طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لیے افغانستان بھر میں کرفیو نافذ، کابل اور دیگر دو صوبوں کو استثنیٰ حاصل

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

طالبان کی جانب سے شہروں پر کیے جانے والے حملے روکنے کے لیے افغان حکومت نے سنیچر کے روز ملک کے تقریباً تمام علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

دارالحکومت کابل اور دو دیگر صوبوں کے علاوہ ملک میں رات دس بجے سے صبح چار بجے کے درمیان کسی بھی طرح کی نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہو گی۔

طالبان اور افغان حکومتی افواج کے مابین گذشتہ دو ماہ کے دوران بین الاقوامی فوج کے ملک سے انخلا کے بعد لڑائی بڑھ گئی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق عسکریت پسند گروپ نے ملک کے آدھے حصے پر قبضہ کرلیا ہے۔

یہ جنگجو امریکی فوج کی واپسی کے بعد دیہی علاقوں میں سرحدی گزر گاہوں اور دیگر علاقوں کو واپس لیتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

امریکی زیر قیادت فورسز نے اکتوبر 2001 میں افغانستان میں طالبان کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔

اس گروپ پر الزام تھا کہ یہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دیگر افراد کو پناہ دے رہا تھا جو 11 ستمبر کو امریکہ پر حملوں سے منسلک تھے۔

لیکن طالبان نے ایک بار پھر ملک میں اہم سڑکیں قبضے میں لے لیں ہیں کیونکہ وہ سپلائی کے راستوں کو منقطع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ طالبان متعدد بڑے شہروں کے قریب آ رہے ہیں لیکن ابھی تک ان پر قبضہ نہیں کر سکے۔

Taliban fighters in 2018

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

امریکی اور ناٹو افواج کے جانے کے بعد طالبان تیزی سے ملک کے دیگر علاقوں پر قبضہ کر رہے ہیں

افغان وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ’تشدد کو روکنے اور طالبان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے 31 صوبوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ کابل، پنجشیر اور ننگرہار کو استثنیٰ حاصل ہے۔

طالبان کی پیش قدمی کے دوران قندھار شہر کے نواح میں رواں ہفتے شدید جھڑپیں ہوئیں۔

اس کے جواب میں امریکہ نے جمعرات کے روز اس علاقے میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پرفضائی حملہ کیا، چونکہ افغانستان میں امریکی کارروائیوں کا باضابطہ اختتام 31 اگست کو ہونا ہے، اس وجہ سے آئندہ مہینوں کے بارے میں خدشات ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکیوں کا انخلا جائز ہے کیونکہ امریکی افواج نے یہ یقینی بنایا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر غیر ملکی جہادیوں کے مغرب کے خلاف سازشوں کا اڈہ نہیں بن سکتا۔

اس ماہ کے شروع میں امریکی فوجی خاموشی سے بگرام ایئر فیلڈ سے روانہ ہوئے، جو ایک وسیع و عریض اڈہ تھا جو افغانستان میں امریکی کارروائیوں کا مرکز تھا اور یہاں کبھی دسیوں ہزار فوجی تھے۔

امریکی انٹلیجنس کے کچھ تجزیہ کاروں کو خوف ہے کہ چھ ماہ کے اندر اندر طالبان اپنا کنٹرول واپس سنبھال لیں گے۔

طالبان

کیا طالبان واپس آ گئے ہیں؟

اسلامی شدت پسند گروہ افغان طالبان نے سنہ 1996 میں افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا اور اگلے پانچ برس تک ملک پر ان کی حکمرانی قائم رہی۔

نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور طالبان کو شکست دے دی۔ اس کے بعد ملک میں جمہوری نظام کے تحت انتخابات ہوئے اور نیا آئین بنایا گیا لیکن طالبان شکست کے باوجود ختم نہ کیے جا سکے اور وہ مسلسل چھوٹے پیمانے پر جھڑپیں اور حملے کرتے رہے، جس نے افغان، امریکی اور نیٹو افواج کو مصروف رکھا۔

لیکن اب جبکہ امریکی افواج ملک سے جا رہی ہیں تو طالبان نے دوبارہ اپنے پنجے گاڑنے شروع کر دیے ہیں اور جگہ جگہ ’شریعت‘ کا نظام لاگو کرنا شروع کر دیا ہے۔

بی بی سی افغان سروس نے ملک کے مختلف حصوں میں 19 جولائی تک کی صورتحال کی تصدیق کی تاکہ یہ جان سکیں کہ ملک کے کس کس حصے پر حکومت کا قبضہ ہے اور کہاں پر طالبان کا۔

البتہ چند علاقے ایسے ہیں جہاں پر اس وقت لڑائی جاری ہے اور طالبان کی وہاں کثیر تعداد میں موجودگی ہے۔

لیکن زمینی صورتحال تیزی سے تبدیل بھی ہو رہی ہے اور ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں تک رسائی ممکن نہیں جس کے باعث خبروں کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔

تاہم یہ واضح ہے کہ طالبان کی پیشرفت تیزی سے جاری ہے اور اب اندازہ ہے کہ ملک کے ایک تہائی حصے پر ان کا کنٹرول ہے۔



Source link

Leave a Reply