عاصمہ رانی قتل کیس: پشاور کی عدالت نے 2018 میں کوہاٹ میں قتل ہونے والی طالبہ کے ایک مجرم کو سزائے موت سنا دی

  • محمد زبیر خان
  • صحافی

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہSafia Rani

’بہن کے قتل میں ملوث ایک ملزم کو مجرم قرار دیے جانے پر کچھ اطمینان تو ملا ہے۔ مگر جنگ ابھی بھی جاری ہے۔ دو ملزمان کو بری کرنے والے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کروں گی۔ کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے بغیر نہ میں اور نہ ہی پاکستان میں میرے بہن بھائی چین سے رہیں گے۔‘

یہ الفاظ تھے سال 2018 میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر کوہاٹ میں قتل ہونے والی عاصمہ رانی کی بہن صفیہ رانی کے۔ صفیہ رانی اس وقت برطانیہ میں مقیم ہیں اور قانون کی طالبہ ہیں۔

ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج پشاور کی عدالت نے جمعے کو سنٹرل جیل پشاور میں اس قتل کے مقدمے کا فیصلے سناتے ہوئے ایک مجرم مجاہد اللہ آفریدی کو سزائے موت جبکہ دو کو ملزمان کو بری کر دیا ہے۔

یاد رہے ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد میں ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی نوجوان طالبہ عاصمہ رانی کو سال 2018 میں کوہاٹ کے علاقے میانخیل میں شادی کے رشتے سے انکار پر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

مقتولہ کے بھائی کی جانب سے پولیس میں درج مقدمے میں کہا گیا تھا کہ قاتل ان کی بہن سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن مجرم پہلے سے شادی شدہ تھا جس وجہ سے رشتہ دینے سے انکار کیا گیا تھا۔

عاصمہ رانی کے قتل کی ایف آئی آر کے مطابق مجرم مجاہد اللہ نے اپنے ساتھی کے ہمراہ گھر میں داخل ہو کر عاصمہ رانی کو گولیاں ماری تھیں۔

مجرم اس واقعے کے بعد پاکستان سے فرار ہو کر سعودی عرب چلا گیا تھا۔ تاہم سول سوسائٹی کے احتجاج پر مجرم مجاہد اللہ کے ریڈ وارنٹ جاری کر کے اس کو انٹرپول کی مدد سے جبکہ اس کے ملزم بھائی اور سہولت کار کو کوہاٹ ہی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

عاصمہ رانی کے مقدمہ میں پولیس نے دہشت گردی کی دفعات لاگو کی تھیں جن کو بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ میں مجرم کی جانب سے دائر کردہ پیٹیشن پر ختم کر دیا گیا تھا۔ قتل کے اس مقدمے کی کارروائی کے دوران عاصمہ رانی کا واقعے کے بعد بیان کی ریکارڈ کردہ ویڈیو بطور ثبوت پیش کرنے کے علاوہ گواہ بھی پیش کیے گئے تھے۔

عاصمہ رانی نے عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیے جانے والے شحض کو فائرنگ کا مرتکب قرار دیا تھا۔

اس قتل کے واقعے کی ملکی اور بین الاقوامی میڈیا پر کوریج ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا پر عوام نے اس پر اپنے غم وغصہ کا اظہار کیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اس واقعے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

مقتولہ عاصمہ رانی کے بھائی محمد عمران کا کہنا ہے کہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ سیشن جج کی عدالت سے دو ملزمان کی بریت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

‘بہن کے قتل کے بعد نہ صرف میرے ماں باپ سے ان کا ‘چاند’ چھن چکا ہے بلکہ میری ماں کا شمار اس وقت نہ زندوں میں ہوتا ہے نہ مردوں میں ہوتا ہے۔’

عاصہ رانی کو ان کے گھر والے ‘چاند’ کے لقب سے پکارتے تھے۔ محمد عمران بتاتے ہیں کہ ‘جب یہ واقعہ ہوا تو ہماری دنیا اندھیر ہو گئی۔ ہم عاصمہ رانی کو چاند اس لیے کہتے تھے کہ وہ انتہائی باصلاحیت، ذہین اور سب سے چھوٹی ہونے کی بناء پر سب کی لاڈلی تھی۔’

عاصمہ رانی اور ان کی والدہ

،تصویر کا ذریعہSafia Rani

،تصویر کا کیپشن

عاصمہ رانی اور ان کی والدہ

محمد عمران کا کہنا تھا کہ ‘ساڑھے تین سال تک نہ صرف عدالتوں میں تاریخیں بھگتی ہیں بلکہ ہر دباؤ برداشت کیا ہے۔ صرف عاصمہ رانی قتل نہیں ہوئی ہمارا پورا خاندان متاثر ہوا ہے۔ چھوٹے بچوں کی تعلیم اور ہمارے روزگار تک متاثر ہو چکے ہیں۔’

وہ کہتے ہیں کہ ‘صلح کی ہر پیشکش صرف اس وجہ سے ٹھکرا دی ہے کہ کل کو کسی اور کی بہن اور بیٹی تعلیم حاصل کرنے جائے یا ڈاکٹر بننے کی کوشش کرئے تو کوئی ان سے ان کا چاند چھینے کی جرات نہ کرے۔’

‘ہمارا مقدمے بازی، لڑائی جھگڑے سے دور کا بھی واسطہ نہیں’

عاصمہ رانی کے بھائی محمد عمران کہتے ہیں کہ ‘ہم آٹھ بہن بھائی ہیں۔ میرا ایک بھائی اور ایک بہن سپیشل ہیں۔ ہم لوگ لکی مروت کے رہنے والے ہیں۔ وہاں پر تعلیم کی اتنی اچھی سہولتیں نہیں تھیں۔ والد صاحب ہمیں اچھی تعلیم دلانے کے لیے کوہاٹ لے آئے تھے۔ ہمارا مقدمے بازی، قتل وغارت، بندوق، لڑائی جھگڑے سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔’

محمد عمران کا کہنا تھا کہ بہن کے قتل پر انھیں انتہائی غصہ اور ان کے بچھڑنے کا بہت دکھ تھا۔مگر انھیں یہ نہیں پتا تھا کہ کرنا کیا ہے اور کیسے کرنا ہے۔

’اس موقع پر برطانیہ میں مقیم میری بہن نے ہمارا حوصلہ بڑھایا۔ اس نے کہا کہ عاصمہ رانی کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔ ہم سب مل کر لڑیں گے اور اس وقت تک لڑیں گے جب تک انصاف نہیں مل جاتا۔’

صفیہ رانی کہتی ہیں کہ ‘جب قتل کا مقدمے چلا تو ہمیں پے در پے کئی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دہشت گردی کی دفعات اعلیٰ عدالتی حکم پر ختم ہوئیں۔ لوگ ہمیں کہتے کہ پاکستان میں انصاف نہیں ملتا، صرف دھکے ہی کھانے ہیں مگر میں نے اپنا اور اپنے بھائیوں کا نظام عدل پر اعتماد بحال رکھا تھا۔’

صفیہ رانی کہتی ہیں کہ ‘مجھے وہ وقت اچھے سے یاد ہے جب پاکستان سے مجھے اطلاع ملی کہ میری بہن عاصمہ رانی کو قتل کردیا گیا ہے۔ وہ میری چھوٹی بہن نہیں میری بیٹی تھی۔ پہلے 24 گھنٹے تو مجھے سمجھ ہی نہ آیا کہ یہ کیا ہوا ہے۔ جب کچھ ہوش ٹھکانے آئے تو اس وقت میں اپنا لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گئی اور فیصلہ کیا کہ عاصمہ رانی کے قاتل کوئی بھی ہوں کتنے بھی بااثر ہوں وہ اتنی آسانی سے قتل کرکے فرار نہیں ہوسکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنے پر ہوئے ظلم و بربریت کی کہانی بیان کرنا شروع کی تو گھنٹوں میں یہ کہانی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی تھی۔ جس کے بعد سول سوسائٹی اور میڈیا بولا تو پھر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی حرکت میں آ گئے تھے۔

عاصمہ رانی

،تصویر کا ذریعہBasit Gillani

ان کا کہنا تھا کہ ‘عدالت کی جانب سے مجرم کو سزا ملنے کے بعد انتہائی مایوسی کے عالم میں ہمارے لیے اب امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک جائے گا جس کے لیے ہم لوگ ذہنی طور پر تیار ہیں۔’

صفیہ رانی نے بتایا کہ ابتدا میں وہ برطانیہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنےگئی تھیں مگر ان کی بہن کے قتل کے بعد انھوں نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

‘یہ سوچ کر بار ایٹ لا میں داخلہ لے لیا کہ اگر ضرورت پڑی تو میں خود عاصمہ رانی کا مقدمہ لڑ سکوں اور اب ارادہ یہ ہے کہ تعلیم مکمل کر کے پاکستان میں پریکٹس کروں گی اور مظلوموں کو انصاف فراہم کرنے میں مدد دوں گی۔’

وہ خواب جو پورا نہ ہوسکا

صفیہ رانی نے بتایا کہ ان کے والدین کو بہت شوق تھا کہ ان کی کوئی بیٹی یا بیٹا ڈاکٹر بنے۔

محمد عمران کا کہنا تھا کہ جب چاند (عاصمہ رانی) کا میڈیکل کالج میں داخلہ ہوا تو وہ دن شاید عید سے بڑھ کر خوشیوں کا دن تھا۔ جس دن داخلہ ہوا تو عاصمہ نے خوشی سے روتے ہوئے کہا تھا کہ ‘میں جب ڈاکٹر بنوں گی تو لکی مروت میں ایسا کلینک بناؤں گی جہاں پر مریضوں کا علاج مفت ہو گا۔’

صفیہ بی بی کہتی ہیں کہ ‘ہم لمحے اور سیکنڈ بھی گنتے تھے کہ چاند (عاصمہ رانی) کب ڈاکٹر بنے گئی۔ میں نے اس کو کہہ رکھا تھا کہ خوب محنت کرو اور اسکالر شپ لو تاکہ سپیلائزیشن برطانیہ سے کرو۔ وہ مجھے کہتی تھی کہ سال 2021 میں، میں تمھیں لندن کے ایئر پورٹ پر میڈیکل کے گاؤن میں ملوں گی۔’

ڈاکٹر کی کوئی عزت ہی نہیں

صفیہ بی بی کا کہنا تھا کہ ان کی مقتولہ بہن بچپن ہی سے بہت شرارتی اور بہت خوبصورت تھی۔ سب بہن بھائیوں کو تنگ کرتی اور پھر والد صاحب کے پاس جا کر شکایت لگاتی تو باقیوں ہی کو ڈانٹ پڑتی تھی۔

وہ اپنی مقتولہ بہن کے ساتھ گزرے وقت کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ‘ جب وہ میڈیکل کالج میں فرسٹ ایئر میں تھی، اس کو والدہ نے کسی بات پر ڈانٹا تو وہ افسردہ ہو کر والد صاحب کے پاس چلی گئی۔ لاڈلی بیٹی کو رنجیدہ دیکھ کر ابو نےامی سے کہا کہ میری بیٹی کو تنگ نہ کیا کرو۔ والدہ کے پاس نمک دانی پڑی ہوئی تھی۔ انھوں نے اٹھا کر عاصمہ کو دے ماری۔ جس پر عاصمہ بے ساختہ بولی کہ او ہو ڈاکٹر کی کوئی عزت ہی نہیں ہے۔ جس پر ہم سب کھلکھلا کر ہنس پڑے تھے۔’

عاصمہ رانی اور ان کے والد

،تصویر کا ذریعہSafia Rani

،تصویر کا کیپشن

عاصمہ رانی اور ان کے والد

محمد عمران کہتے ہیں کہ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ ایک باپ نے اپنی بیٹی کو پڑھانے اور ڈاکٹر بنانے کے لیے کتنی محنت کی ہوگئی۔ ایک ماں نے کیا کیا قربانی دی ہوگئی۔ خود چاند (عاصمہ رانی) نے کیا کیا سوچا ہو گا۔

صفیہ بی بی کہتی ہیں کہ ’عاصمہ نے مجھ سے ہمیشہ بہت کم اشیا کی فرمائش کی۔ مگر اپنے قتل سے چند روز قبل جب وہ تھرڈ ایئر میں گئی تو اس نے مجھ سے اسٹھیتو اسکوپ مانگا تھا کیونکہ اب اس کی پڑھائی وارڈ میں بھی ہوتی تھی۔میں نے وعدہ کیا تھا کہ بہترین اسٹھیتو اسکوپ بھجوا دوں گی مگر اس سے پہلے ہی یہ واقعہ ہو گیا’

وہ کہتی ہیں کہ مگر افسوس کہ سال 2018 میں قتل ہونے والے واقعہ کا سیشن کورٹ سے فیصلہ سال 2021 میں آیا ہے پتا نہیں سپریم کورٹ تک پہچنے اور مجرم کو منطقی انجام تک پہچانے میں کتنا عرصہ لگے اور ہمیں اور کتنی پریشانیاں اٹھانا پڑیں۔



Source link

Leave a Reply