عراق میں کردستان کے شہر اربیل میں امریکی قونصل خانے پر متعدد میزائل حملے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا

7 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہReuters

عراقی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عراق میں کردستان کے دارالحکومت اربیل میں امریکی قونصل خانے پر متعدد راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔

دھماکوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ کی گئی ہیں۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے خبر رساں ادارے اسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اربیل میں امریکی قونصل خانے پر کم از کم چھ راکٹ فائر کیے گئے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ عراق میں امریکی تنصیبات پر حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پینٹاگون نے یہ بھی کہا کہ وہ ان حملوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ایک عراقی سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ میزائل ایران کی طرف سے داغے گئے تھے۔

ایک امریکی اہلکار نے بھی اے بی سی نیوز کو بتایا کہ میزائل ایران سے آئے تھے۔ دھماکوں پر ابتدائی ردعمل میں اربیل کے گورنر امید خوشناف نے کہا کہ کئی راکٹ قونصل خانے کے قریب گرے ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ نشانہ شہر کا ہوائی اڈہ تھا یا امریکی قونصل خانہ۔

ادھر عراقی وزیرِ اعظم مسرور برزانی نے اربیل میں ہونے دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان بزدلانہ حملوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

اربیل ہوائی اڈے پر امریکی فوجی اڈہ بھی ہے۔ کردستان کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ ان حملوں میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@masrour

چند روز قبل شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب اسلامی کے دو ارکان مارے گئے تھے اور ایرانی حکومت نے کہا تھا کہ ’اس کا بدلہ لیا جائے گا۔‘

اسلامی جمہوریہ ایران کی خبر رساں ایجنسی، ارنا نے بھی عراق میں شیعہ ملیشیا کے قریبی میڈیا آؤٹ لیٹ سبرین نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ درجنوں دھماکوں نے اربیل شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اربیل ہوائی اڈے کے قریب 14 راکٹ امریکی اڈوں پر گرے ہیں۔

عراقی شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’اربیل اس طرح آگ کی زد میں ہے جیسے کرد عراقی نہیں ہیں۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل سنہ 2020 میں امریکہ کی جانب سے فضائی حملے میں ایران کے سرکردہ عسکری کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے جنوری 2020 میں دو امریکی فضائی اڈوں پر ایک درجن سے زائد بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔

ایران

،تصویر کا ذریعہCourtesy IRNA

،تصویر کا کیپشن

امریکہ کی جانب سے فضائی حملے میں ایران کے سرکردہ عسکری کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے جنوری 2020 میں دو امریکی فضائی اڈوں پر ایک درجن سے زائد بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا

میزائل کہاں سے آئے؟

سوشل میڈیا پر صارفین نے دھماکوں کی متعدد تصاویر پوسٹ کی ہیں۔

سوشل نیٹ ورکس پر شائع ہونے والی تصاویر میں سے ایک یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ میزائل ایک ایسی جگہ سے فائر کیے گئے جو کچھ ماہرین کے مطابق جغرافیائی محل وقوع اور تصاویر میں موجود تفصیلات کی بنیاد پر شمال مغربی ایران میں تبریز کے قریبی جگہ ہے۔

بی بی سی اس قیاس کی تردید یا تصدیق نہیں کر سکتا۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک اور تصویر اور ایرانی حکومت سے وابستہ خبروں کے ذرائع نے بتایا کہ میزائلوں کو عراقی کردستان سے ملحقہ ایرانی کردستان کے علاقے کے اوپر سے گزرتے دیکھا گیا ہے۔

ایران کے سرکاری ذرائع نے ابھی تک اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم ایرانی حکومت سے وابستہ کچھ میڈیا ذرائع نے اس بارے میں خبر دی ہے۔

فارس نیوز ایجنسی جو پاسداران انقلاب اسلامی کی حامی سمجھی جاتی ہے، نے صابرین ٹیلیگرام چینل سے لمحہ بہ لمحہ ان میزائل حملوں کے بارے میں معلومات اور قیاس آرائیاں شائع کی ہیں۔

صابری نیوز نے ایک سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اربیل میں اسرائیلی انٹیلی جنس سروس کے زیر ملکیت موساد کے دو جدید تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

تسنیم نیوز ایجنسی سمیت پاسدارانِ انقلاب کے قریبی ذرائع ابلاغ نے اسی دعوے کو دہرایا ہے۔

گذشتہ چند گھنٹوں میں اربیل پر حملے کے بعد عراقی وزیراعظم نے کہا کہ یہ عراقی عوام کی سلامتی پر حملہ ہے۔ عراقی حکومت کے ایک اہلکار کے مطابق عراقی سکیورٹی فورسز حملے کی تحقیقات کر رہی ہیں اور وہ کسی بھی خطرے کا مقابلہ کریں گی۔

اس حملے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے متعدد اراکین نے ریپبلکن پارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اربیل پر اتوار کی صبح ہونے والے حملے کے تناظر میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر کسی بھی قسم کی بات چیت کو معطل کرے۔



Source link