عامر لیاقت کی شادی کے بعد بحث: کم عمر دلہن کی تلاش کی وجہ خوبصورتی، بچے یا کنٹرول؟

  • زبیر اعظم
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
11 فروری 2022، 20:10 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 32 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹی وی اینکر اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے منسلک سیاستدان 49 سالہ عامر لیاقت حسین کی تیسری شادی کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں بھانت بھانت کے تبصرے ہو رہے ہیں وہیں ایک سنجیدہ بحث بھی جنم لے رہی ہے۔

یہ بحث پاکستان میں کم عمر دلہن کی تلاش کی معاشرتی وجوہات کے گرد گھومتی ہے جس کی ایک وجہ عامر لیاقت کی تیسری بیوی دانیہ شاہ کی عمر ہے۔ واضح رہے کہ عامر لیاقت نے خود شادی کے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی اہلیہ 18 سال کی ہیں یعنی ان دونوں میں تقریباً 31 سال کا فرق ہے۔

پاکستان یا دنیا کے دیگر ممالک میں میاں بیوی کی عمر میں زیادہ فرق کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ قانون بھی 18 سال کی عمر میں شادی کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں کم عمر کی دلہن کو ترجیح دی جاتی ہے اور کیا یہ ایک عام رواج ہے؟ اور اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں؟

عامر لیاقت

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@AAMIRLIAQUAT

بی بی سی نے ان سولات کا جواب تلاش کرنے کے لیے چند لوگوں سے بات کی ہے جن میں بہو کی تلاش کرتی ایک ماں اور رشتہ کروانے والی ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ لیکن اس سوال کے جواب سے پہلے سوشل میڈیا پر ہونے والے اس تبصرے پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور جانتے ہیں کہ دلہن کی عمر سے متعلق کیا رائے پائی جاتی ہے۔

’ضروری نہیں کہ قانونی طور پر درست چیز ٹھیک ہو‘

عامر لیاقت کی شادی کے بعد ایک سوال یہ اٹھا کہ انھوں نے اتنی کم عمر لڑکی سے شادی کیوں کی اور بحث کا مرکزی نقطہ یہ بھی ہے کہ کیا ایک پدرانہ معاشرے میں عمر کا یہ فرق کئی اور عوامل کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر صارف سوہنی انیکا نے لکھا کہ ضرروی نہیں کہ جس بات کی قانون اجازت دیتا ہو، وہ درست بھی ہو۔ انھوں نے لکھا کہ ’50 سال کے مرد کو 18 سال کی لڑکی سے شادی کی اجازت تو ہے، لیکن کیا عمر کے حساب سے وہ ایک بچی نہیں؟ جب وہ پیدا ہوئی ہوگی تو مرد کی عمر 32 سال ہوگی۔ اب آپ خود کو 32 سال کی عمر میں تصور کریں اور ایک بچی کے بارے میں سوچیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’جب آپ خود سے اتنی کم عمر لڑکی سے شادی کر رہے ہیں جو ابھی ٹین ایج میں ہے تو آپ طاقت کا غیر منصفانہ توازن قائم کر رہے ہیں کیوں کہ آپ کی شخصیت اور زندگی مکمل طور پر ساخت لے چکی ہے لیکن لڑکی کی نہیں۔ آپ اسے جیسے چاہیں ڈھال سکتے ہیں اور اکثر لوگ یہی چاہتے ہیں۔‘

اس معاملے پر یہ واحد تنقید نہیں۔ فلک نامی صارف نے بھی لکھا کہ ’بہت سے ادھیڑ عمر افراد اسی لیے چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی کرتے ہیں تاکہ اس کی شخصیت کو اپنی مرضی سے ڈھال سکیں اور وہ توجیہ پیش کرتے ہیں کہ وہ نابالغ تو نہیں۔ کیا وہ یہ نہیں سوچتے کہ جب وہ 25 سال کے تھے تو وہ 10 سال کی ہو گی؟‘

ماہین غنی نے لکھا کہ ’اصل سانحہ یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر مرد عامر لیاقت جیسے ہی ہیں۔ اپنی بیوی بچوں کو چھوڑ دو اور معاشرے میں نام بنانے کے لیے بچی جیسی دلہن ڈھونڈ لو۔‘

اس تنقید کے ردعمل میں بہت سے صارفین نے لکھا کہ ایسا نہیں۔ پاکستان کے سارے مرد عامر لیاقت ہیں نہ ہی سب مرد اتنی کم عمر لڑکی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔

’کم عمر کی بہو چار لوگوں کو دکھاوں گی تو ہماری ہی واہ واہ ہو گی‘

بی بی سی نے جن افراد سے اس معاملے پر بات کی اس کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ کم عمر کی دلہن کی تلاش کی کئی وجوہات ہوتی ہیں اور یہ تلاش کرنے والے صرف مرد خود ہی نہیں، بلکہ ان کے خاندان بھی ہوتے ہیں جن کے ذہن میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

امریکہ میں مقیم کراچی سے تعلق رکھنے والی ثمرین خان کے تین بچے ہیں۔ بی بی سی کی نامہ نگار آسیہ انصر سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کم عمر دلہن کی تلاش کی بڑی وجہ خوبصورتی ہوتی ہے۔

’جب ہم لڑکی دیکھنے جا رہے ہوتے ہیں تو ہم بیوٹی دیکھتے ہیں۔ لیکن جب ہم لڑکی کے لیے رشتہ دیکھیں گے تو ہم لڑکے کی شکل نہیں دیکھتے بلکہ اس کا پیسہ یا اس کی تعلیم جانچتے ہیں۔‘

کم عمر کی دلہن کی تلاش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ثمرین خان کہتی ہیں ’کہ میں اپنے بیٹے کے لیے چھوٹی عمر کی بہو لاؤں گی تاکہ وہ زیادہ دیر تک حسین و جمیل رہے۔ پہنے اوڑھے تو اچھا لگے۔ میرے خیال میں 80 فیصد لوگ تو یہی چاہتے ہیں کہ بہو خوبصورت ہو۔

’اور کام کاج سے زیادہ سوچ ہوتی ہے کہ بہو جہاں بھی جائے گی ہمارے خاندان کی نمائندگی کرے گی۔ جب ہم چار لوگوں میں بیٹھ کر دکھائیں گے تو لوگ ہماری ہی واہ واہ کریں گے۔ کوئی واہ واہ نہیں بھی کرے گا تو کہے گا کہ چاند کا ٹکڑا لے کر آ گئے اور وہ کم عمری میں ہی ہو سکتا ہے جیسے نیا چاند پورے چاند سے زیادہ پرکشش ہوتا ہے۔‘

لیکن کیا خوبصورتی ہی واحد معیار ہے یا دیگر عوامل بھی دیکھے جاتے ہیں؟

ثمرین خان کہتی ہیں کہ باقی دیگر عوامل میں ایک چیز یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر کم عمر کی لڑکی ہوگی تو بچے ہونے کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور زیادہ بچے بھی ہو سکتے ہیں۔

’پھر چھوٹی عمر میں وقت ہوتا ہے کہ زندگی کا مزہ لے سکیں بعد میں بچے پیدا کر لیں گے۔ یہ مارجن ہوتا ہے۔ لیکن یہ چیز پہلے نہیں سوچتے، سب سے پہلے تو خوبصورتی ہی دیکھی جا رہی ہوتی ہے۔‘

’کم عمر لڑکیاں قابو میں آ جاتی ہیں‘

کراچی کی رہائشی عائشہ (فرضی نام) نے اپنی شادی کے تجربے کی بنیاد پر اس بات سے اتفاق کیا کہ کم عمر کی دلہن کی تلاش کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ عام خیال یہ ہے کہ کہ بچے زیادہ جلدی پیدا ہو جاتے ہیں اور انسان جوانی میں ہی بچوں کی پرورش اچھی صحت کے ساتھ بہتر طریقے سے کر لیتا ہے۔

لیکن انھوں نے ساتھ ہی ساتھ ایک اور نکتے پر بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق ’ہر شخص چاہتا ہے کہ دنیا پر حکومت کرے۔ اور ساسیں تو خاص طور پر چاہتی ہیں کہ انھیں ایک ایسی بہو مل جائے جس پر وہ راج کر سکیں، بیٹھ کر اسے اپنے اشاروں پر چلا سکیں۔ اور کم عمر لڑکیاں قابو میں آ جاتی ہیں۔ بڑی عمر کی لڑکیوں کی اپنی سوچ بن چکی ہوتی ہے اور وہ اسی حساب سے کام کرتی ہیں تو ان کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘

یہ سوچ کتنی عام ہے؟ بی بی سی کی نامہ نگار آسیہ انصر سے بات کرتے ہوئے حنا (فرضی نام) کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ سوچ غلط ہے کہ چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’میری بیٹی کی شادی نصیب سے کم عمری میں ہوئی لیکن میری اپنی یہ ترجیح نہیں ہو گی کہ میری بہو بھی کم عمر ہو۔ اس لیے کہ بہت سے ایشوز ہوتے ہیں، بچیاں نا سمجھ ہوتی ہیں، معاملات ہینڈل نہیں کر سکتیں۔‘

’اب حالات بدل رہے ہیں‘

مسز افضل راولپنڈی میں گزشتہ کئی سال سے میرج بیورو چلا رہی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب حالات اور ترجیحات بدل رہے ہیں۔ جب ہمارے پاس والدین آتے ہیں تو اتنی زیادہ کم عمر بہو کی بات نہیں کی جاتی۔ وہ کہتی ہیں کہ اب ایسا بھی ہوتا ہے کہ رشتوں میں لڑکی کی عمر زیادہ ہو۔

ان کا خیال ہے کہ زیادہ عمر کے رشتوں میں ایک عنصر ذاتی پسند اور خواہشات کا بھی ہوتا ہے۔ ’اب کسی بچی کا خود ذہن بن جائے تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔‘

مسز افضل نے ایک مثال دیتے ہوئے قصہ سنایا کہ ’ایک خاندان کے کافی بچے تھے۔ ان کی بیٹی میرے پاس خود آئی اور اس نے کہا کہ میرے لیے ایسا رشتہ دیکھیں جو پیسے والا ہو، میری خواہشات پوری ہوں۔‘

مسز افضل کہتی ہیں کہ ’میں نے اسے بہت سمجھایا لیکن اس کے خاندان کے معاشی مسائل تھے اور اس کی فرمائشیں پوری کرنا ان کے بس میں نہیں تھا۔

’لڑکی 18 سال کی تھی۔ میں نے ہی پھر اس کا 40 سال سے زیادہ عمر کے شخص سے رشتہ کروایا۔ شادی کے بعد سعودیہ چلی گئی۔‘

لیکن مسز افضل کہتی ہیں کہ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ ان کے مطابق کم عمر لڑکی سے شادی کرنے والے مرد بھی پریشان رہتے ہیں۔

’بندہ خود بھی ٹینشن میں رہتا ہے، اس کو عجیب عجیب وسوسے اور خیالات تنگ کرتے ہیں۔ لیکن اب ایسا شاز و ناذر ہی ہوتا ہے۔‘

تحقیق کیا کہتی ہے؟

پریم چند ڈوماراجو کا تعلق سنگاپور کی ننیانگ ٹیکنولوجیکل یونیورسٹی کے سکول آف سوشل سائنسز سے ہے۔ میاں بیوی کی عمر میں کتنا فرق ہوتا ہے؟ اس سوال پر انھوں نے ایک تحقیقی مقالہ لکھا ہے جس میں جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے بارہ ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے۔

پریم چند کی تحقیق کے مطابق جنوبی ایشیا میں بیوی کی عمر شوہر سے کم پائی جاتی ہے اور سب سے زیادہ فرق بنگلہ دیش جب کہ دوسرے نمبر پر پاکستان ہے۔ اوسطاً بنگلہ دیش میں یہ فرق ساڑھے آٹھ سال جبکہ پاکستان میں پانچ سال سے زیادہ ہوتا ہے۔

ان کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں اس معاملے پر گزشتہ 35 سال میں کچھ زیادہ فرق نہیں آیا۔ ان کے مطابق اس فرق کی وجوہات معاشی، معاشرتی اور ثقافتی ہوتی ہیں جو ہر ملک میں مختلف ہیں۔

لیکن 2018 میں اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہا تھا کہ دنیا بھر میں 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں پچھلے عشرے کے مقابلے میں اب 20 فیصد کم ہو گئی ہیں۔



Source link