سندھ میں سور کو پکڑ کر اس پر کتے چھوڑنے پر بے رحمی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

16 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہSocial Media Screengrab

پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایک جنگلی سور کو باندھ کر اس پر کتے چھوڑنے اور اس کے نتیجے میں اس کی ہلاکت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو گذشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

زیریں سندھ کے ضلع بدین میں نندو پولیس نے ایک مقدمہ درج کیا ہے، جس میں اے ایس آئی فتح محمد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ تھانے پر موجود تھا جب اس نے یہ وائرل ویڈیو دیکھی۔ ان کے مطابق 27 جنوری کو بوقت نو بجے حسین بجیر گاؤں کے قریب جھاڑیوں سے علی بھرگڑی، قاسم ملاح، سجاد علی بھرگڑی، حنیف بجیر، پرویز شاہ اور رجب کھوسو سمیت دیگر نے جنگل میں سے ایک جنگلی سور کو پکڑا۔ اس سور کے پیروں کو رسی سے باندھا اور اس پر شکار کرنے والے کتے چھوڑ دیے گئے جنھوں نے اسے شدید زخمی کر کے مار دیا۔

ایف آئی آر میں مدعی نے بیان کیا ہے کہ اس اطلاع پر وہ جائے وقوعہ پر پہنچے، جہاں معلوم ہوا کہ بیس پچیس لوگوں نے سور کو پکڑ کر اس پر پالتو شکاری کتے چھوڑے تھے۔

ویڈیو میں کیا تھا

اس ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ کتے کے قد جتنے سور کی پچھلی دائیں ٹانگ میں ایک رسہ ڈال کر باندھ دیا گیا ہے جبکہ چاروں اطراف میں لوگ کھڑے ہیں، جن میں بڑے اور بچے دونوں شامل ہیں۔ ویڈیو میں ایک شخص کہہ رہا ہے کہ یار مارو نہیں، ایک اور آواز آتی ہے کہ بندوق مت مارو۔

چند لمحوں کے بعد ایک بندوق بردار بھی نظر آتا ہے جبکہ اس دوران ایک کتے کو چھوڑ دیا جاتا ہے پھر وہی آواز آتی ہے کہ نہ لڑاؤ۔ مگر پھر دو کتوں کو حملے کے لیے سور پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

ویڈیو میں موجود شخص دوبارہ کہتا ہے کہ یہ ان کے لیے تماشا ہے مگر یہ بھی جاندار ہے، ایسے نہ کرو، روکو کتے ہٹاؤ۔

سور کو باندھ کر کتے چھوڑ دیے گیے

،تصویر کا ذریعہScreengrab

بدین پولیس کے اعلامیے کے مطابق یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایس ایس پی شاہنواز چاچڑ نے اس کا نوٹس لیا اور ایس ایچ او نندو کو سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کیا۔

ایس ایس پی شکارپور تنویر تنیو نے بی بی سی کو بتایا کہ سوشل میڈیا پوسٹ پر متعلقہ جگہ سے متعلق تحقیقات کی گئی تھیں لیکن وہاں ایسا کچھ نہیں تھا، اس واقعے سے متعلق ایک پرانی تصویر شیئر کی گئی تھی۔

قانون کیا کہتا ہے

پولیس نے پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 429 اور بے رحمی ایکٹ 1890 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

خیال رہے کہ 429 پی پی سی کے تحت کسی جانور کو مارنے یا زہر دینے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ ایسے جانور کو، جس کی مالیت کم از کم پانچ سو رپے ہو، نقصان پہنچانے کی سزا دو سال تک قید یا جرمانہ یہ دونوں ہو سکتی ہیں۔ بے رحمی ایکٹ 1890 کے مطابق اگر کوئی شخص کسی جانور کو بلاوجہ بے رحمی سے ہلاک کرتا ہے تو اس پر دو سو روپے جرمانہ یا چھ ماہ کی سزا یا دونوں سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔

محکمہ جنگلی حیات کے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ بے رحمی ایکٹ کے تحت پولیس اور محکمہ جنگلی حیات دونوں ہی مقدمہ درج کرنے کا اختیار رکھتے ہیں تاہم پولیس اگر کارروائی کرتی ہے تو وہ مؤثر ہے کیونکہ اس کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

سندھ

یہ بھی پڑھیے

اس واقعے سے قبل بھی کتے اور سور کی لڑائی کا ایک واقعہ سوشل میڈیا پر آیا تھا۔ یہ پوسٹ ذوالفقار قادری نامی ایک ایکٹوسٹ نے فیس بک پر شیئر کی تھی، جس میں درجنوں موٹر سائیکلیں ایک میدان میں موجود تھیں۔ انھوں نے لکھا تھا کہ یہ کوئی سیاسی جلسہ، کانفرنس نہیں بلکہ شکارپور ضلع کی تحصیل لکھی کا علاقہ وزیر آباد ہے جہاں کتے اور سور کی لڑائی کا مقابلہ ہو رہا ہے۔

سندھ کے بعض زمینداروں اور سیاست دان گھرانوں میں سردیوں کے دنوں میں کتوں کی مدد سے سور کا شکار کیا جاتا ہے۔ جنگلی حیات کے قوانین اور پولیس کے قانون کے مطابق یہ جرم ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ شعور اور آگاہی آئی ہے۔ پہلے لوگ اس کو تفریح سمجھتے تھے لیکن اب سوشل میڈیا پر شیئر کر کے اس کی مذمت کرتے ہیں۔



Source link