عاصم باجوہ کے بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی متنازع دور کا اختتام، سی پیک پر وزیراعظم کے نئے معاون خصوصی خالد منصور کون ہیں؟

46 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہFacebook/@AsimBajwa

پاکستان چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے چیئرمین جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے منگل کے روز اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے جس کے بعد خالد منصور کو وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے سی پیک مقرر کر دیا گیا ہے۔

عاصم سلیم باجوہ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ’میں اللہ کے سامنے اپنا سر تسلیمِ خم کرتا ہوں، جس نے مجھے اہم ادارے سی پیک اتھارٹی کے تحت ایک پلیٹ فارم سے تمام منصوبوں کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کیا اور مستقبل کی سمت کا تعین ہوا۔ وزیراعظم اور ان کی حکومت کے مکمل اعتماد اور تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔‘

انھوں نے خالد منصور کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

اس کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے بھی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’سی پیک کو آگے بڑھانے کے لیے خدمات انجام دینے اور سی پیک کو دوسرے مرحلے میں ڈھالنے کے لیے وسیع کردار ادا کرنے پر میں عاصم باجوہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘

اسد عمر نے خالد منصور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کارپورٹ سیکٹر میں وسیع تجربہ، چینی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے اور سی پیک کے چند منصوبوں کی براہ راست قیادت انھیں اگلے مرحلے کی قیادت کے لیے بہترین شخصیت بنا دیتی ہے۔‘

تاہم اس خبر کے سامنے آتے ہی پاکستان میں سوشل میڈیا پر دو ٹرینڈز انتہائی مقبول ہو گئے۔ ایک عاصم باجوہ کی حمایت میں اور دوسری ان کی مخالفت میں تھا۔

سوشل میڈیا پر تنقید اور تعریف

ٹوئٹر پر بہت سے لوگوں نے عاصم باجوہ کی سی پیک اتھارٹی کے لیے خدمات کو سراہا جبکہ کئی افراد ایسے تھے جنھوں نے ان کی بطور چیئرمین سی پیک کارکردگی کو ہدفِ تنقید بنایا۔

صارف تاثیر شاہ کا کہنا تھا کہ عاصم باجوہ کی پاکستان کے لیے بیش قیمت خدمات ہیں، اس بہادر شخص نے سی پیک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

باجوہ

،تصویر کا ذریعہ@STaseershah

صارف حمزہ نیازی کا کہنا تھا کہ عاصم باجوہ نے ہمیشہ اپنا 100 فیصد اپنے ملک اور اس کی معیشت کے لیے دیا۔

عدیل احسن نامی ایک صارف نے پوچھا کہ ’آپ نے اتنے سالوں تک اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے ادا کیا۔ اتنے سالوں تک ملک کی خدمت کرنے کا شکریہ۔‘

عدیل

،تصویر کا ذریعہTwitter/@syedadeelahsan

تاہم اکثر صارفین عاصم باجوہ کی بطور سربراہ سی پیک کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے دکھائی دیے۔ صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ ’کیا داسو میں چینی انجینیئرز کی سکیورٹی بھی بطور اتھارٹی کے سربراہ آپ کی ذمہ داری تھی؟‘

مطیع

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Matiullahjan919

اسی طرح صحافی ٹام حسین نے کہا کہ ’یہ اعلان جس موقع پر سامنے آیا ہے مجھے تو لگتا ہے کہ چین نے اس کا مطالبہ کیا ہے۔‘

عاصم باجوہ کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کمیٹی کا ایک بھی اجلاس نہیں ہوا اور اس حوالے سے بھی چند سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی گئی کہ وہ ایک سال تک سی پیک آرڈینس کی مدت ختم ہونے کے باوجود کام کرتے رہے اور پھر مئی 2021 میں اسی وجہ سے سی پیک بل پاس کیا گیا۔

معاشی تجزیہ کار علی ملک نے ٹویٹ میں کہا کہ ’جنرل عاصم سلیم باجوہ کے بطور سی پیک اتھارٹی سربراہ دو سالہ دور میں ایک بھی مشترکہ تعاون کمیٹی کا ایک بھی اجلاس نہ ہونا خاصا معنی خیز ہے۔‘

علی

،تصویر کا ذریعہTwitte/@aalimalik

عاصم باجوہ کو گذشتہ سال وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کا اضافی عہدہ بھی دیا گیا تھا۔ اسی دوران صحافی احمد نورانی کی ان کے اور ان کی فیملی کے اثاثہ جات کے حوالے سے ایک خبر سامنے آنے کے بعد ان پر سوال اٹھنے لگے تھے۔

یہ خبر سامنے آنے کے بعد عاصم باجوہ نے وزیراعظم کو اپنے استعفے کی پیشکش کی تھی جسے وزیراعظم نے منظور نہیں کیا تاہم بعد میں انھوں نے عمران خان کے معاونِ خصوصی کا عہدہ چھوڑ دیا مگر بطور سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کے کام جاری رکھا۔

گذشتہ سال 27 اگست کو صحافی احمد نورانی کی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ اور ان کے خاندان کے کاروبار کے بارے میں ایک رپورٹ ‘فیکٹ فوکس’ نامی ویب سائٹ پر شائع ہوئی تو سوالات اور تنقید کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

صحافی احمد نورانی نے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کے ’خاندان کی کاروباری سلطنت کا پھیلاؤ اور جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی فوج میں اہم عہدوں پر ترقی، دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں۔‘

باجوہ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Fact Focus

،تصویر کا کیپشن

اپنی رپورٹ میں احمد نورانی نے عاصم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق دعوے کیے تھے

اپنی رپورٹ میں احمد نورانی نے عاصم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق دعوے کیے ہیں جن میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ یہ جائیدادیں چار ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال جاری کیے گئے اثاثہ جات کی فہرست میں عاصم باجوہ نے اپنی اہلیہ کے نام پر ’خاندانی کاروبار‘ میں صرف 31 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ظاہر کی تھی اور اس حلف نامے کے آخر میں تصدیق کی کہ ’میری، اور میری بیوی کی اثاثہ جات کی فہرست نہ صرف مکمل اور درست ہے بلکہ میں نے کوئی چیز نہیں چھپائی گئی۔‘

تاہم مضمون کی اشاعت کے بعد ٹوئٹر پر عاصم باجوہ نے دو ٹوک انداز میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ‘ایک غیر معروف ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف عناد پر مبنی ایک کہانی شائع ہوئی ہے جس کی میں پرزور انداز میں تردید کرتا ہوں۔’

صحافی احمد نورانی کی خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے مطالبہ سامنے آیا تھا کہ عاصم باجوہ اور عمران خان کی جانب سے اس حوالے سے جواب دیا جانا چاہیے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس اور پھر بعد میں اپنی پارٹی کے اجلاس میں لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عاصم سلیم باجوہ کے معاملے پر نیب سمیت عدالتوں کی خاموشی پر سخت تنقید کی تھی۔ انھوں نے موقف اختیار کیا کہ عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں پر احتساب کا نعرہ لگانے والی حکومت نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔

خالد منصور کون ہیں؟

خالد منصور

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

،تصویر کا کیپشن

خالد منصور

صحافی تنویر ملک کے مطابق خالد منصور کارپوریٹ سیکٹر میں کام کا وسیع تجریہ رکھتے ہیں اور وہ ملکی و بین الاقومی اداروں میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

خالد منصور پاکستان میں اورسیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او سی سی آئی) کے صدر کے عہدے پر بھی کام کر چکے ہیں۔ او سی سی آئی پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی و بین الاقوامی کمپنیوں کا نمائندہ چمبر ہے۔

پاکستان کے پلاننگ کمیشن کی طرف سے میڈیا کو جاری کردہ معلومات کے مطابق خالد منصور نے مختلف عالمی اداروں بشمول عالمی بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن، ملٹی لیٹرل انوسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی، ایشیائی ترقیاتی بینک، اورسیز پرائیوٹ انوسٹمنٹ کارپوریشن ، اوپیک فنڈ فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ اور کچھ دوسرے عالمی اداروں کے ساتھ بھی منسلک رہے۔

خالد منصور چینی مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا بھی تجربہ رکھتے ہیں جن میں چائنہ ڈویلمپنٹ بینک، چائنہ ایگزم بینک، انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنہ وغیرہ شامل ہیں۔

پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی کے مطابق خالد منصور کا چین کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے اور وہ مشترکہ منصوبوں کی منصوبہ بندی اور انھیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔



Source link

Leave a Reply