روس یوکرین جنگ: بڑی تعداد میں روسی اپنا وطن کیوں چھوڑ رہے ہیں؟

  • ریحان دیمتری
  • جارجیا، تبلیسی

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ایک اندازے کے مطابق تقریباً 25000 روسی شہری ملک چھوڑ کر جارجیا چلے گئے ہیں

یوگینی لیامین جارجیا کی پارلیمان کے باہر یوکرین جانے والے ٹرک پر کپڑوں اور کھانے کے ڈبے رکھ رہے ہیں۔

لیامین ان 25 ہزار لوگوں میں سے ایک ہیں جو یوکرین پر حملے کے بعد روس چھوڑ کر جارجیا پہنچ گئے ہیں۔ جارجیا کے بڑے شہروں میں رہنے کے لیے سستی جگہیں تلاش کرنے کے لیے روسی لوگوں کو محنت کرنی پڑ رہی ہے۔

بہت سے لوگ اپنے سوٹ کیس اور پالتو جانوروں کے ساتھ دارالحکومت تبلیسی کی سڑکوں پر بھٹکتے نظر آ رہے ہیں۔

لیامین کے کوٹ پر نیلے اور پیلے رنگ کے رِبن لگے ہوئے ہیں۔ یہ یوکرین کے جھنڈے کا رنگ بھی ہے۔ اسی ربِن کی وجہ سے اُنھیں یوکرین پر حملے کے اگلے دن روس میں جنگ کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیٹیکل سائنس میں ڈگری رکھنے والے 23 سالہ لیامن کا کہنا ہے کہ ’میں سمجھ گیا تھا کہ پوتن کی حکومت کے خلاف کارروائی کا بہترین طریقہ روس چھوڑنا ہے۔ یوکرین کے لوگوں کی ہر ممکن مدد کرنا میری ذمہ داری ہے۔‘

روس چھوڑنے والے لوگ صرف جارجیا تک محدود نہیں ہیں۔ یورپی یونین، امریکا، برطانیہ اور کینیڈا نے روس کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اس لیے یہ لوگ ترکی، وسطی ایشیا اور جنوبی قفقاز جیسی جگہوں پر جا رہے ہیں جہاں پروازیں ابھی تک بند نہیں ہوئی ہیں۔ بہت سے لوگ آرمینیا بھی چلے گئے ہیں۔

یوکرین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

یوکرین پر روسی حملے جاری ہیں

دو لاکھ سے زائد روسی شہریوں نے ملک چھوڑ دیا

ایک روسی ماہر معاشیات کا اندازہ ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً دو لاکھ شہری ملک چھوڑ چکے ہیں۔

بیلاروس کے لوگ بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی مدد کرنے پر الیگزینڈر لوکاشینکو کی حکومت پر مغربی پابندیوں سے تنگ آ کر بیلاروس کے شہری بھی دوسرے ممالک میں پناہ لے رہے ہیں۔

اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ نہ صرف ہوائی جہازوں کا کرایہ بڑھ گیا ہے بلکہ استنبول اور آرمینیا کے دارالحکومت یریوان جیسے بڑے شہروں میں رہائش کے لیے زیادہ قیمتیں ادا کرنی پڑ رہی ہیں۔

اپنا پورا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آنیا نے کہا، ’استنبول جانے والے جہاز کا یک طرفہ کرایہ میری اور میرے شوہر کی پورے مہینے کی تنخواہ کے برابر تھا۔‘

آنیا نے روس چھوڑنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب روس میں غداری کے حوالے سے نیا قانون آیا۔ اس کے تحت یوکرین کی حمایت کرنے والوں کے لیے 20 سال تک قید کی سزا شامل ہے اور آنیا کو لگتا ہے کہ وہ بھی اس کا نشانہ بن سکتی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’بند سرحدوں کا خوف، سیاسی جبر اور جبری فوجی خدمات ہمارے ڈی این اے میں ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میری دادی ہمیں کہانیاں سنایا کرتی تھیں کہ کیسے وہ سٹالن کے دور میں خوف کے ماحول میں جیتے تھے۔‘

line

روس کا یوکرین پر حملہ: ہماری کوریج

line

ملک چھوڑنے والے زیادہ تر لوگ تکنیکی شعبے میں کام کر رہے ہیں اور دوسرے علاقوں سے بھی اپنا کام کر سکتے ہیں۔

تبلیسی کے ایک کیفے میں ایک ویڈیو گیم ڈیولپر نے مجھے بتایا کہ وہ اور ان کے جاننے والے زیادہ تر لوگ روس کی پالیسیوں سے متفق نہیں ہیں اور جانتے ہیں کہ اب کسی بھی مظاہرے کو سختی سے دبا دیا جائے گا۔

’احتجاج کا ایک طریقہ، روس چھوڑ دو‘

ایگور (فرضی نام) نے کہا، ’اب احتجاج کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم ملک چھوڑ دیں، اپنا پیسہ اور ہنر اپنے ساتھ لے جائیں۔ ہمارے آس پاس کے تقریباً ہر شخص نے یہی طریقہ اختیار کیا ہے۔‘

تاہم، ایگور جارجیا کے دارالحکومت کو چھوڑنے کا بھی منصوبہ بنا رہے ہیں کیونکہ یہاں اُنھیں اچھا نہیں لگ رہا۔

ایئر بی این بی کے مالکان کی جانب سے روس اور بیلاروس کے شہریوں کو رہائش فراہم کرنے سے انکار کرنے کی متعدد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ان میں سے ایک نے بیلاروس میں ایک جوڑے سے کہا، ’میں روسیوں اور بیلاروسیوں کو اپنے ساتھ نہیں رکھتا۔ آپ کے پاس چھٹیاں گزارنے کا وقت نہیں ہے۔ آپ اپنی بدعنوان حکومتوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔‘

ایگور نے شکایتی لہجے میں کہا ’اُنھیں لگتا ہے کہ ہم روس سے صرف اس لیے بھاگے ہیں کہ وہاں ایپل پے کام نہیں کر رہا۔ ہم اپنے آرام کے لیے نہیں بھاگ رہے، ہم نے وہاں اپنا سب کچھ کھو دیا، ہم پناہ گزین ہیں۔ پوتن کی ارضی سیاست نے ہماری زندگیاں برباد کر دیں۔‘

تبلیسی پبلک سروس ہال میں پہنچنے والے نئے لوگ کاروبار یا گھر کے لیے اندراج کروا رہے ہیں۔

بیلاروس کے دارالحکومت منسک کی آئی ٹی کی ماہر کرسٹینا نکیتا نے ایک کاروباری شخصیت کے طور پر اندراج کروایا ہے۔ اس کے ذریعے وہ جارجیا کے بینک میں اکاؤنٹ کھول سکیں گی۔

ریلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

تقریباً 30,000 جارجیائی باشندوں نے بڑے مظاہروں کے دوران یوکرین کے صدر زیلنسکی کا خطاب سنا

کرسٹینا کہتی ہیں، ’ہم اس لیے بھاگے ہیں کیونکہ ہم اپنی حکومتوں کا ساتھ نہیں دیتے، ہم یہاں محفوظ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمیں صرف ہماری شہریت کی وجہ سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ مجھے اپنے ملک کا نام چھپانا پڑ رہا ہے، جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں کہاں سے ہوں تو میں گھبرا جاتی ہوں۔‘

یوکرین میں جنگ شروع ہوتے ہی تبلیسی میں یوکرین کی حمایت میں بہت بڑی ریلیاں نکالی گئیں۔ ایک حالیہ سروے سے پتا چلا ہے کہ جارجیا کے 87 فیصد شہریوں کا خیال ہے کہ یوکرین کی جنگ روس کے ساتھ ان کی اپنی جنگ جیسی ہے۔

لیکن جارجیا کے بہت سے شہریوں کو اتنی بڑی تعداد میں روسی شہریوں کا اپنے ملک میں آنا پسند نہیں آ رہا کیونکہ جارجیا پر روسی حملے کو 14 سال سے بھی کم عرصہ ہوا ہے۔

بعض کو یہ خدشہ بھی ہے کہ صدر پوتن یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ بیرون ملک مقیم روسی شہریوں کو تحفظ کی ضرورت ہے۔ اس بہانے پوتن نے 2008 میں جنوبی اوسیشیا میں اپنی فوج بھیجنے کے فیصلے کا دفاع کیا تھا۔ آج بھی جارجیا کا 20 فیصد علاقہ روس کے قبضے میں ہے۔

تاہم ٹیکنالوجی انٹرپرینیور لیو کلاشنکوف کا خیال ہے کہ روسی لوگوں کی آمد جارجیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔ قطار میں کھڑے ہو کر اُنھوں نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر تارکین وطن کے لیے ایک گروپ بنایا۔

اُنھوں نے کہا کہ میرے آگے 50 اور پیچھے 50 لوگ تھے۔ یہ لوگ میرے گروپ کے پہلے سبسکرائبر بنے اور اب ہمارے گروپ میں تقریباً 4000 ممبرز ہیں۔

تمام اراکین کہاں رہنا ہے، بینک اکاؤنٹ کھولنے کا طریقہ کیا ہے اور کیا عوامی مقامات پر روسی بولنا محفوظ ہے جیسے معاملات پر گروپ میں بات کرتے ہیں۔

یوگینی لیامین جارجیائی زبان بولنا اور لکھنا سیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں پوتن کے خلاف ہوں، میں جنگ کے خلاف ہوں۔ میں اب بھی اپنے روسی بینک اکاؤنٹ سے رقم نہیں نکال سکتا، لیکن یہ مسئلہ یوکرین کے لوگوں کی پریشانی سے بڑھ کر نہیں ہے۔‘



Source link