سرفراز احمد اور کالج گراؤنڈ کا تنازع: یہ میدان سابق پاکستانی کپتان کی کرکٹ اکیڈمی کا ہے یا گرلز کالج کا؟

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

40 منٹ قبل

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد کے نام سے منسوب کرکٹ اکیڈمی کا گراؤنڈ کس کا ہے؟ کیا یہ واقعی قریب میں قائم خواتین کالج کی ملکیت ہے؟ کیا سرفراز احمد کرکٹ اکیڈمی ایک سرکاری کالج کی زمین پر قائم کی گئی یا یہ گراؤنڈ کرکٹ اکیڈمی کا ہے؟

یہ وہ سوالات ہیں جو پچھلے کئی روز سے گردش کر رہے ہیں اور اس بارے میں متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔

اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ کالج، کرکٹ اکیڈمی اور گراؤنڈ کے محل وقوع کو دیکھ لیا جائے تاکہ صورتحال سمجھنے میں آسانی رہے۔

کالج اور اکیڈمی کا محل وقوع

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے بلاک این میں بنے مکانات کے درمیان یہ گراؤنڈ واقع ہے جو چار دیواری کے اندر ہے۔ اسی گراؤنڈ کے اندر سرکاری کالج کی مرکزی عمارت اور اس سے ملحقہ آڈیٹوریم اور جمنازیم واقع ہے۔

اس گراؤنڈ میں داخل ہونے کے دو راستے یا دو گیٹ ہیں۔ ایک کو مرکزی گیٹ کا نام دیا گیا ہے جو کالج کی عمارت اور گراؤنڈ کے عین سامنے ہے۔اس گیٹ پر سرفراز احمد کرکٹ اکیڈمی اور سخی حسن جمخانہ کا نام دور سے پڑھا جاسکتا ہے۔

دوسرا گیٹ ایک چھوٹی سی گلی سے گزرتا ہوا باہر کی طرف نکلتا ہے جس کے اطراف مکانات ہیں۔ اس گیٹ پر گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کا بورڈ نصب ہے۔

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج

گراؤنڈ کی ملکیت کے دو دعویدار

اس تنازع کا مرکزی سوال یہ ہے کہ گراؤنڈ کس کا ہے؟

سرفراز احمد کرکٹ اکیڈمی کہتی ہے کہ اسے یہ گراؤنڈ سابق میئر کراچی وسیم اختر نے دیا تھا جبکہ دوسری جانب گرلز کالج کی پرنسپل پروفیسر حسین فاطمہ کا دعوی کیا ہے کہ یہ گراؤنڈ کالج کا حصہ ہے۔

کالج کی پرنسپل کا مؤقف

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نے حال ہی میں کام کرنا شروع کیا ہے۔ اس کی پرنسپل پروفیسرحسین فاطمہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی سی ون میں کالج کے لیے سات ایکڑ زمین مختض کی گئی تھی اور یہ گراؤنڈ کالج کا حصہ ہے جسے ماسٹرپلان میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

پروفیسر حسین فاطمہ کا یہ کہنا ہے کہ اگر ان کے پاس تمام دستاویزی شواہد نہ ہوتے تو وہ کیسے وثوق سے یہ کہہ سکتی تھیں کہ یہ گراؤنڈ کالج کا حصہ ہے۔

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی پرنسپل پروفیسرحسین فاطمہ
،تصویر کا کیپشن

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی پرنسپل پروفیسرحسین فاطمہ

انھوں نے بی بی سی اردو کے ساتھ ایک دستاویز بھی شیئر کی ہے جو پروجیکٹ پروفائل کے ٹائٹل سے ہے جس میں اخراجات کی رقم کے علاوہ یہ درج ہے کہ اس پلاٹ کا رقبہ سات ایکڑ ہے اور اس کے منصوبوں میں مرکزی عمارت، آڈیٹوریم اور جمنازیم ہال شامل ہیں۔

اس دستاویز میں انڈرگراؤنڈ اور اوور ہیڈ ٹینک کا بھی ذکر موجود ہے لیکن اس میں کہیں پر گراؤنڈ کا ذکر موجود نہیں۔

توجہ پی ایس ایل پر مرکوز ہے

سرفراز احمد سے جب ان کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر ان کی مکمل توجہ پی ایس ایل پر مرکوز ہے لہذا وہ اس معاملے پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھتے ۔

گیٹ استعمال کرنے کا جھگڑا

اس معاملے میں ایک تنازع گیٹ کا بھی ہے۔ پروفیسر حسین فاطمہ کا کہنا ہے کہ کالج آنے والی بچیاں مرکزی گیٹ سے آتی ہیں اور آئندہ بھی آئیں گی کیونکہ سائیڈ گیٹ سنسان گلی میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ خدا نہ کرے کوئی مسئلہ کھڑا ہوجائے۔

دوسری جانب کالج کی انتظامیہ کو کرکٹ اکیڈمی کی انتظامیہ کی جانب سے مرکزی گیٹ استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش بھی کی گئی اور کہا گیا کہ کالج میں داخلے کے لیے سائیڈ گیٹ استعمال کیا جائے۔

پروفیسر حسین فاطمہ نے کہا کہ نو فروری سے ہی کالج فنکشنل ہوا ہے اور پہلے روز اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے باقاعدہ اسمبلی کے بعد اسلامیات کی کلاس لی ہے۔ اس کالج میں ساڑھے چار سو بچیوں نے داخلہ لیا ہے۔

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کا گیٹ
،تصویر کا کیپشن

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کا گیٹ

انھوں نے کہا کہ رفاہی پلاٹ فلاح بہبود کے لیے ہوتے ہیں اور ان کا اسٹیٹس تبدیل نہیں ہوسکتا۔

پروفیسر حسین فاطمہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو تحریری درخواست ارسال کردی ہے جبکہ سیکریٹری ایجوکیشن نے اس سلسلے میں کمشنر کراچی کو بھی خط بھیجا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب سے یہ معاملہ ہوا ہے انھیں ڈرایا دھمکایا بھی گیا ہے۔انھوں نے اس ضمن میں نیب سے بھی رابطہ کیا تھا لیکن نیب کا جواب تھا کہ یہ ان کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر کالجز سندھ راشد کھوسہ نے جو پروفیسر حسین فاطمہ کے ساتھ موجود تھے انہوں نے بھی بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے یہی بات دوہرائی کہ یہ گراؤنڈ درحقیقت کالج کا ہی حصہ ہے کیونکہ جو سات ایکڑ زمین اس کالج کے لیے الاٹ کی گئی تھی اس میں یہ گراؤنڈ بھی شامل ہے۔

سرکاری مؤقف کیا ہے؟

بی بی سی اردو نے کالج کی پرنسپل پروفیسر حسین فاطمہ کی گفتگو اور گراؤنڈ کو کالج کا حصہ قرار دینے کے دعوے کے بارے میں سرکاری مؤقف جاننے کے لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سینیئر ڈائریکٹر کلچر اینڈ سپورٹس سیف عباس سے رابطہ کیا جو اس سے قبل کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر لینڈ بھی رہ چکے ہیں۔

سیف عباس نے اس بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے بلاک این میں سولہ ایکڑ کا ایک میدان تھا جس کے چاروں اطراف مکانات تھے۔

اس میدان میں کرکٹ کھیلی جاتی رہی تھی اور کسی زمانے میں سخی حسن جم خانہ کے نام سے کرکٹ کلب رجسٹرڈ ہوا تھا جس سے سرفراز احمد نے کرکٹ کھیلنی شروع کی تھی۔ یہ کاکا گراؤنڈ کے نام سے مشہور تھا۔

سیف عباس کا کہنا ہے کہ 1979 میں جب دوسری لوکل گورنمنٹ آئی اور عبدالستار افغانی میئر بنے تو اس گراؤنڈ کے ایک کونے میں مسجد بنادی گئی اور جب 2005 ء میں مصطفی کمال آئے تو انہوں نے اس میدان میں مہدی حسن پارک بھی بنادیا۔

سیف عباس کا کہنا ہے کہ اس سولہ ایکڑ کے میدان کو مختلف پلاٹس میں تقسیم کردیا گیا جن میں گراؤنڈ کے لیے سات ایکڑ مختص کیے گئے جبکہ پبلک اسکول کے لیے پانچ ایکڑ رکھے گئے جبکہ چار ایکڑ پر مسجد اور مہدی حسن پارک ہے۔

کاکا گراؤنڈ
،تصویر کا کیپشن

کاکا گراؤنڈ

سیف عباس کا کہنا ہے کہ 2003ء میں جب ایجوکیشن کا ادارہ سٹی گورنمنٹ کے ماتحت آیا تو سٹی گورنمنٹ نے ایک کالج کا منصوبہ تیار کیا اور کالج کے لیے ایس ٹی ون پلان کے تحت نارتھ ناظم آباد کے بلاک جی میں کالج کے لیے زمین رکھی گئی لیکن بلاک جی میں یہ کالج نہ بن سکا اور اسے جلدبازی میں بلاک این میں منتقل کردیاگیا۔

سیف عباس کہتے ہیں کہ کاکا گراؤنڈ میں کرکٹ جاری تھی کہ 2004ء میں گراؤنڈ کے ایک کونے میں کالج بنادیا گیا لیکن اس کا گیٹ گراؤنڈ کی دوسری طرف سے نکالا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ کالج اگرچہ 2012ء میں مکمل ہوگیا تھا لیکن یہ فنکشنل نہیں ہوسکا حالانکہ اس کے لیے پرنسپل کی تقرری بھی کردی گئی تھی۔

سرفراز احمد کی انٹری کیسے ہوئی؟

سرفراز احمد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

2017ء میں اس گراؤنڈ کو گھاس کا کردیا گیا اور ٹرف پچ بھی بنادی گئی جس کا افتتاح اس وقت کے میئر کراچی وسیم اختر نے کیا۔ اس موقع پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد بھی موجود تھے جو چیمپئنز ٹرافی جیت کر آئے تھے۔

اس موقع پر میئر وسیم اختر نے اس گراؤنڈ کا نام کاکا گراؤنڈ سے تبدیل کرکے سرفراز احمد کرکٹ اکیڈمی رکھنے کا اعلان کیا اور یہ بھی کہا کہ جس طرح راشد لطیف کو گراؤنڈ دیا گیا ہے اسی طرح یہ گراؤنڈ سرفراز احمد کو دے دیں گے۔

لیکن آج تک باقاعدہ طور پر کاغذات میں گراونڈ سرفراز احمد اکیڈمی کے حوالے نہیں کیا گیا۔

میئر کراچی وسیم اختر نے گراؤنڈ کو سرفراز احمد کو کرکٹ کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا اعلان تو کردیا لیکن دستاویزی طور پر ایسا کچھ بھی نہ ہوسکا جس سے یہ پتہ چلتا کہ یہ سرفراز احمد اکیڈمی کا ہے۔

سرفراز احمد کرکٹ اکیڈمی
،تصویر کا کیپشن

سرفراز احمد کرکٹ اکیڈمی

سیف عباس بھی یہی کہتے ہیں کہ اس گراؤنڈ کو باقاعدہ طور پر سرفراز احمد کے حوالے ہینڈ اوور نہیں کیا گیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ گراؤنڈ کے ایم سی کی ملکیت ہے اور سرفراز احمد اکیڈمی کو کھیلنے کے لیے دیاگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اکیڈمی کمرشل بنیادوں پر نہیں چل رہی ہے۔

سیف عباس کے مطابق کالج کی خاتون پرنسپل کا اس کرکٹ اکیڈمی سے تنازع اس وقت شروع ہوا جب گراؤنڈ کے گراسی ہونے کے بعد اس کے گیٹ سے ان کی کار کو اندر آنے سے روکا گیا۔

سیف عباس بڑے واضح انداز میں کہتے ہیں کہ کالج کی پرنسپل کا یہ دعوی سراسر غلط ہے کہ یہ گراؤنڈ کالج کا حصہ ہے۔

اکیڈمی کون چلارہا ہے؟

سرفراز احمد کرکٹ اکیڈمی کی نگرانی سرفراز احمد کے کزن ضیا کرتے ہیں اور ان کے ساتھ نورالامین اور جلیل معاونت کرتے ہیں۔



Source link