فہیم دشتی: شمالی مزاحمتی فورس کے ترجمان کے ایبٹ آباد میں گزرے دنوں کی یادیں

  • محمد زبیر خان
  • صحافی

30 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہSocial Media

’طالبان ہوں یا کوئی بھی، پنجشیر پر قبضہ کرنے کے لیے آخری پنجشیری کو بھی ختم کرنا ہوگا۔‘

افغان مزاحمتی فورس کے گذشتہ دنوں ہلاک ہونے والے ترجمان فہیم دشتی کے یہ الفاظ، دن اور جگہ مجھے بہت اچھے سے یاد ہیں۔ یہ 1997 کے آخری دن تھے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں ان دنوں اتنی رونق نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی مارکیٹیں، بازار، ریستوران رات گئے تک کھلے ہوتے تھے۔ شام کے بعد ہمارا ٹھکانہ مانسہرہ روڈ پر تاجکوں یا فارسی بانوں کے قائم کردہ ایک انگلش لینگویج سینٹر ہوتا تھا۔

ایبٹ آباد میں اس لینگویج سینٹر کے مالکان اور استاد ایک ہی خاندان کے مرد و خواتین تھے۔

یہ مقامی لوگوں سے بہت کم میل ملاقات رکھتے تھے مگر مجھ سمیت میرے چند دوستوں کے ساتھ اُن کا تعلق بن گیا تھا۔

شام کے بعد روزانہ ہم ان کے سینٹر میں اپنا وقت گزارنے کے لیے جاتے تھے جہاں پر یہ لوگ ہمیں شاندار قہوہ پلاتے اور افغانستان سمیت پوری دنیا کے حالات پر بات ہوتی تھی۔

ایسی ہی ایک شام ہمارے ایک وکیل دوست نے کہا کہ لگتا ہے کہ اب پنجشیری زیادہ مزاحمت نہیں کر سکیں گے تو پاس ہی بیٹھے ایک ہمارے ہم عمر نوجوان نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ تمھیں پنجشیر کی تاریخ کا نہیں پتا، پنجشیر کسی کی بھی غلامی قبول نہیں کرے گا۔

اس نوجوان سے ہماری پہلی دفعہ ملاقات ہو رہی تھی۔ ہم نے اپنے میزبانوں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو انھوں نے بتایا کہ یہ صحافی، لکھاری اور شیرِ پنجشیر کہلانے والے احمد شاہ مسعود کے قریبی ساتھی ہیں۔

پنجشیر

،تصویر کا ذریعہAnas Malik

،تصویر کا کیپشن

وادی پنجشیر کا داخلی راستہ

فہیم دشتی اس دورے کے دوران چند دن ایبٹ آباد رکے۔ ایبٹ آباد میں ان کے خون کے رشتے کے چند رشتے داروں نے پناہ حاصل کی ہوئی تھی۔ یہ جب پنجشیر سے باہر نکلتے تو ایبٹ آباد میں اپنے رشتے داروں کے پاس ضرور وقت گزارتے تھے۔

افغانستان کے حالات پر فکرمند

اس وقت نہ تو ہم میدان صحافت میں تھے اور نہ ہی کسی اور چیز کی فکر تھی۔ فہیم دشتی اپنی مصروفیات کے بعد وقت گزاری کے لیے کسی ساتھی کی تلاش میں ہوا کرتے اور ہم بھی۔

ایک دو مرتبہ اُنھوں نے باتوں باتوں میں بتایا بھی کہ وہ احمد شاہ مسعود کی جانب سے پاکستانی حکام کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔ اُن کے مطابق پاکستانی حکام کے ساتھ مختلف امور پر بات چیت میں مصروفیت رہتی تھی۔

فہیم دشتی کے ساتھ 1997 سے لے کر 2000 تک ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں جس کے بعد اُن کے ساتھ آخری ملاقات 2005 میں ہوئی تھی۔ اُس کے بعد ان کا خاندان افغانستان کے حالات بہتر ہونے کے بعد کابل اور پنجشیر منتقل ہو گیا تھا۔

وہ پنجشیر کے علاوہ اپنا زیادہ وقت ایران اور فرانس میں بھی گزارتے تھے جہاں احمد شاہ مسعود کے پاکستان کی نسبت سے زیادہ مضبوط رابطے تھے۔

ان ہی ملاقاتوں کے دوران ایک مرتبہ ہم نے پوچھا کہ اگر ایران اور فرانس کے ساتھ اتنے قریبی روابط موجود ہیں تو پھر اپنے خاندانوں کو فرانس یا ایران کیوں منتقل نہیں کر دیتے تو فہیم دشتی نے کہا کہ ہمارے خاندان عام فارسی بانوں کی طرح پاکستان میں محنت مزدوری کر کے اپنا وقت گزار رہے ہیں جس پر ہم مطمئن ہیں، اور ہم نے کبھی بھی پاکستانی حکام سے ان کے لیے کوئی مراعات نہیں مانگی ہیں۔

فھیم دشتی سے ایک یادگار ملاقات سنہ 2000 کے اوائل میں ہوئی تھی۔

اس ملاقات کے دوران اُنھوں نے بہت کھل کر اپنے بارے میں باتیں کی تھیں۔ اس زمانے میں وہ کہتے تھے کہ میری خواہش ہے کہ افغانستان میں امن ہوجائے۔ تاجک، پختون ہر قوم اور علاقہ امن کے ساتھ مل کر افغانستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر انھوں نے کہا تھا کہ اگر افغانستان میں امن ہو جاتا ہے تو وہ بند کیا جانے والا روزنامہ کابل ویکلی دوبارہ شروع کریں گے۔

’ہو سکتا ہے کہ میں ایک بین الاقوامی صحافی بن جاؤں گا۔ پوری دنیا گھوموں، ڈاکو منٹریز اور فلمیں بناؤں۔‘

فہیم دشتی نے بتایا تھا کہ وہ مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ بھی رابطے میں رہتے ہیں۔

اکثر اوقات صحافیوں کو پنجشیر پر خود تصاویر اور ویڈیو بنا کر دے دیتے ہیں جو وہ اپنے نام سے چلا لیتے تھے۔

احمد شاہ مسعود
،تصویر کا کیپشن

احمد شاہ مسعود شمالی اتحاد کے سربراہ تھے اور نو ستمبر 2001 کو دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے

’شرائط پنجشیری لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں‘

فہیم دشتی جب 2000 کی ایک سرد شام کو الوداعی ملاقات کے بعد رخصت ہو رہے تھے تو انھوں نے کہا تھا کہ احمد شاہ مسعود مجھ پر ذمہ داریاں بڑھا رہے ہیں، دعا کرنا کہ امیدوں پر پورا اترتا رہوں۔ اس کے بعد ان کی خیرخیریت کی اطلاع ملتی رہتی تھی۔

اُس زمانے میں طالبان اور احمد شاہ مسعود کے درمیاں جنگ بندی کی باتیں چل رہی تھیں۔ فہیم دشتی نے بتایا تھا کہ جن شرائط پر جنگ بندی کی باتیں ہو رہی ہیں وہ پنجشیری لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتیں۔

وہ ان ملاقاتوں کے بعد واپس چلے گئے تھے مگر جاتے ہوئے کوئی زیادہ مطمئن نہیں تھے اور کہہ رہے تھے کہ حالات زیادہ اچھے نہیں لگ رہے۔

موت سے زندگی کی طرف پلٹنا

یہ ستمبر 2001 کا ایک دن تھا جب پاکستان میں یہ اطلاعات سامنے آنی شروع ہوئیں کہ احمد شاہ مسعود قاتلانہ حملے میں مارے گئے ہیں۔ اس اطلاع پر پاکستان میں ملا جلا رد عمل تھا۔ زیادہ تر کا خیال تھا کہ اب شاید طالبان مخالف فورس پنجشیر کا دفاع نہ کر سکے۔

اس وقت تک ہمیں یہ پتا نہیں تھا کہ اس حملے کے دوران فہیم دشتی بھی انتہائی زخمی ہو چکے تھے۔ اس کے دو دن بعد 9/11 کا واقعہ رونما ہوا تھا۔ سب کی دلچسپی اس واقعے کی طرف ہو گئی تھی۔ عالمی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے۔ اسی دوران ہمیں یہ اطلاع ملی کہ احمد شاہ مسعود پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں فہیم دشتی بھی شدید زخمی ہو چکے تھے۔

ان کے قریبی عزیزوں کی وساطت سے پتا چلا کہ فہیم دشتی کو علاج کے لیے پہلے ایران اور پھر فرانس پہنچایا گیا تھا۔ ان کا جسم بری طرح جھلس گیا تھا۔ ان کے عزیزوں کی وساطت ہی سے پتا چلا کہ وہ رو بہ صحت ہیں۔

اسی دوران افغانستان کے حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ کابل پر قبضہ کر کے نئی حکومت قائم کر دی تھی۔ اس حکومت میں طالبان مخالف مزاحمتی فورس اور پنجشیری لوگوں کو اہم کردار ملا تھا۔

فہیم دشتی تقریباً ایک سال تک زیر علاج رہنے کے بعد واپس کابل پہنچ گئے تھے۔

احمد مسعود

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود طالبان کے خلاف حالیہ مزاحمت میں نمایاں طور پر سامنے آئے

آخری ملاقات

سنہ 2005 میں افغانستان کے حالات بہتر ہو چکے تھے۔ افغانستان کے فارسی، تاجکوں اور ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں نے اپنے اپنے علاقوں میں واپسی کا سفر کرنا شروع کر دیا تھا۔ فھیم دشتی کے خاندان والے بھی واپسی کی تیاری کر رہے تھے۔ واپسی کے اس سفر میں فہیم دشتی ان کو خود لینے کے لیے ایبٹ آباد آئے تھے۔

اس موقع پر ان سے احمد شاہ مسعود پر ہونے والے حملے پر بات کرنا چاہی تو انھوں نے ٹال دیا اور کہا کہ بہت جلد مناسب موقع پر کتاب منظر عام پر آجائے گی جس میں اس حملے کے حوالے سے بہت سے حقائق موجود ہوں گے۔

جاتے جاتے انھوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ انھیں ایسے وسائل دستیاب ہوجائیں کہ کابل میں اپنا ٹیلی وژن چینل شروع کرسکیں۔ مگر نہ جانے کیا ہوا کہ انھیں 2011 میں بہترین سرکولیشن کے ساتھ چلتا ہوا اپنا اخبار بند کرنا پڑ گیا تھا۔

خاندان والوں کے لیے مکان مل سکے گا؟

وقت کے ساتھ ساتھ فہیم دشتی کے ساتھ رابطے کم سے کم ہوتے گئے مگر ان کے خاندان کے لوگوں کے ساتھ رابطے کسی نہ کسی طرح موجود رہے تھے۔ حالات نے افغانستان میں پھر پلٹا کھایا۔ امریکہ اور اتحادیوں کے انخلا کے بعد پنجشیر کے علاوہ پورا افغانستان طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال چکا تھا۔

طالبان نے پنجشیر کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ پچیس اگست کو فہیم دشتی کے خاندان کے ایک فرد جو کہ کبھی کبھار رابطے میں رہتے تھے کا پیغام ملا کہ فہیم دشتی بات کرنا چاہتے ہیں۔

بات ہوئی تو فہیم دشتی انتہائی متفکر تھے کہنے لگے کہ اگر میرے خاندان کے کچھ لوگ کسی طرح پاکستان یا ایبٹ آباد پہنچ جائیں تو کیا ان کے لیے مکان مل سکے گا۔

ان کی اس بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا کیونکہ 9/11 کے بعد حالات بدل چکے تھے۔ اب کسی کے لیے کرائے پر مکان حاصل کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ تاہم جھوٹی موٹی تسلی دی۔

پنجشیر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

چھ ستمبر 2021 کی اس تصویر میں طالبان جنگجوؤں کو پنجشیر کے گورنر ہاؤس کے باہر دیکھا جا سکتا ہے

فہیم دشتی کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ پنجشیر پر بڑی جنگ مسلط ہونے جا رہی ہے جس کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے اپنا کردار بتایا کہ خود کو رضاکارانہ طور پر مزاحمتی فورس کا ترجمان بننے کی پیش کش کی ہے۔

صحافت میں تجربے اور احمد شاہ مسعود سے قربت کی وجہ سے احمد مسعود نے خوش دلی کے ساتھ یہ کردار قبول کر لیا تھا۔

اس کے چند دنوں بعد فہیم دشتی کے ساتھ کئی مرتبہ رابطہ ہوا۔

وہ اب صحافی نہیں بلکہ مزاحمتی فورس کے ترجمان تھے مگر اس دوران بھی انھوں نے کسی غلط بیانی سے کام نہیں لیا۔

تین دن قبل جب طالبان پنجشیر کی حدود میں داخل ہوئے تو انھوں نے پوچھنے پر نہ صرف اس کا اقرار کیا بلکہ حالات کی سنگینی طرف اشارہ بھی دیا تھا۔

فہیم دشتی جب ہلاک ہوئے تو وہ اس وقت صحافی نہیں تھے مگر کابل کے علاوہ اس وقت پوری دنیا میں افغانستان سے تعلق رکھنے صحافی مختلف حیثیتوں میں کام کر رہے ہیں، ان سب کی بڑی تعداد صحافت میں فہیم دشتی کو اپنا استاد مانتی ہے۔



Source link

Leave a Reply