عامر میر اور عمران شفقت کی حراست اور رہائی: لاہور کے دو ڈیجیٹل صحافیوں کے خلاف سائبر کرائم قانون کے تحت مقدمے

7 اگست 2021، 15:26 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 53 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشن

عامر میر (دائیں جانب) ایک ویب ٹی وی کے سی ای او ہیں جبکہ عمران شفقت (بائیں) ماضی میں متعدد ٹی وی چینلز سے منسلک رہنے کے بعد اب یو ٹیوب پر اپنا چینل چلاتے ہیں۔

لاہور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے حراست میں لیے جانے والے صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کے خلاف سائبر کرائم کے قوانین کے تحت مقدمات درج کر کے انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

ان دونوں صحافیوں کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے سنیچر کی صبح حراست میں لیا تھا جس کے بعد صحافتی تنظیموں اور سوشل میڈیا پر ان کارروائیوں کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

عامر میر آج کل فوجی افسران پر تنقید کی وجہ سے پابندی کا سامنا کرنے والے پاکستان کے سینیئر صحافی حامد میر کے بھائی اور ایک ویب ٹی وی کے سی ای او ہیں جبکہ عمران شفقت بھی ماضی میں متعدد ٹی وی چینلز سے منسلک رہنے کے بعد اب یو ٹیوب پر اپنا چینل چلاتے ہیں۔

سائبر کرائم ونگ لاہور کی جانب سے سنیچر کی شام جاری پریس ریلیز کے مطابق دونوں صحافیوں کے خلاف اعلیٰ عدالتی ججوں، پاکستان کی فوج اور خواتین سے متعلقہ تضحیک آمیز رویہ پر مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

پریس ریلیز کے مطابق ان دونوں صحافیوں کے یوٹیوب پر چلنے والے چینلز پر ’ایسے پیغامات اور پروگرام نشر کیے ہیں جس سے قومی سلامتی کے اداروں اور اعلی عدلیہ کی بنیاد کو کمزور کر کے عوام کے ان اداروں پر اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی اور مزید برآں خواتین کے ساتھ بھی تضحیک آمیز رویہ رکھا گیا۔‘

پریس ریلیز می ںیہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں ملزمان کو ضمانت پر چھوڑ دیا گیا ہے تاہم تفتیش جاری ہے۔

اس سے قبل صحافی شاہد اسلم سے بات کرتے ہوئے ایف آئی اے حکام نے تصدیق کی تھی کہ دونوں صحافیوں کے فون لے کر ان سے مواد حاصل کیا جا رہا ہے۔

حراست کی وجہ بتاتے ہوئے ایف آئی اے حکام کی جانب سے کہا گیا کہ ‘عمران شفقت پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے چینل پر وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ کے بارے میں پروگرام کیا تھا’ جبکہ اس وقت عامر میر کی حراست کے بارے میں تاحال کوئی وضاحت نہیں دی گئی تھی۔

صحافی

،تصویر کا ذریعہCourtesy Shahid Aslam

،تصویر کا کیپشن

لاہور میں ایف آئی اے سائبر کرائم کا دفتر

عامر میر کی جانب سے دیے گئے تحریری بیان میں ان پر عائد تمام الزامات کو مسترد کیا گیا ہے۔ بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ان پر ملک کے مفاد کے خلاف کام کرنے کے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ لغو اور بےبنیاد ہیں اور وہ پاکستان اور اس کے عوام کے مفاد کے تحفظ کے لیے کوشش کرتے رہیں گے۔

حراست کا پس منظر

ایف آئی اے کی جانب سے تصدیق سے قبل صحافی حامد میر نے اپنی ٹویٹ میں ذکر کیا کہ ان کے بھائی عامر میر کو ‘اغوا’ کر لیا گیا ہے اور ان کا فون اور لیپ ٹاپ چھین لیا گیا ہے

اس سے قبل دوپہر ساڑھے بارہ بجے لاہور کے مغل پورہ علاقے سے ایک صحافی اور ولاگر عمران شفقت کو جبراً ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا تھا۔

عمران شفقت کی بہن انعم نور نے بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ کو واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ‘آج ساڑھے بارہ بجے لاہور کے مغل پورہ علاقے میں ہمارے گھر پر گھنٹی بجی۔ دروازہ میرے بھائی عمران شفقت نے کھولا جس کے بعد دس افراد ہمارے گھر میں داخل ہوگئے۔’

انعم نور نے بتایا کہ ان دس افراد میں سے آٹھ بغیر وردی کے تھے اور دو نے ‘سفید رنگ کا یونیفارم پہنا ہوا تھا۔’

‘ان لوگوں نے بتایا کہ ہم ایف آئی اے کی طرف سے آئے ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا۔ اور نہ ہی گرفتاری کا وارنٹ دکھایا۔ اور میرے بھائی کو گھسیٹتے ہوئے گھر سے باہر لے گئے۔’

انعم کے مطابق ان کے بھائی کو گلبرگ میں قائم سائبر رپورٹنگ سینٹر لے جایا گیا ہے۔ لیکن ان کے وہاں پہنچنے پر ان کو ایف آئی اے کے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ‘شاید کوئی غلط فہمی ہوگئی ہو، لیکن عمران شفقت کو یہاں نہیں لایا گیا ہے۔’

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

عمران شفقت کون ہیں؟

صحافی

،تصویر کا ذریعہCourtesy Facebook

عمران شفقت پیشے کے لحاظ سے ولاگر ہیں اور اس سے پہلے مختلف نیوز چینلز کے لیے کورٹ رپورٹنگ کر چکے ہیں۔

دو سال پہلے انھوں نے بول ٹی وی سے استعفی دینے کے بعد یوٹیوب پر ‘ٹیلنگز وِدھ عمران شفقت’ کے نام سے اپنا ولاگ شروع کیا۔

گیارہ گھنٹے پہلے شائع ہونے والے ان کے پروگرام کا موضوع جج شوکت صدیقی کا خط، عاصم سلیم باجوہ اور فردوس عاشق اعوان کے استعفے سے منسلک اطلاعات پر تھا۔

ان کے دوست اور صحافی امداد سومرو نے بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ‘عمران کو کافی دنوں سے دھمکی آمیز ٹیلیفون کالز آرہی تھیں۔ یہی کہا جاتا تھا کہ جو رپورٹنگ کررہے ہو وہ نہ کرو، جن موضوعات پر بات کررہے ہو، وہ نہ کرو۔’



Source link

Leave a Reply