سو ڈیم: وہ انقلابی منصوبہ جو بلوچستان میں پیاس، غربت کے ساتھ قبائلی دشمنیاں بھی ختم کر سکتا ہے

  • شبینہ فراز
  • صحافی

29 منٹ قبل

’یہی پانی ہے بس، اسی سے آپ سب اپنی پیاس بجھا لیں۔‘

’ہمارے میزبان نے پانی سے بھرا ایک لوٹا ہماری جانب بڑھا دیا۔ ان کے چہرے پر شرمندگی اور لاچاری صاف ظاہر تھی۔

’پانچ افراد پر مشتمل ہماری ٹیم اس وقت تک بھری دھوپ میں پہاڑی راستوں پر چل کر تھک چکی تھی۔ پیاس سے حلق میں کانٹے پڑ رہے تھے۔ پسینے اور گرد سے اٹے ٹیم ممبران کی اس وقت ایک ہی خواہش تھی کہ کہیں سایہ اور پانی مل جائے۔

’ایسے میں ایک مقامی شخص کی جانب سے ملی دعوت کسی نعمت سے کم نہیں تھی جس نے اپنی جھونپڑی میں بیٹھنے کی اجازت کے ساتھ پانی فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا۔

’جھونپڑی کا سایہ سکھ کا سانس لینے کا سبب بنا لیکن یہ خوشی وقتی ثابت ہوئی۔ وہی سکھ کا سانس گویا حلق میں اٹک سا گیا جب پینے کے لیے صرف ایک لوٹا پانی دستیاب ہوا۔‘

ظفر اقبال وٹو بلوچستان حکومت کے سو (100) ڈیم منصوبے میں رحمان حبیب کنسلٹنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے کنسلٹنٹ اور ٹیم لیڈر ہیں۔ وہ تعلیمی اعتبار سے گولڈ میڈلسٹ سول انجینیئر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پانی کی اس قلت اور تکلیف کا شاید ہم بڑے شہروں میں رہنے والے تصور بھی نہیں کر سکتے۔ جب پینے کے لیے ایک ایک قطرہ کمیاب ہو تو ہاتھ منھ دھونے کی عیاشی کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔‘

ظفر اقبال کو ڈیمز کے لیے بہتر جگہیں منتخب کرنے کے لیے سروے کے دوران بلوچستان کے طول و عرض میں سفر کرنے کا موقع ملا۔ ان دوروں کے دوران تجربات اور مشاہدات پر انھوں نے ہم سے تفصیلی گفتگو کی۔

بلوچستان میں پانی کی کمی: ’یہ تو اللہ کی رحمت ہے‘

بلوچستان میں پانی کی کمی

بلوچستان میں پانی کی کمی کے حوالے سے وہ ایک اور تجربہ بیان کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ لورالائی کے ایک تھکا دینے والے فیلڈ وزٹ کے دوران ویرانے میں موجود ایک کلی (چند گھروں والی آبادی) میں ایک مہربان نے ان کو چائے کے لیے روک لیا۔

چائے آنے پر ہمارے ایک ساتھی نے ہاتھ دھونے کی خواہش ظاہر کی تو ہمارے میزبان پہلے کچھ سوچ میں پڑ گئے، پھر چند منٹ کے بعد ایک چھوٹے سے برتن میں پانی لے کر آیے۔

ان کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا جس نے ایک چھوٹا پرات نما برتن پکڑا ہوا تھا۔ انھوں نے ادھر نشست پر بیٹھے بیٹھے ہی ہمارے ساتھی کے ہاتھ اس طرح دھلوائے کہ سارا استعمال شدہ پانی نیچے پرات میں اکٹھا کر لیا اور اس کا ایک قطرہ بھی نیچے نہ گرنے دیا۔

میں نے میزبان سے پوچھا کہ وہ اس پرات والے گندے پانی کا کیا کریں گے۔ اُنھوں نے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ’یہ پانی، گندا تھوڑی ہے، یہ تو اللہ کی رحمت ہے، اسے جانوروں کو پلائیں گے۔‘

ظفر اقبال کہتے ہیں کہ ’اس کی یہ بات سن کر مجھے شہروں کے ہوٹلوں کے واش بیسن اور پبلک باتھ روموں میں ہر وقت ٹپکتی یا کھلی ہوئی ٹونٹیاں بہت یاد آئیں۔‘

پانی کی انتہائی کمی کے حامل صوبہ بلوچستان کے لیے بلوچستان حکومت کا 100 ڈیم پراجیکٹ خشک سالی کے اس منظر نامے کو یکسر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن بلوچستان کے سماجی، معاشی، جغرافیائی اور سیکیورٹی کے مسائل کے پیش نظر یہ کام اتنا آسان بھی نہ تھا۔

ظفر اقبال بتاتے ہیں کہ چار سال قبل جب ان کے ادارے کے انجینیئرز سروے کے لیے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جا رہے تھے تو سیکیورٹی مسائل کے باعث اُنھیں مختلف علاقوں میں داخلے کی اجازت نہیں مل رہی تھی، خصوصا نیلگ ڈیم کے علاقے میں۔

لیکن پھر مقامی اکابرین کی منت سماجت کے بعد ان کو صرف دو گھنٹے میں اپنا کام مکمل کر کے وہاں سے نکلنے کا حکم دیا گیا تھا۔

ان نامساعد حالات میں محکمہ آب پاشی بلوچستان نے جب اس علاقے میں ڈیم بنانے کا منصوبہ پیش کیا تو اسے منصوبے کی مجوزہ سائٹ یا مقام تک رسائی کی مشکلات اور علاقے میں سیکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر ایک ناممکن حد تک مشکل منصوبہ سمجھا گیا تھا۔

اتھانڈرو ڈیم لسبیلہ

،تصویر کا ذریعہGOVT OF BALOCHISTAN

ظفر اقبال بتاتے ہیں کہ ’ہمارے مشاورتی ادارے کے ڈیزائن انجینئیرز نے جب لاہور سے مکران کے اس دور دراز علاقے میں جا کر سروے اور ڈیزائن کا کام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اسے پاگل پن قرار دیا گیا۔‘

’تاہم پروجیکٹ ڈائریکٹر ادارے کے انجینیئرز کی گاڑیاں خود ڈرائیو کر کے اس علاقے میں لے گئے اور کہا کہ پہلی گولی ہم اپنے سینے پر کھائیں گے۔ اتنے مشکل علاقے میں کوئی ٹھیکے دار جانے کو تیار نہ تھا۔ سڑکیں نہ ہونے کے باعث تعمیراتی سامان کا پہنچنا بھی مشکل تھا۔‘

اس کے علاوہ بلوچستان کے لوگ صدیوں سے قبائلی روایات پر عمل پیرا ہیں جنھیں وہ کسی صورت ترک کرنا نہیں چاہتے، مثلاً اگر صرف نیلگ ڈیم کی بات کریں تو مقامی لوگوں کے دریائے نیلگ پر صدیوں سے پانی کے حقوق کے لیے ایک باقاعدہ مقامی نظام موجود تھا۔ ہر قبیلے کے لیے پانی کی مقدار اور دن مخصوص تھے۔ اس نظام کو چھیڑنا یا اُنھیں کچھ اور سمجھانا ان قبائل سے دشمنی کے مترادف تھا۔

اس کے علاوہ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے مقامی لوگوں کے بہت سے خدشات تھے جنھیں دور کیا گیا اور پانی کے استعمال کے روایتی حصے داری کے اسی نظام کو ڈیزائن کا حصہ بنا دیا تو پھر ہر قبیلے نے بڑھ چڑھ کر اس منصوبے کی کامیابی میں اپنا حصہ ڈالا۔

بلوچستان: رقبہ، آبادی اور موسم

بلوچستان : رقبہ، آبادی اور موسم

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کا رقبہ تین لاکھ 47 ہزار 190 مربع کلو میٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا 43.6 فیصد حصہ بنتا ہے۔

تازہ مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ، 33 لاکھ ،44 ہزار 408 نفوس پر مشتمل ہے جو کہ رقبے کے لحاظ سے بہت کم ہے۔

بلوچستان کی جغرافیائی اور موسمی حالت اسے خشک اور نیم خشک خطہ بناتی ہے۔ ماہرین اسے ڈراﺅٹ پرون یعنی خشک سالی کے خطرے سے گھرا علاقہ قرار دیتے ہیں۔

پچھلی چند دہائیوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر دہائی میں ایک یا دو سال ضرور خشک سالی کے ہوتے ہیں۔ پانی کی کمی کے باعث بلوچستان کی زراعت کا ملکی معیشت میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے البتہ مقامی آبادی اپنی ضرورت کے لیے زیادہ سے زیادہ گلہ بانی پر انحصار کرتی ہے اور یہاں کی آبادی کے لیے سب سے بڑا چیلنج انسان اور مویشیوں کے لیے پینے اور گھریلو استعمال کے لیے پانی کا حصول ہے۔

ریجنل ڈائریکٹر برائے محکمہ موسمیات بلوچستان اجمل شاد کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔

’مثلاً ساحلی پٹّی پر اچھی بارش ہوتی ہے۔ پچھلے تین سالوں میں شدید بارشیں ہوئی ہیں اور کئی ریکارڈ ٹوٹے۔ پسنی میں 60-70 سالہ بارش کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔‘

ایسے میں ان ڈیموں کا بارش کے پانی سے بھرنا کسی نعمت سے کم نہیں ہو گا۔ مثلاً تربت کا میرانی ڈیم جب کبھی بھر جاتا ہے تو دو سے تین سال کی زراعت کے لیے کافی ہوتا ہے۔ زراعت کے ساتھ ساتھ ایسے ڈیم بارشوں میں پہاڑوں سے آنے والے تیز سیلابی ریلوں سے حفاظت کا بھی بہترین حل ہیں۔

سو ڈیم پراجیکٹ: ’نقل مکانی کرنے والے واپس آ رہے ہیں‘

بلوچستان کا ڈیم منصوبہ

بلوچستان کے سو ڈیم منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کلیم اللہ بازئی کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ بلوچستان کی خوش حالی کے لیے بہت ضروری تھا۔

’پچھلے 15 سالوں میں خشک سالی اور سیلابوں نے معیشت کو تباہ کر دیا۔ جن علاقوں میں بارشیں کم ہوتی ہیں، وہاں زیر زمین پانی انتہائی نیچے جا رہا ہے۔ سالانہ 10 فٹ یا 3.1 میٹر کی اوسط سے یہ شرح کم ہورہی ہے۔ بارشوں کی اوسط 50 سے 500 ملی میٹر سالانہ سے زیادہ نہیں ہے۔

مون سون کے موسم میں ایک کروڑ 30 لاکھ ایکڑ فٹ قیمتی پانی میں سے 63 فیصد پانی سیلاب کی صورت میں ضائع ہو جاتا ہے، صرف 37 فیضد پانی جمع ہو پاتا ہے۔‘

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے اس قیمتی پانی کے ضیاع اور سیلاب کی تباہ کاریوں کی روک تھام کے لیے چھوٹے ڈیموں کا منصوبہ تیار کیا جس کے لیے وفاق بھی مالی تعاون کر رہا ہے۔

ابتدائی طور پر 200 ڈیمز کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن وفاق نے اس منصوبے کو دو حصوں میں تقسیم کیا کہ پہلے مرحلے میں صرف 100 ڈیم بنائے جائیں گے۔

کلیم اللہ بازئی کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پہلے پیکج میں 20 ڈیمز بنائے گئے جن پر 2.467 ارب روپے لاگت آئی۔ ان میں ذخیرہ شدہ پانی کی مقدار 44 ہزار 438 ایکڑ فٹ اور ان سے آباد ہونے والی زمین کا رقبہ 25 ہزار 850 ایکڑ ہوگا۔

دوسرے پیکج میں 26 ڈیمز تعمیر کیے گئے جن پر مجموعی طور پر 4.647 ارب روپے لاگت آئی تھی۔ ان میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 77 ہزار 456 ایکڑ فٹ اور آباد ہونے والی زمین کا تخمینہ 24 ہزار ایکڑ لگایا گیا ہے۔

کوہلو ڈیم

،تصویر کا ذریعہGOVT OF BALOCHISTAN

،تصویر کا کیپشن

کوہلو ڈیم

پیکج 3 میں 20 ڈیم مکمل ہوئے جن پر 8.867 ارب روپے کی رقم خرچ ہوئی اور ذخیرہ شدہ پانی کی مقدار ایک لاکھ 98 ہزار 260 ایکڑ فٹ اور آباد زمین 58 ہزار 500 ایکڑ ہوگی۔

اب تک سو ڈیم منصوبے میں سے تقریباً 64 ڈیمز تعمیر ہو چکے ہیں، گویا نصف سے زیادہ پراجیکٹ مکمل ہوچکا ہے۔

کلیم اللہ بازئی کا کہنا ہے کہ بہت سے علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح گرنے سے پانی کا حصول ناممکن ہو گیا تھا اس لیے لوگ ایسے علاقوں سے نقل مکانی کرگئے تھے لیکن اب وہ واپس آرہے ہیں۔

زیرِ زمین پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے جس کے باعث لوگوں کو کنوؤں سے پانی آسانی سے دستیاب ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان ڈیموں کے فعال ہونے سے جون میں 200 سے 250 نوکریوں کی گنجائش بھی پیدا ہو گی جن میں ترجیحاً مقامی افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔

’کمائی بھی، جھگڑوں کا خاتمہ بھی‘

شرگ ڈیم کے پاس لہلہاتی فصلیں

،تصویر کا ذریعہABDUL QADIR

،تصویر کا کیپشن

شاہرگ ڈیم کے پاس لہلہاتی فصلیں

برنائی کے علاقے تحصیل شاہرگ میں شاہرگ ڈیم تعمیر کیا گیا ہے۔ حالیہ بارشوں سے یہ ڈیم بھر چکا ہے جہاں نیلگوں پانی لشکارے مار رہا ہے۔ اس ڈیم کے گرد موجود ایک کلی (گاﺅں) کے کسان عبدالقادر کا کہنا ہے کہ ’پہلے پانی صرف بارش کا ملتا تھا، وہ بھی بہت کم، کیونکہ پہاڑوں سے آنے والا پانی تیزی سے بہہ جاتا تھا۔ وہ ہمارے زیادہ کام نہ آتا۔‘

’گرمیوں میں کنوئیں بھی خشک ہوجاتے تھے تو پینے کا پانی بھی بہت دور سے لانا پڑتا تھا۔ بہت کم زراعت ہوتی تھی، یوں سمجھ لیں کہ اگر ایک قبیلے کے پاس ایک ہزار ایکڑ زمین ہے تو اس میں سے صرف تین سو یا چار سو ایکڑ کاشت ہوتی تھی۔‘

عبدالقادر نے بتایا کہ ’ہمارا ضلع برنائی کاشت کے حوالے سے ٹاپ پر ہے۔ اب پانی موجود ہے تو منافع بخش فصلیں یعنی گنا، لہسن اور پیاز لگائے جا رہے ہیں۔

یوں سمجھ لیں کہ لوگ فصل پر 20 سے 25 لاکھ کما رہے ہیں اور یہ بھی وہ لوگ ہیں جن کی زمینیں کم ہیں۔‘

عبدالقادر نے ہنس کر بتایا کہ ’پانی آ جانے سے جھگڑے بھی ختم ہو گئے ہیں۔ اس ڈیم کے اردگرد تین قبیلے کاکڑ، سیّد اور ترین آباد ہیں۔ تقریباً چھ کلی میں 15 سے 20 ہزار لوگ ہوں گے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے لوگ پانی چوری کرتے تھے، مار پیٹ بھی ہو جاتی تھی۔

’اب ایسا نہیں ہوتا کیونکہ ہمیں پہلے کے مقابلے میں دگنا تگنا پانی میسر ہے۔ ہماری صدیوں قدیم کاریزات بھی رواں ہو گئی ہیں۔‘

ناممکن کو ممکن بنانے والے آج کے دور کے ’فرہاد‘

نیلگ ڈیم

،تصویر کا ذریعہGOVT OF BALOCHISTAN

،تصویر کا کیپشن

نیلگ ڈیم

فرہاد کی پہاڑوں سے دودھ کی نہر نکالنے والی بات تو اب قصہ پارینہ ٹھہری۔ مگر آج کے دور میں 100 ڈیم پراجیکٹ میں شامل چند سرپھرے افراد نے مشکل اور نامساعد حالات میں جس ناممکن کو ممکن بنایا اس پر انھیں آج کے دور کے ’فرہاد‘ کہا جائے تو درست ہو گا۔

ظفر اقبال آج بھی وہ زمانہ یاد کرتے ہیں جب پانچ سال پہلے بہت سے ماہرین یہ پیش گوئی کر رہے تھے کہ اوّل تو یہ ڈیم بلوچستان میں بن نہیں پائیں گے اور اگر بن بھی گئے تو ان میں کئی سالوں تک پانی نہیں بھرے گا۔

محکمہ آب پاشی کی صلاحیتوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے مگر آج ان ڈیموں کے سپل وے سے بہتا پانی اپنے ساتھ ان سارے شکوک و شبہات کو بھی بہا کر لے گیا ہے۔

سپل وے چلنے کا مطلب ہے کہ بارش کا پانی ڈیم کے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے بڑھ کر ہے اور ایسا پہلے سال ہی ممکن ہو گیا۔

ان تمام ڈیموں میں سوا تین لاکھ ایکڑ فٹ پانی کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ پانی بلوچستان کی غربت اور بدحالی کے تمام داغ دھو سکتا ہے۔ خوش حالی دیگر تمام مسائل بھی جڑ سے اکھاڑ پھینک سکتی ہے اور صبح کے بھولے شام سے پہلے لوٹ بھی سکتے ہیں۔



Source link