سمیع چوہدری کا کالم: ’جب کنگز بنے قلندر‘

  • سمیع چوہدری
  • کرکٹ تجزیہ کار

51 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بہت پہلے ایک پی ایس ایل میچ میں محمد سمیع نے آخری اوور میں پانچ رنز کا دفاع کیا تھا اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے ایک یادگار فتح حاصل کی تھی۔ گذشتہ شب کچھ ویسا ہی جادو وقاص مقصود نے جگایا اور ایک ڈرامائی فتح اپنی ٹیم کے نام کی۔

ایسے کانٹے دار مقابلے تو کسی بھی ایونٹ کے مومینٹم میں ایک نئی روح پھونک دیتے ہیں۔ اور پی ایس ایل سیون ویسے بھی اب اس نہج پہ آن پہنچی ہے جہاں ٹاپ دو ٹیموں کے سوا لگ بھگ سبھی کو اگر مگر کی فکر پڑ چکی ہے۔

کوئٹہ اور پشاور کی خواہش تھی کہ کراچی اپنا ساتواں میچ جیت کر پلے آف کی دوڑ میں کچھ دلچسپی پیدا کرے۔ کراچی کنگز کے لیے بھی یہ جیت وقار کی بحالی کی صورت ہو سکتی تھی اور میچ کی آخری گیند تک کراچی واضح طور پہ جیت کی سمت گامزن بھی نظر آ رہا تھا مگر وقاص مقصود کی استعداد نے منطق کو بھی مخمصے میں ڈال دیا۔

کراچی کنگز اس دفعہ پی ایس ایل میں وہ کردار ادا کر رہے ہیں جو اس سے پہلے قلندرز کا ٹیگ بن چکا تھا۔ ایسا لگتا ہے، وسیم اکرم نے بابر اعظم اور شرجیل خان کو ہی سات بلے بازوں کے برابر سمجھ لیا تھا مگر ماڈرن ٹی ٹونٹی کرکٹ کے تقاضے کچھ الگ ہیں۔

بابراعظم

،تصویر کا ذریعہPCB

کراچی کنگز سات میچ کھیل کر بھی اپنا بیٹنگ آرڈر ہی ترتیب نہیں دے پا رہے۔ یہ بابر اعظم کی قائدانہ صلاحیتوں پہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ ثانیاً قاسم اکرم کی گذشتہ شب کی اننگز کے سوا کنگز اپنے ایمرجنگ پلئیرز کا درست استعمال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

لوئر آرڈر میں جس پاور ہٹنگ کی انھیں عماد وسیم سے امید رہی، وہ خواب بالآخر پورا تو ہوا مگر تب تلک رینا بیت چکی تھی۔

فرنچائز کرکٹ میں ٹیم بنانا بہت جوکھم کا کام ہے۔ کنگز کو اس بار نئے کپتان اور نئے کوچ کے ساتھ آنا تھا، سو گمان ہے کہ ان بڑی تقرریوں کے خلجان میں الجھی مینیجمنٹ ڈرافٹ کے وقت کچھ بنیادی غلطیاں کر گئی جن کا خمیازہ اب بھگتا جا رہا ہے۔

اُدھر، ملتان سلطانز کی فتوحات کی لڑی تو بالآخر ٹوٹ ہی گئی مگر جس شان سے سلطانز نے اس ٹورنامنٹ میں چیمپئینز والی کرکٹ کھیلی ہے، اس نے ایونٹ میں مسابقت کا معیار خاصا بلند کر چھوڑا ہے۔

سمیع چوہدری کے دیگر کالم پڑھیے

اور جب بات مسابقت کی ہو، تو یہاں شاہین شاہ آفریدی کی کپتانی کی داد دینا ہو گی کہ جنھوں نے قلندرز جیسی ’لافنگ سٹاک‘ ٹیم کا حلیہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں اگرچہ ابھی بہت کرکٹ باقی ہے مگر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جہاں ایک طرف ملتان اور اسلام آباد جارحانہ سمارٹ کرکٹ کھیل رہے ہیں، وہاں صرف قلندرز ہی یکسر جوش والی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

یہ واحد ٹیم ہے جو ایکسپریس پیس کے ساتھ میدان میں اترتی ہے اور اس بولنگ اٹیک کا مقصد صرف اور صرف وکٹیں حاصل کرنا ہوتا ہے۔ آن فیلڈ کچھ قابلِ بحث فیصلوں کے باوجود، بحیثیتِ مجموعی، کپتان شاہین شاہ آفریدی اس ڈریسنگ روم کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے ہیں۔ اور یہ قلندرز کے مستقبل کے لیے نہایت نیک شگون ہے۔

شاہین شاہ آفریدی

،تصویر کا ذریعہPCB

لیکن دوسری جانب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز وہ ٹیم ہے جو جیسن روئے کی آمد کے بعد بھی مزید کسی تازہ ہوا کے جھونکے کی منتظر ہے۔ شاہد آفریدی کی انجری، محمد نواز کی انجری اور محمد حسنین کی پابندی کے بعد ان کے گرتے بولنگ سٹاک کو نور احمد کی آمد سے کچھ سہارا تو ملا ہے مگر ابھی بہت کام باقی ہے۔

کیونکہ اگر لاہور کی کنڈیشنز میں کسی ٹیم کو ٹائٹل کا خواب دیکھنا ہے تو ڈیتھ اوورز کی بولنگ، بالخصوص دوسری اننگز میں، انتہائی اہم ہو گی۔ اور ابھی تک، ملتان کے سوا تقریباً سبھی ٹیمیں اس شعبے میں دشواریاں اٹھا رہی ہیں۔

ابھی تک لاہور قلندرز وہ واحد ٹیم ہے جس نے ملتان سلطانز کے ناقابلِ تسخیر قلعے میں شگاف ڈالا ہے۔ اور جہاں ایک طرف اسلام آباد یونائیٹڈ نے گذشتہ شب کی فتح کے بعد کچھ سکھ کا سانس لیا ہے، وہاں اب زلمی اور کوئٹہ کے پاس بھی اردگرد دیکھنے کے آپشنز کم پڑتے جا رہے ہیں اور ٹاپ فور میں جگہ بنانے کے لیے انھیں دوسروں کی ناکامیوں سے زیادہ اپنی کامیابیوں کی دعا کرنا ہو گی۔



Source link