سمیع اللہ: بہاولپور میں سابق اولمپیئن کے مجسمے سے ہاکی اور گیند ’چوری‘

  • محمد عمران بھنڈر
  • صحافی، بہاولپور
18 جولائی 2021، 22:24 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 3 گھنٹے قبل

پاکستان کے شہر بہاولپور میں ہاکی کے مایہ ناز کھلاڑی سمیع اللہ خان کے مجسمے سے ہاکی اور گیند چوری کرنے کے خلاف پولیس نے مقدمہ کر لیا ہے۔

سمیع اللہ خان جو ہاکی کی دنیا میں اپنی برق رفتاری کی وجہ سے ’فلائیگ ہارس‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، کا مجسمہ ایک ماہ قبل ہی ان کے آبائی شہر بہاولپور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں نصب کیا گیا تھا۔

درج کیے گئے مقدمہ میں مدعی محمد سلمان نے موقف اختیار کیا ہے کہ سمیع للہ چوک پر لگائے گئے مجسمہ کو روزانہ وہاں سے گزرتے دیکھا کرتا تھا لیکن پانچ روز قبل ’مجسمے سے ہاکی اور بال غائب دیکھی اور سوشل میڈیا پر نامعلوم شخص کی مجسمے کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے دیکھ کر بہت دکھ ہوا اس لیے مقدمہ درج کر کے ملزم کے خلاف کاروائی کی جائے۔‘

کسی من چلے کی شرارت، سیاسی مخالفت یا مذہبی منافرت‘

نوابوں کے شہر بہاولپور کو پاکستان میں ہاکی کے گھر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے جہاں سے ماضی میں پاکستان ہاکی کے لیے مطیع للہ خان، ہدایت للہ خان، سمیع للہ خان اور موجودہ پاکستانی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی عمر بھٹہ پیدا ہوئے۔

کنٹونمنٹ بورڈ بہاولپور کے ترجمان چوہدری شفیق نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جون میں کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے شہر کی معتبر شخصیات کے مجسمے شہر کے مختلف مقامات پر سجانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے لیے ہاکی کے لیونگ لیجند سمیع للہ خان کا مجسمہ ماڈل ٹاؤن اے کے علاقہ میں سمیع للہ خان کے گھر کے قریب نصب کیا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘مجسمے کی خوبصورتی اور یادگار کو ہاکی جیسے کھیل کی نسبت دینے کے لیے سمیع للہ خان کے مجسمے کو ہاتھ میں ہاکی پکڑے بال کے ساتھ دکھایا گیا تاکہ نوجوان نسل پاکستان کے قومی کھیل اور قومی ہیرو کی پہچان کے ساتھ ساتھ انکی تاریخ کو بھی جان سکیں۔’

اولمپیئن سمیع اللہ
،تصویر کا کیپشن

بہاولپور میں سمیع اللہ کے یہ مجسمہ بنانے میں ایک ماہ کا وقت لگا تھا

اسے کنٹونمنٹ بورڈ کے ہی ایک ملازم تنویر نے ڈیزائن کیا اور بنایا۔ تنویر کہتے ہیں کہ مجسمہ بنانے میں ایک ماہ کا وقت لگا۔ اسے بنانے کے لیے فائبر کا استعمال کیا گیا اور نیچے کا پلیٹ فارم لوہے سے تیار کیا گیا۔ مجسمے پر سمیع للہ کی شرٹ کا نمبر 11 بھی لکھا گیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل تصویر میں ایک شخص کو مجسمے کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے تاہم تصویر کے بارے میں فوٹو شاپ یا کراپ کرنے کی بھی تحقیق کی جارہی ہے۔

سابق ہاکی اولمپین سمیع للہ خان نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجسمہ لگایا جانا ہاکی کے لیے ایک اعزاز ہے تاہم ہاکی اور گیند چوری کرنا ایک افسوس ناک عمل ہے۔ ‘بظاہر جو چیزیں چوری کی گئی ہیں ان سے کسی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا تاہم کسی کی شرارت ضرور ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔‘

محکمہ سپورٹس بہاول پور سے ڈویژنل سپورٹس آفیسر مقصود الحسن جاوید نے بتایا کہ پہلی مرتبہ کسی زندہ پاکستانی کھلاڑی کو خراج تحسین اس طرح پیش کیا گیا ہے اور ان کی خدمات میں ان کا مجسمہ لگایا گیا تھا جس پر سمیع للہ خان سمیت ہم بھی بہت جوش تھے ’لیکن کسی بدبخت نے ہاکی اور بال چوری کر لی جو انتہائی قابل مذمت ہے۔‘

ہاکی اولمپین سمیع للہ خان
،تصویر کا کیپشن

سابق ہاکی اولمپین سمیع للہ خان کا کہنا ہے کہ ان کے مجسمے کے ساتھ کی گئی شرارت کی تحقیقات ہونی چاہیے

انھوں نے کہا کہ لوگوں میں ذہنی شعور کو مزید اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور ملزم کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

ڈی پی او بہاول پور محمد فیصل کی جانب سے جاری کردی بیان کے مطابق پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں اور اردگرد سے معلومات لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈی پی او کے مطابق یہ ایک قابل مذمت ایشو ہے اور پوری توجہ سے تحقیقات کی جارہی ہے جبکہ ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

ڈی پی او کا کہنا ہے کہ ‘سمیع اللہ خان پاکستان کے ہیرو ہیں۔ کسی کو پاکستان کا نام روشن کرنے والوں کی توہین کی اجازت نہیں دیں گے اور ان کی یادگاروں کی بے حرمتی برداشت نہیں کی جائے گی۔’

‘تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایسے عمل کے پیچھے کسی کی شرارت، سیاسی مخالفت یا کسی قسم کی مذہبی منافرت تھی۔’

سیکرٹری ہاکی ایسوسی ایشن بہاولپور بابر نثار کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کے عمل سے کھیل کی دنیا سے جڑے نوجوانوں کی نہ صرف دل آزاری ہوئی ہے بلکہ ہاکی سمیت بہاولپور کا نام بدنام کرنے کی بھی مذموم کوشش کی گئی ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ردعمل: ’ہم نے اس کھیل کو کھو دیا‘

واقعے پر سوشل میڈیا صارفین بھی غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

صارف محمد اشتیاق افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’چوروں نے گیند اور ہاکی چُرا لیا۔ اب یہ مجسمہ ایسا دکھتا ہے۔‘

ہاکی

،تصویر کا ذریعہTWITTER

شیر نواز کہتے ہیں کہ ’یہ ہاکی سمیع اللہ سے چرائی نہیں گئی بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ ہم سے یہ کھیل ویسے بھی کھو چکا ہے۔‘

محمد انس منور سوال کرتے ہیں کہ ’مجسمے سے پہلے گیند چُرائی گئی پھر ہاکی۔ ہم کیسے لوگ ہیں۔‘

نامور پاکستانی ہاکی کھلاڑی سمیع اللہ 6 ستمبر 1951 کو بہاولپور میں پیدا ہوئے تھے۔ سمیع اللہ نے 1976 کے مانٹریال اولمپکس سے 1982 تک منعقد ہونے والے عالمی ہاکی ٹورنامنٹس کے متعدد مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

حکومت پاکستان نے سمیع اللہ کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا تھا۔



Source link

Leave a Reply