عمران خان کے حقانی نیٹ ورک کو قبیلہ قرار دینے پر سوشل میڈیا پر بحث، ’امریکہ پر لاعلم ہونے کا الزام اور خود حقانیوں کو پشتون قبیلہ کہہ دیا‘

3 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہCNN/Becky Anderson

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے طالبان کے حقانی نیٹ ورک کے ارکان کو ’افغانستان کا ایک پشتون قبیلہ‘ قرار دیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی ہے۔

بدھ کی شام سی این این کی بیکی اینڈرسن سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے یہ بیان دیا۔

بیکی اینڈرسن نے اپنے سوال میں امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کے حوالے سے پوچھا کہ بلنکن کے مطابق پاکستان طالبان بشمول حقانیوں کو پناہ دینے میں شامل رہا ہے، گذشتہ 20 سالوں میں حقانی نیٹ ورک افغانستان کے سب سے ہلاکت خیز حملوں میں ملوث رہا ہے جس کے سبب سینکڑوں مغربی فوجی اور ہزاروں افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

سی این این کی صحافی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سنہ 2011 میں جنرل مائیک ملن نے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک پاکستانی انٹیلیجنس کا ایک اہم بازو ہے اور اب اس گروپ کے چار افراد افغانستان کی کابینہ میں شامل ہیں۔

بیکی اینڈرسن نے کہا کہ کیا اس کے بعد پاکستان اور مغرب کے درمیان اعتماد کی کمی باعثِ حیرت ہے؟

اس سوال کے جواب میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ امریکیوں کو نہیں پتا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کیا ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ حقانی ایک پشتون قبیلہ ہے جو افغانستان میں رہتا ہے۔ ’چالیس سال قبل جب افغان جہاد ہو رہا تھا تو ہمارے پاس 50 لاکھ پناہ گزین تھے جس میں کچھ حقانی بھی تھے۔ اور حقانی وہ مجاہدین تھے جو سوویت یونین سے لڑ رہے تھے، وہ پاکستان میں پناہ گزین کیمپوں میں پیدا ہوئے تھے۔

’وہ (امریکی) ہم سے یہ کہہ رہے تھے کہ پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والے 30 لاکھ افراد میں چیک کریں کہ کون طالبان ہے اور کون نہیں۔‘

حقانی حقیقت میں کون ہیں؟

اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ کیا حقانی نیٹ ورک کا نام کسی قبیلے کی مناسبت سے ہے؟

نامہ نگار بی بی سی ورلڈ سروس خدائے نور ناصر کے مطابق حقانی نیٹ ورک کا نام اس کے سربراہ جلال الدین حقانی کی مناسبت سے ہے۔

اُن کے مطابق جلال الدین حقانی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں قائم مدرسے دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہونے کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ حقانی لگاتے تھے، حالانکہ اُن کا تعلق افغانستان کے صوبے پکتیا کے علاقے خوست میں زدران قبیلے سے ہے۔

واضح رہے کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کو طالبان سے روابط کے باعث شہرت حاصل ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا اپنے نام کے ساتھ حقانی لگاتے ہیں۔

حقانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

محقق عبدالسید کے مطابق جب مولوی عبدالحق نے، جو کہ مولانا سمیع الحق کے والد تھے انڈیا کی تقسیم کے بعد ہندوستان سے آ کر نوشہرہ کے قریب اپنے گاؤں اکوڑہ خٹک میں جامعہ حقانیہ نامی مدرسہ کے بنیاد رکھی، تو روایات کے مطابق یہاں سے فارغ ہونے والے طلبا حقانی کہلانے لگے۔

انھوں نے بتایا یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ دیوبندی مکتبِ فکر کا ایک دوسرا بڑا مدرسہ پاکستان میں جامعہ بنوریہ ہے، جس سے نکلنے والے شاگرد اہنے نام کے ساتھ بنوری لگاتے ہیں۔

چنانچہ جلال الدین حقانی کا تعلق بذاتِ خود حقانی نام کے کسی قبیلے سے نہیں تھا بلکہ یہ اُن کی مادرِ علمی کا عکاس ہے۔

مگر جہاں کسی کے نام کے ساتھ حقانی ہونا اُن کے قبیلے کے نام کا عکاس نہیں ہے وہیں حقانی کا لاحقہ ہونے کا مطلب لازماً یہ بھی نہیں کہ وہ دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہی ہوں، بلکہ حقانی نیٹ ورک میں شامل افراد لوگ جلال الدین حقانی کی مناسبت سے بھی یہ نام استعمال کرتے ہیں۔

حقانی نیٹ ورک کیا ہے؟

حقانی نیٹ ورک طالبان کے اندر ایک ذیلی گروہ ہے جسے نیم خود مختار حیثیت کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔ اپنی عسکریت پسندی کی وجہ سے یہ طالبان کے دوسرے دھڑوں سے زیادہ سخت سمجھا جاتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر و رسوخ شمال مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار اور جنوب میں زابل، قندھار اور ہلمند میں ہے، تاہم یہ افغانستان کے دوسرے حصوں میں بھی موجود ہے۔

سنہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد طالبان کی حکومت کے خاتمے سے قبل حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی اسلام آباد کے سرکاری دورے پر آنے والے رہنماؤں میں سے ایک تھے۔

اس کے بعد حقانی روپوش ہو گئے اور کئی مہینوں کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں سامنے آئے جہاں انہوں نے مغربی طاقتوں کے خلاف شدت پسندوں پر مشتمل ایک مزاحمتی گروپ تشکیل دیا۔

حقانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی فوجی عہدیداران اکثر و بیشتر کہتے رہے ہیں کہ اس گروپ نے جتنا نقصان مغربی افواج کو پہنچایا کسی اور گروپ نے نہیں پہنچایا۔

پاکستان پر بھی اس گروپ کی امداد کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے تاہم پاکستان نے اس کی تردید کی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کا ردِ عمل

خبر رساں ادارے روئٹرز کے نامہ نگار برائے قومی سلامتی جوناتھن لینڈے نے لکھا کہ پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے امریکہ پر افغانستان کے معاملے میں ‘لاعلمی’ کا الزام لگایا مگر پھر حقانی نیٹ ورک کو ‘پشتون قبیلہ’ قرار دے دیا۔

حقانی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@JonathanLAnday

صحافی حامد میر نے بھی اس حوالے سے رائے دیتے ہوئے لکھا کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے طلبہ حقانی کہلواتے ہیں جن میں خود جلال الدین حقانی بھی شامل ہیں۔

حقانی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@HamidMirPAK

صحافی اظہار اللہ نے لکھا کہ اینکر کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ حقانی کوئی قبیلہ نہیں ہے۔

حقانی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Izhar2u

ایک صارف نے عمران خان کے ایک سابقہ بیان کے الفاظ میں کہا کہ ‘میں حقانی قبیلے کو حقانیوں سے زیادہ جانتا ہوں۔’

حقانی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@DPachiot



Source link

Leave a Reply