ساہیوال: کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور ان کی ویڈیوز بنانے والے گروہ کا انکشاف، چار ملزمان گرفتار

  • شاہد اسلم
  • صحافی

12 ستمبر 2021

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ساہیوال میں کم عمربچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور اس سنگین جرم کی مبینہ فحش ویڈیوز بنانے والے گروہ کا انکشاف ہوا ہے۔

دو روز قبل ساہیوال کے تھانہ فرید ٹاؤن کی پولیس نے چار ملزمان پر مشتمل ایسے گروہ کو القریش ٹاؤن فرید شاہ روڈ پر واقع ایک میرج سینٹر سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر بچوں سے بد فعلی کرتا تھا اور اس غیر قانونی عمل کی فحش ویڈیوز بنانے میں ملوث تھا۔

انچارج انویسٹیگیشن تھانہ فرید ٹاؤن سب انسپکٹر عمر دراز نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پولیس نے اس سنگین جرم میں ملوث چار ملزمان بشمول طارق جاوید، ریاست علی، آصف اصغر اور حافظ احتشام کو فائن میرج سینٹر سے گرفتار کیا ہے ۔سب انسپکٹر عمر دراز کے مطابق چاروں ملزمان کا تعلق ساہیوال کے مختلف علاقوں سے ہی ہے اور ملزم طارق جاوید اور ملزم حافظ احتشام کے موبائل فونز سے کم از کم 46 فحش ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سب انسپکٹر عمر دراز کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے پولیس کو کوئی متاثرہ بچہ نہیں ملا۔ ‘ہم نے ملزمان کے قبضے سے ایک عدد یو ایس بی بھی برآمد کی ہے جس میں سے تین ملزمان کی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیوز بھی برآمد ہوئی ہیں جبکہ ملزم حافظ احتشام بوقت وقوعہ ویڈیوز بناتا تھا۔‘

سب انسپکٹر عمر دراز کے مطابق ملزم حافظ احتشام بعد میں خود بھی اس جرم کا ارتکاب کرتا تھا۔ دوسری طرف ایس ایچ او تھانہ فرید ٹاؤن محمد ساجد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ متاثرہ بچوں کی عمریں 8 سے 10سال کے درمیان تھیں۔

سب انسپکٹر عمر دراز نے بی بی سی کو بتایا کہ دوران تفتیش گرفتارملزمان نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ملزم ریاست جو کہ نیو چوہدری بس سٹینڈ اڈا پر بطور ہاکر کافی عرصہ سے کام کر رہا تھا وہ ان بچوں کو جو گھر سے بھاگ کر یا اڈے پر بھیک مانگنے کے لیے آتے اور ان سمیت سکول کے بچوں کو بھی ڈرا ،دھمکا کر اور ورغلا کر میرج سینٹر پر لے جاتا تھا جہاں باقی ملزمان مل کر ان بچوں سے مبینہ جنسی زیادتی کرتے اور ان کی فحش ویڈیوز بھی بناتے تھے۔

sahil

،تصویر کا ذریعہSahil

پولیس نے پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور چائلڈ پورنوگرافی کی دفعات 292-C، 377 اور 377-B کے تحت ایف آئی آر نمبر 679/21 درج کر لی ہے جس کی سزاسات سال ہے۔ پولیس حکام کے مطابق مزید ملزمان کی تلاش کے لیے تفتیش جاری ہے۔

انچارج انویسٹیگیشن تھانہ فرید ٹاؤن سب انسپکٹر عمر دراز نے بی بی سی کو بتایا کہ دوران تفتیش ملزمان نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ 2018 سے بچوں کے ساتھ بد فعلی اور ان کی فحش ویڈیوز بنانے جیسے سنگین جرم میں ملوث تھے۔

ایک سوال کے جواب میں سب انسپکٹر عمر دراز نے بتایا کہ تمام ملزمان ان پڑھ ہیں اور ابھی تک کوئی ایسا سراغ نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ ملزمان یہ فحش ویڈیوز کسی ویب سائٹ یا کسی غیر ملکی نیٹ ورک کو بیچ کر پیسے وغیرہ بھی کما رہے تھے۔

’ویڈیوز میں نظر آنے والے بچوں میں سے ابھی تک ہم ایک بھی متاثرہ بچے یا اس کے خاندان تک نہیں پہنچ پائے ہیں اور تفتیش میں فی الحال ہمارے لیے یہ سب سے بڑا چیلینج یہی ہے۔‘

وکٹم آئڈنٹیفیکیشن یا متاثرہ شخص کی شناخت کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کتنی اہم ہوتی ہے اس سوال کے جواب میں سینئر قانون دان اورپاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین عابد ساقی نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی بھی کیس میں متاثرہ شخص کا شامل ہونا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ بطور گواہ عدالتی کارروائی کا حصہ بنے۔

یہ بھی پڑھیئے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

،ویڈیو کیپشن

ہر روز اوسطاً نو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے: اعداد و شمار

’ان کیسیز میں جن میں ویڈیوز بنانے یا ان کی تشہیر کرنے جیسے معاملات بھی جڑے ہوں تب ان میں اگر متاثرہ شخص یا اشخاص نا بھی شناخت ہوسکیں لیکن فرانزک سے ان ویڈیوز کا ٹیمپرنگ کے بغیر اصلی ہونا ثابت ہو جائے تو ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے یہ کافی ہے۔‘

سب انسپکٹر عمر دراز کے مطابق ابھی تک ان ویڈیوز کی جانچ کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی یعنی ایف آئی اے سے بھی رابطہ نہیں کیا گیا لیکن بہت جلد ایف آئی اے کی مدد بھی لی جائے گی تاکہ اس کیس میں مزید سراغ بھی اکھٹے کیے جا سکیں۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہThinkstock

ایس ایچ او تھانہ فرید ٹاؤن محمد ساجد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ویڈیوز میں نظر آنے والے بچوں کی پہچان کے لیے نادرا حکام سے بھی رابطہ کیا جائے گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ نادرا کے ڈیٹا میں موجود فیملی ٹری سے متاثرہ بچوں یا ان کے خاندان تک پہنچا جا سکے۔ ایس ایچ او محمد ساجد کے مطابق پولیس کی کوشش ہے کہ تمام متاثرہ بچوں کی شناخت ہو اور انھیں اس کیس میں فریق بنا کر ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے کیونکہ ابھی تک متاثرہ بچوں یا ان کے خاندان کے کسی فرد نے پولیس سے رابطہ نہیں کیا۔

’ہمیں ہفتہ کو ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ ملا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ہم ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمان سے تفتیش کو آگے بڑھائیں تاکہ مزید شواہد حاصل کر سکیں۔‘

مزید پڑھیئے

اس سوال کے جواب میں کہ پولیس ملزمان تک کیسے پہنچی، سب انسپکٹر عمر دراز نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ روز سے چند ویڈیوز، واٹس ایپ گروپوں میں گردش کر رہی تھیں جو پولیس تک پہنچیں اور ان کی جانچ پڑتا جاری تھی اور اس کے ساتھ پولیس مخبروں کو بھی الرٹ کیا گیا تھا کہ وہ بھی جائے وقوعہ کو ڈھونڈنے میں مدد دیں تب جاکر ہمیں جائے وقوعہ کے بارے میں پتا چلا جس کے بعد وہاں چھاپہ مار کر ملزمان کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے ویڈیوز بھی برآمد کی گئیں۔

ساہیوال میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کی فحش ویڈیوز بنانے جیسا سنگین جرم نیا نہیں ہے۔ 2015میں پنجاب کے ہی ایک اور شہر قصور میں ایک ایسا افسوسناک سکینڈل منظر عام پر آیا تھا جس میں 200سے 300 کم عمر بچوں کے ساتھ زبردستی جنسی زیادتی اور ان کی ویڈیوز بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ اسی طرح سال 2018 کے آغاز میں قصور شہر ہی میں ایک اور افسوناک واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک سات سالہ بچی زینب فاطمہ کو اغواء اور جنسی زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔

پاکستان میں آئے روز بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے سینئر قانون دان عابد ساقی کہتے ہیں کہ زینب قتل کیس کے بعد بلاشبہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے زینب الرٹ بل پاس کیا ہے جس میں سزاؤں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ٹرائل جلد مکمل کرنے کی بات کی گئی ہے لیکن حقیقت میں ان قوانین کا نفاذ ہی اصل مسئلہ رہا ہے۔ ’سزائیں بڑھانے سے یہ (جنسی زیادتی جیسے سنگین) جرائم ختم نہیں ہونگے۔ ہمیں بطور معاشرہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر انجام دینا ہوگا کیونکہ ہمارے ہاں تعلیم اور شعور کی کمی ہے۔‘

عابد ساقی کے مطابق صرف قانون سازی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ اس کے نفاذ کا ہے۔ عابد ساقی کے مطابق سماجی انصاف، تعلیم، روزگار اور قانون کے نفاذ سے ہی اس مسئلہ پر قابو پانا ممکن ہے ورنہ ایسے جرائم مرتکب ہوتے رہیں گے۔ ’ایسے جرائم میں اب پیسے کمانے کا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے کیونکہ ملزمان سمجھتے ہیں کہ وہ ایسی ویڈیوز بنا کر انھیں بیچ کر پیسے بھی کما سکتے ہیں اور ہم نے قصور واقعات میں یہ سب دیکھا ہے۔‘

ایک اور سوال کے جواب میں عابد ساقی نے بتایا کہ ان کے خیال میں ایسی واقعات کا تسلسل سے ہونا پولیس کی ناکامی کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ اگر کوئی شخص گھر میں بیٹھ کر ایسی ویڈیوز بناکر اپ لوڈ کردیتا ہے تو پولیس ایسے جرائم کو ہونے سے کیسے روک سکتی ہے۔ ’ہاں ایسے ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے سے (معاشرے پر) اثر ضرور پڑے گا۔‘



Source link

Leave a Reply