طیاروں میں بیٹھنے کے قواعد: خواتین جہاز میں ہنگامی راستے والی نشست پر نہیں بیٹھ سکتیں؟

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

3 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آپ نے جب بھی کسی طیارے میں سفر کیا ہو گا تو پرواز بھرنے سے قبل فضائی میزبان نے ذاتی طور پر یا سکرین پر ہنگامی حالات کی صورت میں اقدامات اور طیارے سے باہر نکلنے کے رستوں کی بھی نشاندہی کی ہو گی۔

ایک تو وہ رستے ہیں جہاں سے آپ طیارے میں داخل ہوتے ہیں یا معمول کے مطابق باہر نکلتے ہیں اس کے ساتھ وہ ہنگامی راستے ہیں جو مسافر نشستوں کے درمیان میں ہوتے ہیں۔

اگر آپ کی نشست ہنگامی راستوں پر واقع ہے تو فضائی میزبان آپ کو اعتماد میں لیتے ہیں کہ کسی ہنگامی صورت میں دروازہ کیسے کھولا جائے گا اور آپ کیسے مددگار ہو سکتے ہیں لیکن کیا اس نشست پر ہر عمر اور ہر صنف کا فرد بیٹھ سکتا ہے؟

ایک نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کی مارننگ شو کی میزبان شفا یوسفزئی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’انھیں ابھی پتا چلا کہ فضائی کمپنی ایئربلو کی پالیسی کے مطابق خواتین کو ایمرجنسی ایگزٹ والی نشستیں نہیں دی جاتیں، اس عجیب و غریب پالیسی کی وجہ کیا ہے؟ ایئر بلیو نے انھیں اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔‘

جیو نیوز کی نیوز اینکر علینا فاروق شیخ لکھتی ہیں کہ ’کچھ دیر پہلے ہی پتہ چلا، بورڈنگ کاؤنٹر پر لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ خواتین عام طور پر ہنگامی حالات میں گھبراتی ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ مسلح افواج میں شامل خواتین اور ڈاکٹر اس اصول سے مستثنیٰ ہیں۔‘

صارف عطیہ اکرم لکھتی ہیں کہ ’ان کے خیال میں اس کا تعلق جسمانی طاقت سے زیادہ ہے، خواتین عام طور پر پرسکون رہتی ہیں جبکہ مرد گھبراتے ہیں۔‘

اسریٰ بھی اس مؤقف سے متفق نظر آتی ہیں وہ لکھتی ہیں کہ ’باہر نکلنے کا دروازہ کھولنے کے لیے کافی طاقت درکار ہوتی ہے، مرد عام طور پر حیاتیاتی طور پر مضبوط ہوتے ہیں۔‘

ایک صارف لکھتے ہیں کہ ’FAA اور EASA کے مطابق فضائی عملہ مسافر کو بریف کرے گا کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں اوور دی ونگ ایگزٹ کیسے کھولا جائے، مسافر 18 سال سے زیادہ عمر کا مرد یا عورت ہو سکتا ہے۔‘

قاضی ہمایوں لکھتے ہیں کہ تمام بین الاقوامی ایئر لائنز تو نہیں تاہم اس پالیسی پر اکثریت عمل کرتی ہے، 60-65 سال عمر سے زیادہ کے مردوں اور بچوں کو بھی اس نشست پر بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔

ریسکیو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایمرجنسی کی صورت میں کیبن کریو کی مدد کے لیے ایمرجنسی ایگزٹ کے پاس بیٹھے ہوئے مسافر کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایئر بلیو کے مرکزی دفتر سے ٹیلیفون اور ٹوئٹر پر رابطہ کیا گیا لیکن ان کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

تاہم ٹوئٹر پر ارم ولی خان نے لکھا ہے کہ ’میں نے آج ایئر بلیو پر سفر کیا اور 29 نمبر سیٹ پر بیٹھی تھی جو کہ ایمرجنسی ایگزٹ میں سے ایک ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Shiffa_ZY

’کیبن کریو تمام ہی خواتین تھیں یعنی ایمرجنسی کی صورت میں ان خواتین نے ایمرجنسی دروازے سنبھالنے تھے لہٰذا ایمرجنسی کے دوران خواتین مسافروں کا گھبرانے کا کوئی منطق نہیں بنتا۔‘

پاکستان سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی اصول نہیں ہے کہ ’خواتین ہنگامی اخراج والی نشستوں پر نہیں بیٹھ سکتی ہیں۔‘

ادارے کے ترجمان سیف اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تین روز قبل وہ ایک پرواز میں تھے ان کی نشست ہنگامی اخراج کے دروازے پر تھی اور ان کی دوسری طرف ایک خاتون بیٹھی تھیں لہٰذا یہ کوئی پالیسی نہیں ہے۔‘

’سول ایوی ایشن کی پالیسی کے مطابق کوئی تندرست فرد چاہے وہ مرد ہو یا خاتون اس نشست پر بیٹھ سکتا ہے اور عملہ انھیں آگاہ کرے گا کہ یہ ہنگامی دروازہ کیسے کھولا جائے گا، اگر کوئی ایئر لائن صنفی امتیاز کر رہی ہے تو یہ اس کی پریکٹس ہو سکتی ہے تاہم پالیسی نہیں۔‘

پاکستان کی قومی ایئر لائن کی ویب سائٹ پر تحریر ہے کہ ایمرجنسی ایگزٹ سیٹ کے مسافروں کو کچھ حفاظتی تقاضوں اور شرائط کی تعمیل کرنے کی ضرورت ہے، یہ نشست آن لائن فراہم نہیں کی جا سکتی۔

طیارہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بین الاقوامی ایئرلائینز اور سول ایوی ایشینز نے ہنگامی اخراج کے راستوں کی نشستوں پر واضح ہدایات جاری کی ہوئی ہیں تاہم ان میں صنفی امتیاز نہیں برتا گیا۔

برطانیہ کی سول ایوی ایشن کی ہدایت نامے کے مطابق کچھ مسافروں کو ایمرجنسی ایگزٹ کے ساتھ والی سیٹ کی قطار میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہنگامی طور پر باہر نکلنے کی ضرورت ہو تو یہ لازم ہے کہ باہر نکلنے کے لیے یہ دروازہ کھولا جائے اور ہوائی جہاز کو جلد از جلد خالی کیا جائے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@komalsalman

لہٰذا جسمانی یا ذہنی معذوری کے ساتھ مسافر، وہ مسافر جن کی بصارت یا سماعت کی نمایاں خرابی اس حد تک ہے کہ ان کے لیے ہدایات کا فوری جواب دینا مشکل ہو سکتا ہے، وہ مسافر جنھیں عمر یا بیماری کی وجہ سے جلدی چلنے میں دشواری ہوتی ہے انہیں یہ نشست نہیں دی جا سکتی۔

اس کے علاوہ وہ مسافر جو جسامت کی وجہ سے تیزی سے چلنے میں دشواری کا شکار ہوتے ہیں، بچے اور شیرخوار، جانوروں کے ساتھ سفر کرنے والے مسافر وہ بھی اس نشست کے اہل نہیں۔

آسٹریلوی ایوی ایشن کا اس بارے میں ایک جامع مینوئل موجود ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ’ہنگامی حالت میں مسافروں کے اقدامات زندگی بچانے کے اقدامات پر اہم اثر ڈال سکتے ہیں۔‘

’ہنگامی راستوں سے متصل نشستوں پر بیٹھے ہوئے مسافر اس میں خاص طور پر اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ہنگامی انخلا کے دوران مسافروں کے بر وقت اور محفوظ باہر نکلنے میں چوٹوں اور جانوں کے ضیاع کا امکان رہتا ہے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@komalsalman

اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’لہٰذا یہ مددگار مسافر جسمانی طور پر ہنگامی اخراج کو کھولنے کے قابل ہو، تحریر شدہ اور بولی جانے والی ہنگامی ہدایات کو سمجھنے کے قابل ہوں، بصری طور پر اس بات کا تعین کرنے کے قابل ہو کہ آیا باہر نکلنا محفوظ ہے۔

’عملے سے زبانی معلومات حاصل کرنے اور اس سے بات چیت کرنے کے قابل ہوں اور زبانی طور پر دوسرے مسافروں کو معلومات دینے کے قابل ہو۔‘



Source link