عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد: کامیابیوں کے آخری مراحل میں ہیں، فضل الرحمان، دو دن بعد پوزیشن مزید واضح ہو جائے گی، شیخ رشید

17 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر سیاسی درجہ حرارت میں دن بدن اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور ہر روز کی طرح اپوزیشن اور حکومتی رہنما اپنی اپنی کامیابی اور بہتر پوزیشن کے دعوے کر رہے ہیں۔

اتوار کو وزیرِ داخلہ شیخ رشید اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کی۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد سے متعلق اپوزیشن جماعتیں ’کامیابیوں کے آخری مراحل میں ہیں‘ جبکہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ’15 مارچ کے بعد عمران خان کی پوزیشن مزید بہتر اور واضح ہو جائے گی۔‘

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ’عمران خان کہیں نہیں جا رہے ہیں اور وہ اپنے پانچ سال پورے کریں گے۔

اپوزیشن کے دعوؤں سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن کا کام ہی یہی ہے کہ جو وہ کر رہی ہے، جب ہم اپوزیشن میں تھے تو ہم بھی ایسی بڑھکیں مارتے تھے۔‘

شیخ رشید کے مطابق ابھی سپیکر صاحب نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس دن اجلاس بلانا ہے۔ ان کے مطابق سپیکر اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جو بھی کریں گے ان کا فیصلہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتا ہے۔

وزیر داخلہ نے اتحادی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’انسان کو امتحان کے وقت دوستوں کے ساتھ کھڑا ہوجانا چاہیے۔‘

شیخ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا کہ ’جو عمران خان کے ساتھ کھڑا ہو گا اللہ بھی اس کو عزت دے گا اور قوم بھی اس کو عزت دے گی۔‘

شیخ رشید نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں چٹان کی طرح ان کے ساتھ کھڑا ہوں، سائے کی طرح ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘

’عمران خان دس لاکھ نہ لاؤ ہمت ہے تو 172 پورے کر لو‘

مولانا فضل الرحمٰن کو جب ایک صحافی نے شیخ رشید کے اس عزم کے بارے میں بتایا تو انھوں نے کہا بالکل صیحح وہ رائی کے پہاڑ کی طرح ساتھ کھڑے ہیں۔

انھوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے ان کی جانب سے ڈی چوک پر جلسے کے انعقاد سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان دس لاکھ نہ لاؤ بلکہ ہمت ہے تو 172 پورے کر لو۔‘

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’عوام کو چھینا گیا مینڈیٹ واپس دلوانے کا وقت آ گیا ہے، یہ تاثر دور کیا جائے کہ ووٹ کہیں اور پڑتا ہے اور فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اسٹیبلشمنٹ کو پارٹی تبدیل کرنے کا نہیں بلکہ آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنے کی بات کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ان کے مطابق ’ہم نے پہلے ہی دن سے عمران خان پاکستانی سیاست میں غیرضروری عنصر قرار دیا تھا۔ ہم نے کہا تھا کہ یہ باہر سے تیار کر کے لایا گیا ہے۔‘

شیخ رشید، مونس الہیٰ

چوہدری شجاعت بھائی ہیں: شیخ رشید کی ق لیگ کو وضاحت

شیخ رشید نے مزید کہا کہ انھوں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا اور چوہدری شجاعت ان کے بھائی ہیں وہ ان کے خلاف کوئی بات نہیں کریں گے۔

خیال رہے کہ مونس الہی نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘شیخ صاحب! میں آپ کی عزت کرتا ہوں لیکن یہ بھول رہے ہیں کہ اسی جماعت کے لیڈر اوران کے بزرگوں سے جناب اپنی سٹوڈنٹ لائف میں پیسے لیا کرتے تھے۔’

جے یو آئی کی رضاکارانہ تنظیم انصارالاسلام سے متعلق شیخ رشید نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اسلام آباد میں کسی ملیشیا فورس کو آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ پارلیمنٹ لاجز اراکین اسمبلی کے لیے بنے ہیں اور ادھر کوئی بیت الاسلام یا انصارالاسلام آئی تو کچل کر رکھ دوں گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا ہے مگر ضرورت پڑی تو کریں گے۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ ’یہ بات درست ہے کہ ملک افراتفری کی طرف جا رہا ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ وہ ایف سی اور رینجرز کو سکیورٹی کو بلائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو آئین کے تحت فوج کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ’مجھے امید ہے اس کی ضرورت نہیں ہو گی اور مسئلہ خوش اسلوبی سے طے کر لیا جائے گا۔‘



Source link