سمیع چوہدری کا کالم: لیکن بابر اعظم سر اٹھا کے جیے۔۔۔

  • سمیع چوہدری
  • کرکٹ تجزیہ کار

6 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشن

بابر اعظم نے وہ اننگز کھیلی کہ جس نے صرف میچ کی سمت ہی نہیں، یقیناً ان کے ٹیسٹ کرئیر کا بھی رخ بدل دیا ہے

ٹیسٹ کرکٹ میں ‘بقا’ کا فلسفہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ بادئ النظر میں ڈرا کی کوشش نہایت منفی ذہنیت کی عکاس ہے لیکن جہاں تمام تر تگ و دو کے باوجود جیت تک رسائی ممکن نہ ہو تو بقا کا فلسفہ ہی صحیح راستہ ٹھہرتا ہے۔

یہ تو واضح تھا کہ پاکستان یہ میچ بچانا چاہتا تھا کیونکہ یہاں جیت کی امید کسی خوش خیالی سے کم نہ تھی کہ پانچویں دن کی وکٹ پہ مچل سٹارک، پیٹ کمنز اور نیتھن لائن جیسے مستند بولرز کے ہوتے ایسے مطلوبہ رن ریٹ پہ ہدف حاصل کرنا جُوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا۔

لیکن کمنز نے پورا میچ بہترین کپتانی کرنے کے بعد آخری لمحات میں ایک ایسی سنگین تزویراتی غلطی کر دی کہ یہ ڈرا پاکستان کے لیے کسی فتح سے کم نہیں رہا اور آسٹریلیا کے لیے یہ تقریباً ایک شکست ہی ہے۔

اگرچہ بابر اعظم کی مزاحمت اور پھر رضوان کی بھی ہم نوائی نے کمنز کے لیے سوچ کے دائرے محدود کر دیے تھے لیکن جب نیتھن لائن پرانے گیند کے ساتھ ایک دم غضب سا ڈھانے لگے تھے تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اوپر تلے دو وکٹیں ملنے کے باوجود کمنز نے نئی گیند لینے کا فیصلہ کیوں کر ڈالا؟

جس طرح سے پہلے دونوں سیشنز میں پاکستانی بیٹنگ نے آسٹریلوی بولرز کو تھکایا، یہ تو طے تھا کہ کوئی بھی فیلڈنگ کپتان وہاں نئی گیند کے انتظار کو ہی ترجیح دیتا اور یہاں کمنز کی لاچارگی بھی بالکل بجا تھی کہ جیت کے لیے انہیں ہر حربہ آزمانا تھا۔

لیکن اگر کمنز چند اوورز مزید انتظار کرتے اور لائن کو ہی پرانی گیند کے ساتھ اٹیک میں رکھتے تو عین ممکن تھا کہ چار ہی اوورز میں کھیل کا نقشہ بدل جاتا اور اگر بالفرضِ محال پرانی گیند ان چار اوورز میں کوئی جادو نہ جگا پاتی تو نئی گیند کا آپشن تو بہرحال تھا ہی۔

یہ بابر اعظم کے ٹیسٹ کریئر کی شاہکار اننگز تھی۔ ڈبل سنچری سے محض چار قدم پیچھے رہ جانے کا دکھ اپنی جگہ، مگر بابر اعظم نے یہاں وہ اننگز کھیلی کہ جس نے صرف میچ کی سمت ہی نہیں، یقیناً ان کے ٹیسٹ کرئیر کا بھی رخ بدل دیا ہے۔

کیونکہ تیسرے دن سہہ پہر کے سیشن میں جو قہر پاکستان پہ ٹوٹا اور جیسی ریورس سوئنگ مچل سٹارک نے پیدا کی، اس کے بعد پاکستان کو یہ میچ جیتنے کے لیے کسی معجزے کا ہی انتظار تھا۔ سوال صرف یہ تھا کہ یہ معجزہ کون کرے گا؟

جس وقت بابر اعظم کریز پر آئے، پاکستان محض چند رنز کے عوض دو وکٹیں گنوا چکا تھا اور پچھلی اننگز کے بھوت سر پہ منڈلا رہے تھے۔ پیس بولنگ کے خلاف پاکستانی بیٹنگ کی دیرینہ مشکلات کے تناظر میں، یہاں صرف بابر اور عبداللہ شفیق کی شکل میں ہی دو ایسے نیچرل بلے باز تھے جو اس چیلنج سے نمٹ سکتے تھے۔

بابر اعظم

،تصویر کا ذریعہPCB

عبداللہ شفیق نے اپنی تمام تر نوآموزی کے باوجود نہایت پختگی کا ثبوت دیا۔ یہاں بیٹنگ سکور کارڈ نہیں، گھڑی دیکھ کر کرنا تھی اور یہی عبداللہ نے بھی کیا۔ اگرچہ بدقسمتی سے وہ سنچری سے محض چار گام پیچھے گر پڑے مگر جو یقینی شکست پاکستان کا رستہ تک رہی تھی، تب تک اس کے امکانات خاصے معدوم ہو چکے تھے۔

عبداللہ کے بعد محمد رضوان نے بھی اپنا کردار بخوبی نبھایا اور کرئیر کی دوسری سنچری بنائی۔ مگر اس ساری جہد کے پیچھے بنیادی طور پہ بابر اعظم ہی کی کاوش تھی جو اس مشکل وکٹ پہ لگ بھگ چار سیشنز ڈٹے رہے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں چوتھی اننگز کی بیٹنگ سب سے مشکل ہوتی ہے جب باؤنس متغیر ہو اور گیند ٹھیک سے بلے پہ نہ آ رہا ہو۔ بابر کو بخوبی ادراک تھا کہ یہاں نئے بلے بازوں کے لیے قدم جمانا آسان نہیں ہو گا اور اسی احساسِ ذمہ داری میں وہ کراچی کی شدید حدت کے باوجود کریز پہ ڈٹے رہے۔

جس اعتماد سے آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگز ڈکلیئر کی تھی، اس کے بعد یہ نتیجہ تو یقیناً پیٹ کمنز کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ کیونکہ پہلی اننگز کے نفسیاتی دباؤ کے بعد یہاں پاکستان کے لیے سر اٹھانا بالکل آسان نہیں تھا۔

لیکن بابر اعظم نہ صرف سر اٹھا کر جیے بلکہ اپنی قیادت میں رہ جانے والی کمیوں اور کوتاہیوں کا بھی پورا پورا ازالہ کر گئے۔



Source link