صدر زیلنسکی کا ’یورپ سے جنگ روکنے میں تاخیر‘ کرنے کا شکوہ، یوکرینی فوج کیئو کے مشرقی علاقے دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب

24 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہUKRAINE PRESIDENT’S OFFICE

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یورپی ممالک سے شکوہ کیا ہے کہ انھوں نے روس کو جنگ سے روکنے میں تاخیر کی ہے۔

جمعے کو برسلز میں یورپین کونسل کے اجلاس سے خطاب میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کی طرف سے یوکرین میں ہونے والی تباہی کے بارے میں بتایا۔

انھوں نے یوکرین کے لیے یورپ کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ اس کے بعد زیلنسکی نے یورپی رہنماؤں سے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ ’انھوں نے روس کو جنگ سے روکنے کے لیے بہت دیر کر دی ہے۔‘

ان کے مطابق ’آپ نے روس پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس کے لیے ہم آپ کے شکرگزار ہیں۔ یہ بہت جاندار اقدامات ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مگر یہ کچھ تاخیر سے ہوا ہے۔ اس کا ایک موقع تھا۔ اگر پیشگی کچھ پابندیاں عائد کر دی جاتیں تو شاید روس جنگ ہی نہ کرتا۔‘

یورپ کو گیس سپلائی کرنے والی نارڈ سٹریم ٹو گیس پائپ لائن کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر اسے پہلے ہی بلاک کر دیا جاتا تو شاید روس گیس کا بحران ہی نہ پیدا کرتا۔‘

اس کے بعد زیلنسکی نے پڑوسی ممالک سے درخواست کہ وہ یوکرین کو یورپی یونین میں شامل کریں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہاں میں آپ سے کہوں گا کہ اس میں دیر نہ کریں۔‘

حالیہ ہفتوں میں صدر زیلنسکی نے دنیا بھر میں متعدد پارلیمان سے خطاب کیا اور وہ مغربی ممالک کو یہ کہنے میں بالکل نہیں گھبرائے کہ اس معاملے میں وہ کس طرح بامعنی مدد دینے میں ناکام رہے۔

روس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

line

روس کا یوکرین پر حملہ: ہماری کوریج

line

برطانیہ کی وزارت دفاع نے روس یوکرین جنگ کے حوالے سے اپنے تازہ انٹیلیجنس تجزیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرینی فوج دارالحکومت کیئو کے مشرقی علاقوں اور دفاعی پوزیشنز کا دوبارہ قبضہ حاصل میں کامیاب ہو گئی ہے۔

برطانوی وزارت دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرین کی فوج کو روسی فوجیوں کو پیچھے دھکیلنے میں بھی کچھ حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ برطانوی انٹیلیجنس تجزیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روسی فوج کی سپلائی لائن بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہے۔

دوسری جانب انسٹی ٹیوٹ فار سٹڈی آف وار (آئی ایس ڈبلیو) کا کہنا ہے کہ 24 مارچ کو روسی فوج نے یوکرین کے اہم ساحلی شہر ماریوپل میں داخلے کے بعد سے دھیرے دھیرے سے پیش قدمی کی ہے۔ یوکرین کا یہ ساحلی شہر روس کی جنگ میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس شہر کو روسی فوجیوں نے مارچ کے آغاز سے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔

آئی ایس ڈبلیو کے مطابق جیسے جیسے ماریوپل میں صورتحال بگڑ رہی ہے تو مقامی یوکرینی حکام شہر چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے تاکہ وہ ریجنل آپریشنز کو بہتر طور پر دیکھ سکیں۔

یوکرین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آئی ایس ڈبلیو کا کہنا ہے کہ روسی افواج نے خارخیو پر گولہ باری کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہے اور انسانی ہمدردی کے تحت انخلا کی راہداریوں پر بھی دھاوا بولا ہے، جس کے نتیجہ میں چھ افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔

یوکرینی فوج نے ڈونیتسک اور لوہانسک کے علاقوں میں متعدد معمولی پیشرفت کی ہے۔ لیکن آئی ایس ڈبلیو نے برڈیانسک کی مقبوضہ بندرگاہ پر روسی جہازوں پر یوکرین کے کامیاب حملوں کے بارے میں بھی بتایا ہے۔

اس کا مزید کہنا ہے کہ یوکرین نے روسی فوجیوں کو دارالحکومت کیئو کے شمال مغرب میں جانے پر مجبور کیا، اور روسی جنگجوؤں کو چرنیہیو کے علاقے کو گھیرنے سے روک دیا۔

روسی لینڈنگ شپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’مغربی پابندیاں ماسکو کو متاثر نہیں کریں گی‘

روس کے سابق صدر اور ملک کی سکیورٹی کونسل کے موجودہ نائب سربراہ دیمتری میدویدیو کا کہنا ہے کہ ’یہ سمجھنا حماقت ہو گی کہ روسی کاروبار پر عائد مغربی پابندیاں ماسکو حکومت کو متاثر کر سکتی ہیں۔‘

واضح رہے کہ مغرب نے روس پر متعدد اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جن میں خصوصاً ان ارب پتی روسی کاروباری افراد کو بھی ہدف بنایا گیا ہے جن کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ روسی صدر پوتن کے قریبی دوست ہیں۔

روس کی سرکاری نیوز ایجنسی آر آئی اے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دیمتری میدویدیو کا کہنا تھا کہ ’ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا ان میں سے کسی بھی مرکزی کاروباری شخص کا حکومتی قیادت پر معمولی سا بھی اثر رسوخ ہے؟‘

تو میں آپ کو واضح طور پر بتاؤں گا، نہیں کسی طرح بھی نہیں۔‘

مگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کے امرا پر شکنجہ تنگ کرنے اور ان پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے سے وہ پوتن پر اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

’روس یوکرین کے شہروں پر بمباری کر کے قبضہ کرنا چاہتا ہے‘

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ فوجی اتحاد نیٹو اس سے قبل اتنا متحد کبھی نہیں تھا۔ انھوں نے اسی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح روس پر پابندیوں کو طویل عرصے کے لیے برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، جو ماسکو کے فیصلہ سازی کے عمل کو متاثر کرے گی۔

امریکی صدر جوبائیڈن، برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن اور فرانس کے رہنما میخائل میکرون نے ابھی اس بارے میں واضح کچھ بتانے سے انکار کر دیا ہے کہ اگر روس یوکرین میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے تو پھر ان کا ردعمل کیا ہو گا۔

نیٹو نے اس کی تصدیق کی ہے کہ نئے چار فوجی دستے جن میں چالیس ہزار فوجی ہوں گے کو سلواکیا، ہنگری، بلغاریہ اور رومانیہ بھیجے جائیں گے۔

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ میں کہا ہے کہ وہ اس متعلق پرامید نہیں ہیں کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن امن کے خواہاں ہیں۔

ان کے خیال میں روس اپنے جنگی اقدامات میں مزید اضافہ کرے گا اور یوکرین کے شہروں کا حال (گروزنیفائی) چیچنیا کے شہر گروزنی کی طرح کر دے گا یعنی بمباری اور قبضہ کرے گا۔

خیال رہے کہ گروزنیفائی چیچن شہر گروزنی سے متعلق ایک اصطلاح ہے، جسے روس نے بمباری کر کے سنہ 1999-2000 میں اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔



Source link