سرحدوں پر تناؤ کے ماحول میں تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے: انڈیا

  • ابھینو گوئل
  • بی بی سی نامہ نگار

22 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہPID

انڈیا، چین وزیر خارجہ

،تصویر کا ذریعہ@DRSJAISHANKAR

،تصویر کا کیپشن

2020 میں انڈیا اور کشمیر کی افواج میں ہونے جھڑپوں کے بعد پہلی بار دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی ہے

’کشمیر پر ہم نے آج ایک بار پھر اپنے بہت سے اسلامی دوستوں کے مطالبات سنے ہیں اور اس معاملے پر چین کی بھی یہ ہی خواہش ہے۔ چین کشمیر سمیت دیگر تنازعات کے حل کے لیے اسلامی ممالک کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔‘

23 مارچ کو چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں او آئی سی کے اجلاس سے خطاب میں یہ بیان دیا۔

ایسی صورتحال میں جب چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا دورہ انڈیا دورہ متوقع تھا، کشمیر پر یہ بیان خطے میں بحث کا موضوع بن گیا۔

اب وانگ یی پاکستان سے کابل کے راستے انڈیا پہنچے ہیں اور ان کی انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔

2020 میں لداخ کے علاقے میں انڈیا اور چین کی افواج میں والی جھڑپوں کے بعد پہلی بار دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے ملاقات کے بعد پریس کو بتایا کہ انھوں نے اپنے چینی ہم منصب کو بتایا ہے کہ سرحدوں پر تناؤ اور بڑی تعداد میں فوجیوں کی موجودگی میں دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے۔

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے بتایا کہ انھوں نے جموں و کشمیر کے بارے میں چینی وزیر خارجہ کے اسلام آباد میں بیان پر بھی احتجاج کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں چین کے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے انڈیا کی جانب سے چینی وزیر خارجہ کا نام لیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا اس معاملے میں سختی اپنا رہا ہے۔

انڈیا نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہم او آئی سی اجلاس کی افتتاحی تقریب میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی تقریر میں انڈیا کے حوالے سے غیر ضروری بات پر تنقید کرتے ہیں۔

’ریاست جموں و کشمیر سے متعلق معاملات مکمل طور پر انڈیا کے اندرونی معاملات ہیں۔ چین سمیت دنیا کے کسی بھی ملک کو اس پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔‘

لیکن اسلامی تعاون تنظیم میں چین کے اس بیان کا کیا مطلب ہے؟ کیا پاکستان اس فورم کے ذریعے ممبر ممالک کو انڈیا کے خلاف متحد کر رہا ہے؟ یا یہ بیان محض رسم کی ادائیگی ہے، جس کا انڈیا پر کوئی اثر نہیں ہونے والا ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کشمیر پر چین کے بیان کا مطلب کیا؟

یہ پہلا موقع نہیں جب چین نے انڈیا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر بیان دیا ہو۔ سنہ 2019 میں چین نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مختلف فورمز پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

کتاب ’نہرو، تبت اور چین‘ کے مصنف اوتار سنگھ بھسین کہتے ہیں کہ چین نے جموں و کشمیر کو کبھی انڈیا کا حصہ نہیں سمجھا۔

انڈیا اور اس کے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات پر برسوں تک لکھنے والے اوتار سنگھ بھسین اس بات کی وضاحت کے لیے تاریخ کے چند اہم واقعات کا حوالہ دیتے ہیں۔

’سنہ 1954 میں چین اور انڈیا کے درمیان تبت کے حوالے سے ایک معاہدہ ہوا تھا جسے ہم ’پنچ شیل معاہدہ‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ معاہدہ چین کے علاقے تبت اور انڈیا کے درمیان باہمی تعلقات اور تجارت کے بارے میں تھا۔

بی بی سی سے بات چیت میں اوتار سنگھ بھسین نے بتایا کہ ’ردک اور روانگ گزرگاہیں لداخ کو تبت سے جوڑتی تھیں۔ انڈیا نے معاہدے کے مسودے میں چین کو یہ لکھ کر دیا تھا کہ تبت میں یاترا اور تجارت ان راستوں سے جاری رہے گی لیکن چین نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ چین نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور یہ حتمی معاہدے میں شامل نہیں تھا۔‘

اوتار سنگھ بھسین ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ سنہ 1955 میں ریاست کشمیر کے نائب وزیر کشک بکولا تبت جانا چاہتے تھے۔ انڈیا نے چین کو ایک نوٹ بھیجا کہ ان کے لیے وزارتی سطح کے سرکاری انتظامات کیے جائیں۔ چین نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ چین نے کہا کہ ان کے لیے وی وی آئی پی انتظامات کیے جا سکتے ہیں لیکن انھیں وزیر کا درجہ دے کر انتظامات نہیں کیے جا سکتے۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ چین کشک بکولا کو وزیر کا درجہ دے کر جموں و کشمیر پر اپنا نظریہ تبدیل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چین تمام فورمز پر انڈیا کی نظر میں جموں و کشمیر پر متنازعہ بیانات دیتا ہے۔

او آئی سی میں جموں و کشمیر پر چین کے بیان کی اور بھی وجوہات ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فور سکول آف مینجمنٹ میں چین کے امور کے ماہر پروفیسر فیصل احمد کا کہتے ہیں کہ ’چین علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے مختلف فورمز پر اس طرح کی بیان بازی کرتا ہے لیکن انڈیا پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔‘

چین انڈیا معائدہ

،تصویر کا ذریعہMEA.GOV.IN

چین کے وزیر خارجہ کا دورہ انڈیا

دو سال قبل لداخ کے کئی مقامات پر چینی فوجیوں نے دراندازی کی تھی۔ اس کے بعد وادی گلوان میں چین اور انڈیا کے فوجیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہوئی جس میں 20 انڈین فوجی ہلاک اور متعدد چینی فوجی مارے گئے۔

یہ پہلا موقع ہے جب گلوان میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد کوئی سینئیر چینی رہنما انڈیا کا دورہ کر رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ دورہ شیڈول تھا تو اس سے پہلے چین نے جموں و کشمیر پر آئی او سی میں بیان کیوں دیا؟ کیا اس بیان سے گفتگو پر منفی اثر نہیں پڑے گا؟

چینی امور کے ماہر پروفیسر فیصل احمد کہتے ہیں کہ ’چین کے وزیر خارجہ کا انڈیا آنا بڑی بات ہے۔ ہمیں اسے ایسا دیکھنا چاہیے کہ چین اس حقیقت کو اہمیت دے رہا ہے کہ انڈیا ایشیا میں ایک بڑا کھلاڑی ہے۔ اس سے قبل یہ کہا گیا تھا کہ چین کثیر قطبی دنیا کے بیچ میں یک قطبی ایشیا چاہتا ہے لیکن اب چین محسوس کر رہا ہے کہ وہ ایشیا میں اکیلا کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اگر ایشیا کو ایک بڑی طاقت کے طور پر قائم کرنا ہے تو اسے انڈیا کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین انڈیا کی مدد سے امریکہ کے خلاف رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں انڈیا کے ساتھ تعلقات چین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

پروفیسر فیصل احمد کا خیال ہے کہ ’روس یوکرین کے بحران میں چین کو لگتا ہے کہ انڈیا امریکہ سے دوری بنا رہا ہے۔ ایسے میں وہ انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کر سکتا ہے اور دونوں مل کر ایک بڑی طاقت بن کر ابھر سکتے ہیں۔‘

شی جن پنگ، مودی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مسلم ممالک جموں و کشمیر کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

اسلامی تعاون تنظیم کے فورم سے ہر سال جموں و کشمیر کے بارے میں بیانات دیے جاتے ہیں۔ اس میں پاکستان کا اہم کردار رہا ہے۔

پاکستان یہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ جموں و کشمیر کو کتنے اسلامی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

خارجہ امور کے ماہر قمر آغا کا ماننا ہے کہ انڈیا ایسے بیانات سے پہلے قدرے پریشان ہوتا تھا لیکن اب ایسا نہیں۔

بی بی سی سے بات چیت میں قمر آغا کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر جیسے مسلم ممالک کے ساتھ انڈیا کے تعلقات بہت اچھے ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم مودی کو ان ممالک کا سب سے بڑا شہری اعزاز ملا۔ او آئی سی میں کشمیر کے حوالے سے بیانات ضرور آتے ہیں لیکن انڈیا کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات میں کوئی اسلامی ملک یہ مسئلہ نہیں اٹھاتا اور نہ ہی اس کی حمایت میں کوئی مہم چلاتا ہے۔‘

قمر آغا کے مطابق پاکستان ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو اسلامی تعاون تنظیم کے فورم پر لاتا ہے لیکن کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

سنہ 2020 میں بھی او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کونسل (سی ایف ایم) کے اجلاس میں کشمیر کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس ملاقات میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کا مسئلہ زور شور سے اٹھایا لیکن اس وقت بھی پاکستان کو عرب ممالک کی حمایت حاصل نہیں تھی۔

او آئی سی

،تصویر کا ذریعہOIC

او آئی سی پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا غلبہ

او آئی سی اسلامی یا مسلم اکثریتی ممالک کی تنظیم ہے۔ کل 57 ممالک اس کے اراکان ہیں۔ او آئی سی پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا غلبہ ہے۔ سعودی عرب دنیا کے ان 10 ممالک میں بھی شامل نہیں، جہاں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی ہے تاہم مکہ اور مدینہ کی وجہ سے سعودی عرب اسلام کے نقطہ نظر سے بہت اہم ہے۔

ماہرین کے مطابق ان دونوں ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اتنے اچھے نہیں۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان اپنے قرضوں کی جلد ادائیگی کرے۔ خاص طور پر جب سے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ترکی، ایران اور ملائیشیا کے ساتھ مل کر او آئی سی کے متوازی ایک تنظیم بنانے کی کوشش کی۔

سنہ 2020 میں متحدہ عرب امارات نے پاکستانی شہریوں کے لیے نئے ویزوں کے اجرا پر بھی عارضی طور پر پابندی لگا دی تھی۔

اگر ہم انڈیا کی بات کریں تو وہ او آئی سی کا رکن نہیں، اس کے باوجود انڈیا مسلم آبادی کے لحاظ سے دنیا کے تین بڑے ممالک میں شامل ہے۔



Source link