عمران خان: وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع، اپوزیشن رہنماؤں آصف علی زرداری اور شہباز شریف کی مشترکہ پریس کانفرنس

8 مار چ 2022، 16:03 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 4 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGovernment of Pakistan

پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں جمع کرواتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے ’دن گنے جا چکے ہیں‘ اور ’ان کے اپنے لوگ ان سے بیزار ہیں۔‘

اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے منگل کے روز وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروانے کے ساتھ ساتھ اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن بھی جمع کروائی ہے۔ تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے سربراہی اجلاس میں کیا گیا۔

اس سلسلے میں اپوزیش لیڈر شہباز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری اور جے یو آئی ف کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے جس میں انھوں نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں قومی اسمبلی کے 172 سے زیادہ اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

تحریک عدم اعتماد کے ردعمل میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے کہا ہے کہ ‘ہم اپوزیشن کو عدم اعتماد پیش کرنے پر ویلکم کرتے ہیں اور ان کا مقابلہ کریں گے۔’ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ‘سب بونے مل کر زور لگا لیں شکست ایک بار پھر سیاسی بونوں کا مستقبل ہے۔’

اپوزیشن رہنما

،تصویر کا ذریعہPMLN

شہباز شریف: ’یہ فیصلہ مشاورت سے قومی مفاد کے لیے کیا گیا‘

اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور مسلم لیگ ن سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا تھا اور آج عدم اعتماد کی تحریک اسمبلی میں جمع کرائی گئی ہے۔ ’تمام جماعتوں نے اپنے ممبران سے دستخط لیے۔ اسے خفیہ رکھا گیا تھا۔‘

اس کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’قریب چار برسوں کے دوران سلیکٹڈ حکومت نے جو کچھ اس ملک کے ساتھ معاشی اور سماجی حوالے سے کر دیا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔

’سب سے زیادہ پریشانی کی بات مہنگائی اور بے روزگاری ہیں اور پھر ملک کے اندر قرضے لے کر 22 کروڑ عوام کو گروی رکھ دیا گیا ہے۔ کھربوں کے قرضوں کے عوض ملک میں نئی اینٹ لگی نظر نہیں آتی۔ ان کو ایک ہی کام آتا ہے، ماضی کی تختیاں اکھاڑ کر نئی تختیاں لگائی جا رہی ہیں۔‘

شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ عمران خان حکومت نے چین اور سعودی عرب جیسے پاکستان کے دوستوں کو ناراض کیا ہے۔ ’پاکستان کے وہ دوست جنھوں نے جنگ و امن میں ملک کا ہمیشہ ساتھ دیا انھیں ناراض کیا گیا۔ چین کے حوالے سے سی پیک کو نشانہ بنایا گیا۔۔۔ سب نے مل کر سی پیک میں کیڑے نکالے اور کرپشن کے دعوے کیے۔ ہم نے بجلی، انفراسٹرکچر اور ریل کے منصوبے دیے۔۔۔ ایسے دوست کو ناراض کرنا کہاں کی خارجہ پالیسی تھی۔‘

’میلسی میں عمران خان کی تقریر نے یورپ کو ناراض کیا۔ یورپی یونین اور شمالی امریکہ کے ساتھ اربوں ڈالر کی تجارت ہے۔۔۔ یہ وہ وجوہات ہیں۔ یہ فیصلہ ہم نے مشاورت سے مل کر کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کہاں جا رہا ہے کہ یہ بیرونی سازش ہے۔ کیا یہ مہنگائی اور بے روزگاری بیرونی سازش ہے۔ اس سے زیادہ احمقانہ الزام کوئی ہو نہیں سکتا۔ سب پاکستانی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے یہ سوچ سمجھ کر کیا اور 22 کروڑ عوام کی خواہشات کی عکاسی ہے۔ آج یہ تحریک سپیکر کے دفتر میں جمع ہوچکی ہے۔ یہ صرف قومی مفاد کے لیے ہے۔ یہ کسی طور پر احتساب نہیں بدترین انتقام ہے۔ مزید تاخیر پر عوام معاف کریں گا نہ اللہ۔‘

مولانا فضل

،تصویر کا ذریعہPMLN

مولانا فضل الرحمان ‘عمران خان کے دن گنے جاچکے ہیں’

پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’2018 میں جو الیکشن ہوا ہم نے الیکشن کے بعد ایک ہفتے کے اندر ایک متحدہ موقف اس وقت تیار کر لیا تھا کہ الیکشن ناجائز تھا اور عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا اور ہم اسے منظور نہیں کرتے۔‘

’ہر جماعت کا اپنا ایک پلیٹ فارم ہے یہ جمہوریت کا حسن ہے۔۔۔ مگر بنیادی موقف یہی ہے کہ ہم اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آج اتفاق کے ساتھ اپوزیشن کی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کردی ہے۔ اب ان کے دن گنے جا چکے ہیں۔۔۔ جو تم نے کرنا تھا کر دیا مگر آپ نے دنیا اور عوام کو دھوکا دیا۔ نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دیا۔ آپ نے پچاس لاکھ گھر گرا دیے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’سیاست چلتی رہے گی لیکن ملکی مفاد پر اپوزیشن متحد ہے۔۔۔ ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ ’اداروں سے کوئی دشمنی نہیں۔ اختلاف کا موقع آیا تو احترام کے ساتھ اختلاف رائے کیا ہے۔ عدم اعتماد تحریک نالائقوں کے خلاف قبول ہوگی اور ہمیں کامیابی ملے گی۔‘

زرداری

،تصویر کا ذریعہPMLN

آصف علی زرداری: ‘یہ ہاتھ میرے آزمائے ہوئے ہیں’

اس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کی باری سابق صدر آصف علی زرداری کی تھی جنھوں نے سب سے پہلے تاخیر سے پہنچنے پر معذرت کی اور پھر کہا کہ ‘صحافت جمہوریت کا بہت بڑا ستون ہے۔ خوش خبری یہ ہے کہ صحافی حامد میر بحال ہوچکے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’کوئی کتنا بھی مضبوط ہو یہ حق نہیں پہنچتا کہ آپ کسی کی زبان بندی کریں۔۔

عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپوزیشن دوستوں نے سوچا کہ اب نہیں تو کبھی نہیں۔ یہ سلسلہ چلتا جا رہا ہے کہ اتنا خراب ہوجائے گا کہ کوئی بنا نہیں سکے گا۔‘

’ہم نے آپسی مشاورت کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ کوئی پارٹی اکیلے مسائل سے نہیں نکال سکتی۔ ہم سب مل کر پاکستان کو اور آنے والی نسلوں کی اس سے آزادی دلوائیں گے۔‘

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ’قومی اسمبلی کے اراکین کو ایوان میں لائیں گے اور 172 سے زیادہ ووٹ لیں گے۔۔۔ ان کے اپنے لوگ بیزار ہیں انھیں حلقوں میں جانا ہے وہ وہاں کیا جواب دیں گے۔‘

ایک صحافی کے سوال کے جواب میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ‘یہ ہاتھ میرے آزمائے ہوئے ہیں۔’

اجلاس ملاقوں اور دعوؤں کے بعد بالاخر تحریک جمع

اسمبلی رولز کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے تین سے لے کر سات دن کے دوران قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پابند ہیں۔

قومی اسمبلی کے ایڈیشنل سیکریٹری نے حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے جمع کروائی گئی ریکوزیشن وصول کی۔

حزب مخالف کی جماعتوں کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں اس تحریک عدم اعتماد میں دو سو سے زائد ارکان قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ تحریک اعتماد کی کامیابی کے لیے 171 ووٹ درکار ہوں گے۔

تحریک

،تصویر کا ذریعہPML-N

گذشتہ بہت عرصے سے اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کی بات کی جا رہی تھی تاہم اس حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب کے علاقے میلسی میں عوامی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے لیے تیار ہیں، انھوں نے اپوزیشن سے سوال کیا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی صورت میں وہ اُن (اپوزیشن) کے ساتھ جو کچھ کریں گے کیا وہ اس کے لیے تیار بھی ہیں؟

یاد رہے کہ گذشتہ روز پی ٹی آئی پنجاب میں بھی کچھ اختلافات سامنے آئے تھے جب تحریک انصاف کے پنجاب سے رہنما علیم خان نے کہا تھا کہ انھوں نے گذشتہ چند دنوں میں پی ٹی آئی کے 40 کے قریب ارکان صوبائی و قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کی ہیں اور علیم خان کے مطابق ان اراکین میں سے بیشتر پنجاب حکومت کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں۔

تحریک عدم اعتماد کیا ہے؟

آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش کی جا سکتی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے لیے قومی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم 20 فیصد اراکین کو ایک تحریری نوٹس اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروانا ہوتا ہے۔

اس کے بعد تین دن سے پہلے یا سات دن بعد اس تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکتی۔ قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور ہو جانے پر وزیر اعظم اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔

اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے اس کی حمایت میں 172 ووٹ درکار ہیں۔

پارٹی پوزیشن کیا ہے؟

اپوزیشن جماعتیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق حکومتی جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں خود پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے سات، بی اے پی کے پانچ، مسلم لیگ ق کے بھی پانچ اراکین، جی ڈی اے کے تین اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے پندرہ، بی این پی کے چار جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ دو آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔

اگر پارٹی پوزیشن دیکھی جائے تو حزب مخالف کو دس مزید اراکین کی حمایت درکار ہے۔ جماعت اسلامی، جن کے پاس قومی اسمبلی کی ایک نشست ہے، نے فی الحال کسی کا ساتھ دینے کا اعلان نہیں کیا۔ اب حزب اختلاف کی جانب سے حکومتی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کے علاوہ جہانگیر ترین گروپ سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں۔ جہانگیر ترین گروپ کا دعویٰ ہے کہ ان کے ساتھ اس وقت سات ممبران قومی اسمبلی ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتیں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک کی کامیابی کے لیے ووٹ پورے کرنے کی غرض سے حکومتی اتحادیوں سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔

یہ دعوے بھی کیے جا رہے ہیں کہ خود حکومتی جماعت کے بعض اراکین سے بھی رابطہ مہم جاری ہے۔

حکومتی اراکین ہوں یا حزب اختلاف کے ممبران، جس سے بھی بات کی جائے انھیں مکمل اعتماد ہے کہ تحریک کا فیصلہ انھی کے حق میں ہو گا۔



Source link