سمیع چوہدری کا کالم: نیوزی لینڈ نے بدقسمتی کے لیے بھی کوئی جواز نہیں چھوڑا

  • سمیع چوہدری
  • کرکٹ تجزیہ کار

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہReuters

انٹرنیشنل کرکٹ میں نیوزی لینڈ کے پچھلے 10 سال بہت ہنگامہ خیز رہے ہیں۔ ایک دہائی قبل یہ ٹیم اوسط درجے کی کلاسک کرکٹ کھیلنے والا ایک گروہ تھا جسے جیت سے کوئی خاص لگاؤ نہ تھا۔ یہ ان چند ٹیسٹ ٹیموں میں سے تھی جسے ٹورنگ سائیڈز ان کے گھر آ کر بآسانی ہرا جاتی تھیں۔

اس ٹیم کے کرکٹ کھیلنے کا انداز کچھ ویسا ہی تھا جیسا 2000 کی دہائی کی انگلش ٹیم کا، جو فتح سے زیادہ دلچسپی ’گیم سپرٹ‘ اور ’سپورٹس مین شپ‘ میں رکھتی تھی۔ گویا شکست و فتح کوئی زندگی موت کا قصہ نہ تھا، بس وہی بات کہ

گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں

لیکن برینڈن میکلم وہ پہلے کپتان تھے جنھوں نے کیوی کرکٹ کی حکمتِ عملی بدلنی شروع کی۔ وہ پہلی بار اس ٹیم کی سوچ میں سنجیدگی لائے جو ہمیشہ ہلکے پھلکے مزاج کی گیم کھیلنے کے لیے مشہور تھی۔ اُنھوں نے اپنے گروپ کے لیے فتح کی اہمیت اجاگر کی۔

میکلم کے بعد ولیمسن اگرچہ ان سے یکسر مختلف شخصیت ثابت ہوئے مگر ان کے زیرِ قیادت فتوحات کا سفر طویل تر ہوتا چلا گیا۔ اور اب یہ وہ ٹیم ہے کہ جسے ہوم گراؤنڈز پر ہرانا کسی بھی حریف کے لیے ویسا ہی خواب بن چکا ہے جیسے آسٹریلیا کو ہوم گراؤنڈز پر ایشز میں مات کرنا۔

یہ لمحہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے عہد ساز ہے کہ پہلی بار تاریخِ انسانی کے اس طویل ترین کھیل کا باقاعدہ ایک عالمی ٹائٹل کے لیے فائنل کھیلا گیا اور وہ فائنل دو روز کا کھیل یکسر ضائع ہونے کے بعد بھی نتیجہ خیز ثابت ہوا، کیونکہ گذشتہ دہائی کے آخری عشرے میں اس فارمیٹ پر ون ڈے کی سبقت کی بنیادی وجہ ہی ٹیسٹ کرکٹ کی سست روی اور ڈرا میچز کی بڑھتی ہوئی تعداد تھی۔

اس فائنل میچ پر تو پہلے دن سے ہی ڈرا کے خدشات منڈلانے شروع ہو چکے تھے جب پہلے روز ٹاس تک کی نوبت نہ آ سکی۔ موسم کی پیشگوئی کے اعتبار سے تو یہ امید ہی کم تھی کہ چھ روز میں بھی یہ قصہ نمٹ سکے گا۔

لیکن اس کیوی ٹیم کے خمیر میں کچھ ایسی مشکل پسندی اور جرات مندی رچی بسی ہے کہ انہونی کو ممکنات میں بدلتے دیر نہیں لگاتی۔

نیوزی لینڈ، ٹیسٹ چیمپیئن شپ

،تصویر کا ذریعہReuters

چوتھے روز صبح کے سیشن کی ہی مثال لے لیجیے جب شرما اور شامی ابر آلود کنڈیشنز میں پرانے ڈیوک گیند سے گویا تیروں کی بارش کر رہے تھے۔

ایک تو حالات بولنگ کے لیے نہایت سازگار تھے، اس پر انڈین بولرز کی قابلیت بھی لاجواب تھی۔ کریز پر پے در پے بلے بازوں کا آتے جاتے رہنا ٹھہر چکا تھا۔ مگر ولیمسن گویا ضد میں ہی رک گئے۔

ولیمسن جانتے تھے کہ ان کی وہ اننگز شاید کریئر کی اہم ترین اننگز ثابت ہو۔ ان کی کہنی کے مسائل بھی ابھی مکمل ٹھیک نہیں ہوئے۔ مگر مزاحمت اس کیوی ٹیم کا استعارہ بن چکی ہے اور ولیمسن نے وہاں اس صبر آزما رفتار سے بلّے بازی کی کہ جس سے اس پورے کرۂ ارض پر صرف راہول ڈریوڈ اور مصباح الحق ہی لطف اندوز ہو سکتے تھے۔

یہ ولیمسن کا صبر ہی تھا کہ کیویز کو پہلی اننگز میں وہ قلیل سی برتری حاصل ہوئی جو بالآخر میچ کے سیاق و سباق میں بہت کلیدی ثابت ہوئی۔ وہ 32 رنز کا خسارہ شاملِ حال نہ ہوتا تو کوہلی کی الیون شاید کسی بہتر نتیجے کی امید باندھ سکتی تھی۔

فرق بہرحال یہ بھی رہا کہ بھارتی کرکٹرز کے لیے آئی پی ایل کے التوا کے بعد یہ پہلی انٹرنیشنل سرگرمی تھی۔ اُنھیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلے ہوئے مہینے گزر چکے ہیں۔ میچ پریکٹس کی غیر موجودگی بھی انڈین ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔

جبکہ دوسری جانب ولیمسن کی ٹیم ہفتہ بھر پہلے انہی انگلش کنڈیشنز میں ہوم سائیڈ سے سیریز جیت کر آ رہی تھی۔ یہ فرق فیلڈ پر بھی دونوں ٹیموں کی کارکردگی میں نظر آیا۔

نیوزی لینڈ، ٹیسٹ چیمپیئن شپ

،تصویر کا ذریعہAdam Davy/PA Wire

اور پھر کیویز نے شاید اس موقعے کو اپنی ضد بھی بنا رکھا تھا۔ پچھلے دو ون ڈے ورلڈ کپس کے فائنل میں جو بدقسمتی اچانک ان کے آڑے آئی، اس کو دیکھتے ہوئے ولیمسن کے ساتھیوں نے یہ تہیہ کر رکھا تھا کہ اپنی جرات اور محنت کی شدت سے ہر بدقسمتی کا توڑ کر کے چھوڑیں گے۔

اس جستجو میں کئی چھوٹے چھوٹے یادگار لمحے تخلیق ہوئے جو اس میچ کی تاریخی نوعیت کے اعتبار سے شائقینِ کرکٹ کے ذہن و دل میں برسوں زندہ رہیں گے۔ مثلاً کانوے اور لیتھم کا چوتھی اننگز میں مدافعانہ مگر مضبوط آغاز۔

اسی طرح بی جے واٹلنگ کے 14 سالہ کریئر کے آخری میچ میں انگلی کی شدید انجری پر فیلڈ چھوڑنا اور پھر سیشن ختم ہونے سے پہلے ہی واپس لوٹ آنا۔ اور سب سے اہم شاید وہ کہ جب ہنری نکولس نے شدید دباؤ کے باوجود دوڑتے ہوئے ریشبھ پنت کا کیچ پکڑا۔

پنت جس طرح سے کھیل رہے تھے، میچ کو کھینچ کر اپنے ڈریسنگ روم کی جانب لے جا سکتے تھے مگر اس کیچ نے انڈین لوئر آرڈر کی کمزوریوں کو آشکار کر دیا اور کہانی کسی غیر متوقع ٹوئسٹ سے بچ گئی۔

کیویز کا دہائی بھر کا یہ سفر بہت افسانوی سا رہا ہے۔ متواتر دو ورلڈ کپ فائنلز کھیلنا ویسے ہی خواب ناک ہے۔ مگر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے فائنل میں اس ٹیم نے اس قدر جان لگائی کہ اس بار بدقسمتی کا بھی کوئی جواز نہ بچنے پائے۔



Source link

Leave a Reply