے جائیں گے جن کے تحت روسی کمپنیاں اور سرکار کے لیے یہ ممکن نہیں رہے گا کہ وہ برطانوی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کر سکیں۔
  • مزید افراد اور کمپنیوں کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔
  • روس کی سرکاری فضائی کمپنی ایئر فلوٹ پر بھی برطانیہ میں پابندی لگا دی گئی ہے۔
  • ان تمام درآمدی لائسینسوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے جن کے تحت ایسے آلات روس حاصل کرتا ہے جن کا غیر دفاعی صنعت کے ساتھ دفاعی صنعت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • تیل صاف کرنے والے کارخانوں کے لیے جدید ترین آلات کی درآمد پر پابندی
  • برطانوی بینک میں روسی شہریوں کی طرف سے جمع کرائی جانے والی رقوم پرحد کا تعین۔

جرمن چانسلر اولف شلز نے روس سے جرمنی تک بچھائی گئی گیس پائپ لائن ‘نارڈ سٹریم ٹو’ کی منظوری کو بھی روک دیا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ یوکرین پر حملے میں روس کا ساتھ دینے کی پاداش میں بیلاروس پر بھی مالیاتی پابندیوں میں توسیع کر رہے ہیں۔

ان پابندیوں کا روس پر کیا اثر پڑے گا؟

ہائی ٹیک آلات کی درآمد پر پابندی سے جن میں نیم موصل دھاتیں اور مائیکرو چِپ شامل ہیں، روس کی دفاعی اور خلائی پروگرام کے علاوہ گاڑیوں کی پیداوار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

روس کے مالیاتی اداروں پر پابندی درحقیقت روسی کرنسی روبل کی قدر میں اس حد تک کمی کرنے کی کوشش ہے کہ روس مالی بحران کا شکار ہو جائے۔

روسی حکومت کو ہو سکتا ہے اپنے بینکنگ کو مفلوج ہونے سے بچانے کے لیے بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے۔ لیکن روس کے زرمبادلہ کے ذخائر 630 ارب ڈالر کے قریب ہیں جو اس طرح کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔

برطانوی حکومت نے لندن کے مالیاتی اداروں اور بینکوں میں روس کے سرمائے پر مزید پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے۔

برطانوی حکومت نے ایک طویل عرصے سے التوا کا شکار ‘اکانومی کرائم بل’ کو جلد از جلد منظور کرنے کی بات بھی کی ہے جس سے لوگوں کو بینکوں میں پیسہ منتقل کرانے سے پہلے اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہو گا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔

روس کو مزید کن پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

مغربی ممالک مزید پابندیوں پر غور کر رہے ہیں۔ ان کے پاس موجود آپشنز میں یہ شامل ہے:

سوئفٹ نظام سے روس کی بے دخلی:

سوئفٹ عالمی سطح پر ‘فائنینشل میسیجنگ سروس’ ہے جو عالمی سطح پر سرمائے کی منتقلی کو سہل بنانے میں مدد دیتا ہے اور یہ گیارہ ہزار فائنینشل اداروں اور دو سو ملکوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

یوکرین نے مطالبہ کیا ہے کہ روس کو فوری طور پر اس نظام سے نکال دینا چاہیے۔

اس نظام سے نکال دیے جانے کے بعد روس کو تیل اور گیس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایران کو جب امریکہ کے دباؤ میں سنہ 2012 میں اس نظام سے الگ کیا گیا تھا تو ایران کی تیل اور گیس کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی نصف رہ گئی تھی جبکہ بیرونی تجارت سے ہونے والی آمدن 30 فیصد کم ہو گئی تھی۔

لیکن روس کو متبادل ذرائع سے آمدن حاصل ہو سکتی ہے جن میں مثال کے طور پر چین کا ‘کراس بارڈر انٹر بینک پیمنٹ سسٹم ‘ موجود ہے۔

روس کی تیل اور گیس کی برآمدات کو روکنا:

روس کی معیشت میں تیل اور گیس کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن کا حصہ بیس فیصد بنتا ہے جبکہ اس کی کل برآمدات سے حاصل ہونے والی نصف آمدن اسی شعبے سے آتی ہے۔

اسی وجہ سے تیل اور گیس روس سے خریدنے پر پابندی بہت مشکل کا باعث بن سکتی ہیں۔

لیکن یہ پابندیاں مغربی ملکوں کے لیے بھی پریشانیاں کھڑی کر سکتی ہیں کیونکہ یورپی یونین اپنی ضرویات کا 26 فیصد تیل اور 38 فیصد گیس روس سے حاصل کرتی ہے۔ گیس کی فراہمی میں قلیل مدت کے لیے تعطل بھی یورپ اور برطانیہ میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

روس کا ان پابندیوں پر کیا رد عمل ہے؟

روس کی وزارتِ خارجہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ بھی مغربی ملکوں کے خلاف اپنی پابندیاں لگائیں گے۔ اس میں ممکنہ طور پر یورپ کو گیس کی فراہمی کو معطل کی جا سکتی ہیں۔

برطانوی فضائی کمپنیوں کی روس میں پروازوں اور روسی ہوائی اڈوں پر اترنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

روس کے بینکنگ کے شعبوں پر پابندی سے ان کمپنیوں پر اثر پڑے گا جو روس کے ساتھ تجارت کرتی ہیں یا جن کے اثاتے روسی بینکوں میں موجود ہیں اور ہائی ٹیک آلات کی روس کو برآمدات سے مغربی صنعتوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔



Source link