عثمان کاکڑ کی موت: بلوچستان حکومت کا تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ

  • محمد کاظم
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
25 جون 2021

اپ ڈیٹ کی گئی 4 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہKabir Afghan

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کی موت کی وجہ جاننے کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلوچستان حکومت نے جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو خط لکھا ہے جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس ظہیر الدین کاکڑ کو کمیشن میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 17 جون کو یہ بات سامنے آئی تھی کہ عثمان کاکڑ کے سر پر گہری چوٹ آئی ہے۔ اُن کا ابتدائی علاج کوئٹہ میں ہوا اور زخم گہرا ہونے کے باعث ان کے سر کے آپریشن میں ساڑھے چار گھنٹے لگے تھے۔ انھیں کوئٹہ سے کراچی کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ 21 جون کو وفات پا گئے تھے۔

بلوچستان کی بولان میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ممتاز نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کے مطابق عثمان کاکڑ کے ابتدائی سی ٹی سکین کے مطابق سر پر چوٹ لگنے سے پہلے اُن میں بلڈ پریشر، برین ہیمرج یا اس نوعیت کی کسی اور بیماری کے آثار نہیں پائے گئے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) نے عثمان خان کاکڑ کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس اس کے شواہد موجود ہیں۔

خط

،تصویر کا ذریعہGovt of Balochistan

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کا دعویٰ ہے کہ عثمان کاکڑ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ پاکستان میں سویلین بالادستی کے ایک بڑے وکیل تھے اور وہ سیاسی معاملات میں مداخلت پر خفیہ اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کو برملا تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔

وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ ’ملک دشمن عناصر ان کی موت کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔`

دوسری جانب بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت عثمان کاکڑ کے خاندان کے ساتھ تحقیقات کے حوالے سے ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے۔

17 جون کو گھر میں بے ہوش ہونے کے بعد کیا ہوا؟

عثمان کاکڑ کا خاندان کوئٹہ کے علاقے شہباز ٹاﺅن میں رہائش پذیر ہے۔ گھر میں اس مبینہ چوٹ کے نتیجے میں بے ہوش ہونے کے بعد اُنھیں گھر کے قریبی واقع ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس حوالے سے کوئی وضاحت موجود نہیں ہے کہ اُنھیں یہ چوٹ کیسے لگی۔

اُن کی پارٹی کا مؤقف ہے کہ اُنھیں ’سویلین بالادستی کی حمایت کرنے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

پشتونخوا میپ کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری یوسف خان کاکڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت عثمان کاکڑ گھر میں تھے تو ان کے گھر میں ان کی ایک 11 سالہ بچی اور ایک خاتون کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔

انھوں نے بتایا کہ عثمان کاکڑ گھر کے نچلے حصے میں تھے اور بچی بھی اس حصے میں تھی جبکہ خاتون اوپر والی منزل پر تھی۔ یوسف خان کاکڑ نے بتایا کہ عثمان کاکڑ اپنے گھر کے ایک کمرے میں آرام کرنے گئے تو ان کی بچی ان کے پاس موجود نہیں تھی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران باہر سے گھر کے اندر داخل ہونے والے لوگوں نے ان پر حملہ کیا۔

عثمان کاکڑ

،تصویر کا ذریعہKabir Afghan

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے ممتاز نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی نے بتایا کہ ان کو نجی ہسپتال سے فون آیا کہ عثمان کاکڑ بے ہوش ہیں۔

ان کے بقول ’مجھے بتایا گیا کہ سی ٹی سکین کروایا گیا ہے اور ان کے سر پر شدید چوٹ ہے۔ ان کے سر میں خون جم گیا ہے اس لیے آپ ان کے سر کے آپریشن کا فوری انتظام کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ جب عثمان کاکڑ کو دوسرے نجی ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں لایا گیا تو رات کے آٹھ بج رہے تھے۔

’جب میں نے انھیں دیکھا تو ان کے کپڑوں پر قے کے نشانات تھے۔ جب سر پر چوٹ لگے تو ایسی حالت میں قے آتی ہے اور پھر انسان اپنا ہوش کھو دیتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد میں نے ان کی دماغی حالت دیکھی جس کا ایک پیمانہ ہوتا جسے گلاسگو کوما سکیل کہتے ہیں، ’یہ تین سے 15 تک ہوتا ہے۔ تین کا مطلب ہے موت جبکہ 15 ہم جیسے نارمل انسانوں کا ہوتا ہے۔ عثمان کاکڑ کا چار تھا یعنی موت سے صرف ایک گریڈ کم۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ان کی پتلیوں میں کوئی حرکت نہیں تھی تاہم وہ سانس لے رہے تھے۔ سی ٹی سکین میں ان کی دماغ کی سوجن زیادہ نظر آئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایسی حالت میں فوری طور پر آپریشن کرنا ضروری ہوتا ہے اس لیے سینیئر ڈاکٹروں کی ٹیم نے جلد سے جلد آپریشن کرنے فیصلہ کیا۔

نیوروسرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کا کہنا تھا ’آپریشن اور ادویات دینے سے پہلے ان کے دائیں جانب جھٹکے لگے جو کہ بہت زیادہ خطرناک بات تھی کیونکہ یہ دماغ کی سوجن کو بڑھا سکتا تھا تاہم ہمارے سینیئر ڈاکٹروں نے بروقت ان کو دوائیاں دیں جس سے ان کی حالت سنبھل گئی۔‘

انھوں نے بتایا کہ جب انھوں نے عثمان کاکڑ کے سر کے بال صاف کیے تو دیکھا کہ ان کے سر کے بائیں طرف سوجن تھی اور ان کو کند چوٹ لگی تھی۔

’یہ کسی وجہ سے بھی لگ سکتی ہے۔ ایک مفروضہ تھا کہ ان کو پہلے ہیمرج ہو گیا ہو گا جس کے بعد وہ گر گئے لیکن سی ٹی سکین میں ہیمرج نہیں تھا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ جو ضروری سرجری تھی وہ انھوں نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے دماغ کو زیادہ نقصان پہنچا تھا اور سوجن زیادہ ہونے کہ وجہ سے وہ باہر نکل رہا تھا جس پر ہم نے اس کو اضافی پردہ لگانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ محفوظ رہے اور اس کو خون کی فراہمی برقرار رہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ سرجری کے دوران ان کے ریسپانسز بہتر ہوئے اور آپریشن رات ایک بج کر 33 منٹ پر مکمل ہوا۔

’اس کے بعد ان کے رشتے داروں اور سیاسی قیادت نے ماہر ڈاکٹروں کا انتظام کیا تھا جنھوں نے ان کو ایک اور پرائیویٹ ہسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا۔‘

نیورو سرجن ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’رات چار بجے تک میں بھی وہاں رہا۔ صبح سات بجے میں وہاں پہنچا تو ان کے فزیکل ریسپانسز قدرے بہتر ہو گئے تھے جس پر ہمیں یہ امید ہوئی کہ اگر یہی صورتحال رہی تو اگلے چند دن میں دماغ کی سوجن کم ہو جائے گی۔ تاہم اگلے 24 گھنٹے میں عثمان کاکڑ کی حالت دوبارہ خراب ہو گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے سیاسی قیادت اور دیگر اہم شخصیات سے رابطے تھے جنھیں انھوں نے رائے دیتے ہوئے بتایا کہ عثمان کاکڑ کے بچنے کے امکانات کم ہیں کیونکہ ان کے سر کا جو ابتدائی زخم تھا اس میں موت کے 80 فیصد امکان تھا لیکن 24 گھنٹے بعد جب ان کی حالت خراب ہو گئی تو بچنے کے امکانات مزید معدوم ہو گئے۔

عثمان کاکڑ

،تصویر کا ذریعہKabir Afghan

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ان کی پہلے جو ہسٹری دی گئی وہ مصدقہ نہیں تھی، اور (ہسپتال کے اُن) پروفیشنلز کے ذریعے دی گئی جو کہ ان کے خاندان کے رکن نہیں تھے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اب ان کے خاندان کی طرف سے کچھ اور مؤقف سامنے آیا ہے۔

ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کا کہنا تھا کہ اکثر جب فالج کا حملہ ہوتا ہے تو مریض کو پھر سیکنڈری ہیڈ انجری ہوتی ہے لیکن عثمان کاکڑ کے کیس میں فالج، خون پتلا ہونے یا بلڈ پریشر کے شواہد نہیں تھے۔

کوئٹہ کے تین ہسپتالوں کے بعد کراچی منتقلی

ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی نے کہا کہ چونکہ عثمان کاکڑ کے خاندان کی خواہش تھی کہ ان کو کراچی منتقل کیا جائے جس پر مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کو آغا خان ہسپتال منتقل کیا جائے۔

آغا خان ہسپتال میں ان کی موت واقع ہوئی جہاں سے ان کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی منتقل کیا گیا۔ تاحال پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ نہیں آئی۔

اگرچہ جناح پوسٹ گریجویٹ سینٹر میں پوسٹ مارٹم کے بعد چار صفحات پر مشتمل جو ابتدائی رپورٹ دی گئی اس میں موت کی وجوہات کے بارے میں رائے نہیں دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متوفی کے لواحقین کی خواہش کے مطابق ان کو اپنی مرضی کے لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے کے لیے مطلوبہ مواد دے دیا گیا ہے۔

تاہم وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں موجود بلوچستان کے پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سینٹر کراچی کے اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عثمان کاکڑ کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں ہے۔

’قتل‘ کی تحقیقات کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

عثمان کاکڑ کی تدفین کے موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور عثمان کاکڑ کے بیٹے خوشحال خان کاکڑ کے علاوہ پارٹی کے دیگر رہنماﺅں نے کہا کہ ’عثمان کاکڑ کی موت طبعی نہیں ہے بلکہ انھیں قتل کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’قتل کے ذمہ دار ملک کے وہ دو خفیہ ادارے ہیں جن کا نام عثمان کاکڑ نے اپنی زندگی میں لیا تھا۔‘

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ‘اگر کوئی انصاف کر سکتا ہے تو ہم ان کو بتا سکتے ہیں کہ عثمان خان کاکڑ کو کس طرح دھمکیاں ملیں اور کس طرح لوگ ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان پر حملہ کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ عثمان کاکڑ نے اپنی زندگی میں یہ کہا تھا کہ اگر انھیں یا ان کے خاندان کے کسی فرد کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری دو خفیہ اداروں پر عائد ہو گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پشتونخوا میپ کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری اور عثمان کاکڑ کے قریبی رشتہ دار یوسف خان کاکڑ نے سینیٹ میں ان کے خطاب کے حوالے سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عثمان کاکڑ نے اس ویڈیو میں یہ واضح طور پر کہا تھا کہ انھیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔

خیال رہے کہ اس ویڈیو میں عثمان کاکڑ نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں ایک ذاتی بات کرنا چاہتا ہوں جو میں نے چھ سال میں نہیں کی۔ ہم پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ ہم جمہوریت اور اپنے نظریات سے دستبردار ہو جائیں، قوموں کی بات کرنا چھوڑ دیں، پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنا چھوڑ دیں اور جو غیر جمہوری قوتیں ہیں ان پر تنقید کرنا بند کر دیں۔‘

عثمان کاکڑ نے کہا تھا ’مجھے یہ اشارے اور پیغامات مل رہے ہیں لیکن میں یہ نہیں کر سکتا ہوں۔ مجھے کچھ ہوا، میرے بچوں کو کچھ ہوا اور میرے خاندان کو کچھ ہوا تو کوئی پرواہ نہیں کیونکہ مجھے میرے نظریات، جمہوریت، میری قوم اور پارلیمنٹ کی بالادستی زیادہ عزیز ہیں۔‘

’لیکن میں یہ ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ مجھے یا میرے خاندان کو اگر کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار دو انٹیلجینس ادارے ہوں گے، میں یہ اس لیے ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں تاکہ یہ گم کھاتے میں نہ جائے۔‘

انھوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ حقائق کی روشنی میں عثمان کاکڑ کی موت کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات کی جائیں۔

عثمان کاکڑ

،تصویر کا ذریعہAFghan Kabir

دوسری جماعتوں کی پشتونخوامیپ کے مؤقف کی تائید و حمایت

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عثمان کاکڑ کے خاندان اور پارٹی کے لوگوں نے کچھ نہ کچھ دیکھا اور محسوس کیا ہو گا جس کے باعث وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کو قتل کیا گیا ہے۔

انھوں نے سینیٹ میں عثمان کاکڑ کی ان تقاریر کا حوالہ بھی دیا جس میں اُنھوں نے انٹیلیجنس اداروں پر الزام عائد کیا تھا۔ نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کہا کہ عثمان کاکڑ ایک صاف گو انسان تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی اور خاندان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس شواہد ہیں جس کی بنیاد پر وہ یہ بات کررہے ہیں کہ ان کو قتل کیا گیا ہے۔

’اگر ان کی پارٹی اور خاندان نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تو حکومت کو ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔‘

بلوچستان حکومت کا کیا کہا کہنا ہے؟

کوئٹہ میں سینیئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اس حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر کہا کہ عثمان کاکڑ کے بیٹے نے ایک دو بار یہ بات کہی ہے کہ ان کے والد کو قتل کیا گیا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ تحقیقات ہوں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان اس کے لیے تیار ہے۔ ’لواحقین محسوس کرتے ہیں کہ تحقیقات ہوں اور انکوائری بٹھائی جائے تو حکومت بلوچستان ہر وہ قدم اٹھانے کے لیے راضی ہے۔‘

’ہم نے ان کے لواحقین کو کہا ہے کہ ہمارا محکمہ داخلہ آپ سے رابطہ کرے گا اور اگر آپ بھی کریں گے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔‘

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم نے لواحقین کو یہ کہا ہے کہ وہ ’جس لحاظ سے مطمئن ہوں گے ہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں۔‘

اس سے قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ایک طرف ہم ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گئے لیکن دوسری جانب اس موقع پر ملک دشمن چاہتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کریں۔

پاکستانی فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’فوج عثمان کاکڑ کے ہر قسم کی علاج معالجے کے لیے ان کے خاندان کے ساتھ رابطے میں تھی۔ ہمارے وہ ادارے جن پر ہمارے دشمن الزام لگا رہے ہیں انھوں نے عثمان کاکڑ کے علاج معالجے کے تمام تر انتظامات کیے تھے۔‘



Source link

Leave a Reply