سمیع چوہدری کا کالم: ’یہ شکست نہیں، یہ نری حماقت ہے‘

  • سمیع چوہدری
  • کرکٹ تجزیہ کار

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بہت کچھ تھا جو پاکستان نے خوب درستی اور کمال مہارت سے کیا۔ ٹاس جیتنا خوش قسمتی تھی۔ موسم بولنگ کے لیے سازگار تھا اور پاکستان نے بہترین بولنگ سے میچ کا آغاز کیا۔

پہلے پانچ اوورز کچھ ایسی بولنگ ہوئی کہ کمنٹری باکس میں بیٹھے سابق انگلش کپتان ناصر حسین کو وسیم اکرم اور وقار یونس کے دن یاد آنے لگے۔ حسن علی فل لینتھ سے گیند کو حرکت دے رہے تھے اور شاہین آفریدی کی لینتھ انگلش ٹاپ آرڈر کو چکرا رہی تھی۔

پہلے پانچ اوورز میں دو وکٹیں ملنے کے بعد پاکستان کا اگلا ہدف باقی ماندہ پاور پلے میں تیسری وکٹ کا حصول ہونا چاہیے تھا مگر جونہی فل سالٹ نے قدموں کا استعمال شروع کیا، بولرز کی لینتھ ذرا گڑبڑائی اور بابر اعظم نے سلپ فیلڈرز کو نکال کر پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا۔

سالٹ کی جارحیت کے ساتھ جب ونس کی مشاقی بھی شامل ہوئی تو پاکستان یکسر دفاعی موڈ میں جاتا دکھائی دیا۔ جہاں کواکب نظر آ رہے تھے کہ پاکستان کم مجموعے پہ انگلینڈ کو آؤٹ کر کے پچھلے میچ کی ہزیمت کا حساب چکتا کرے گا، وہیں دیکھتے ہی دیکھتے ایک تگڑا مجموعہ یقینی بنتا چلا گیا۔

حسن علی کے دوسرے سپیل نے پاکستان کو میچ میں واپس آنے کا موقع دیا۔ اگر دوسرے اینڈ سے بھی ایسی ہی نپی تلی بولنگ دیکھنے کو مل جاتی تو سکور بورڈ خاصا مختلف ہو سکتا تھا مگر کرکٹ کچھ ایسی ظالم کھیل ہے کہ پانچ میں سے ایک بھی بولر اگر اپنا سبق بھلا بیٹھے تو قیمت پوری ٹیم کو ہی چکانا پڑتی ہے۔

مگر ایک بار پھر پاکستانی بیٹنگ یہ قیمت چکانے کے قابل نہ تھی۔

حسن علی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کہنے کو اس ناکامی کی کئی توجیہات لائی جا سکتی ہیں۔ بائیو سکیور ببل لائف کا دباؤ بھی وجہ ہو سکتا ہے۔ تیاری کی کمی بھی ایک دلیل ہو سکتی ہے۔ پی ایس ایل کے ہنگامے کے بعد ایک دم ون ڈے موڈ میں تبدیلی کی پیچیدگیاں بھی موردِ الزام ٹھہرائی جا سکتی ہیں مگر کوئی بھی توجیہ اس سکور بورڈ کی حالتِ زار اور شکست کے اس مارجن کی درست تشریح نہیں کر سکتی۔

بلا شبہ سبھی توقع رکھتے ہیں کہ ایشین ٹیموں کے لیے سیمنگ کنڈیشنز چیلنج ہوتی ہیں۔ مگر یہ امید بھی تو رہتی ہے کہ کوئی تو ڈٹ کے مقابلہ کرے گا۔ کوئی تو ہوگا جو بے خوف کرکٹ کھیلے گا مگر بے نیازی سے نہیں، ذمہ داری سے۔

بجا کہ کنڈیشنز بیٹنگ سے زیادہ بولنگ کے لیے سازگار تھیں مگر یہ کہاں کا اصول ٹھہرا کہ جب گیند نظر نہ آئے تو بس اندھا دھند بلا گھماتے چلے جائیے۔ کتنے بلے باز تھے جنہوں نے اچھا آغاز ملنے کے باوجود اپنی وکٹ پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دی۔ اگر وکٹیں ہاتھ میں رکھی جاتیں تو آخری دس اوورز میں آٹھ کا مطلوبہ ریٹ بھی پہنچ میں رہتا۔

اگر پاکستانی بلے بازوں کی تمام تر وکٹوں پہ غور کیا جائے تو ایک دو کے سوا سبھی کے بلے ایسے ہی گھومتے دکھائی دیے جیسے یہ انٹرنیشنل میچ نہیں بلکہ پی ایس ایل کا کوئی مقابلہ چل رہا ہو۔

جس اذیت میں پاکستانی بیٹنگ مبتلا دکھائی دی، یہ صرف پاکستانی شائقین ہی نہیں، کسی بھی کرکٹ شائق کے لیے تکلیف دہ تھی۔ یہ بے بسی اور کم مائیگی شرمندگی کا باعث تھی۔ اور اگر کہیں کوئی امید روشن ہونے بھی لگی کہ یہ ساجھے داری چل پڑے گی، وہیں کوئی ایسی حماقت دیکھنے کو ملتی کہ سر پیٹنے کو جی چاہے۔

سمیع چوہدری کے دیگر کالم

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگر یہ سیریز پاکستان اس ٹیم سے ہارا ہوتا جو انگلینڈ کی ‘اصل’ ٹیم ہے تو دل کو ذرا تشفی رہتی کہ بہترین سے ہارے ہیں۔ مگر یہ شکست تو اس ٹیم کے ہاتھوں ہوئی ہے جو چار دن پہلے تک ٹیم ہی نہیں تھی۔

یہ شکست پاکستانی ڈریسنگ روم کو آئینہ دکھانے کے لئے کافی ہے۔ مزید برآں اس رسوائی کے طفیل یہ بھی واضح ہو گیا کہ اگر بابر اعظم اور محمد رضوان کچھ دیر کریز پہ نہ رکیں تو یہ بیٹنگ لائن کتنے پانی میں کھڑی ہے۔

کرکٹ ٹیم ہو یا کوئی بھی پروڈکٹ ہو، اسے اپنے مداح اکٹھے کرنے میں بہت وقت لگتا ہے مگر کھونے کو ایک دو حماقتیں ہی بہت ہوتی ہیں۔ یہ شکست بھی شکست نہیں، ایسی ہی ایک حماقت تھی جو بعض اوقات شائقین کو اپنے پسندیدہ کھیل اور کھلاڑیوں سے ہمیشہ کے لیے دل گرفتہ کر دیتی ہے۔



Source link

Leave a Reply